Al-Risala · September 2025

تمهید

Al-Risala, September 2025, pp. 4–6

By Maulana Wahiduddin Khan

وطن سے محبت ایک گہرا انسانی جذبہ ہے— ایسا جذبہ جو سماج ، ثقافت اور جغرافیے کی سرحدوں سے بالا تر ہے۔ یہ اس قدرتی رشتے کی عکاسی کرتا ہے جو انسان اور اس سرزمین کے درمیان قائم ہوتا ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے ، پرورش پاتا ہے ، اور جہاں اس کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ اپنائیت کا یہ تعلق صرف زمین سے نہیں ہوتا ہے ، بلکہ اس زمین کی یادوں ، زبان ، روایات اور اجتماعی تجربے سے جڑا ہوتا ہے۔ وطن سے محبت محض ایک جذباتی وابستگی نہیں ، بلکہ شہری شعور اور اخلاقی بیداری کا مظہر بھی ہے۔ صدیوں سے انسان نے اپنی شناخت ، طاقت اور تعلق کا سرچشمہ اپنی جائے پیدائش سے حاصل وطن سے محبت کا مطلب ہے اس کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنا ، اس کے امن و ترقی کی خواہش رکھنا ، اور اس کے مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنا۔ اس محبت میں تنوع کا احترام ، ماحول کا تحفظ اور عدل وہم آہنگی کے لیے جد و جہد شامل ہوتی ہے۔

وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہی نہیں ، بلکہ مختلف فلسفیانہ اور مذہبی روایتوں میں اس کی تائید بھی ملتی ہے۔ مسلم علما ، فقہا اور صوفیا نے اس کو بھی جائز ، فطری جذبے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ طور پر معروف فقیہ ملا علی القاری ( وفات 1606ء ) نے لکھا ہے : اِنَّ حُبَّ الْوَطَنِ لَا يُنَافِي الْإِيْمَانَ ( الأسرار المرفوعة ، صفحہ 181 ) ۔ یعنی ، وطن سے محبت ایمان کے خلاف نہیں۔ صحیح البخاری کے شارح ابن بطال ( وفات 449 ھ ) لکھتے ہیں : ”اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں وطن سے محبت اور اس کی چاہت رکھ دی ہے— اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا۔ اور آپ کا عمل اس معاملے میں بہترین نمونہ ہے۔ “ (شرح صحیح البخاری ، جلد 4 ، صفحہ 453)

یہ بات درست ہے کہ قرآن وحدیث سے براہ راست طور پر ایسا کوئی حکم نہیں ملتا ہے کہ وطن سے محبت کرنی چاہیے ، لیکن بالواسطہ طور پر متعدد حکم ثابت ہیں ، جو وطن سے محبت کی اہمیت کو ظاہر امام ذہبی نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کی فہرست دی ہے ، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ اپنے وطن سے محبت کرتے تھے : وَيُحِبُّ وَطَنَهُ ( سير اعلام النبلاء ، جلد 15 ، صفحہ 394 ) ۔

حدیث کی کتابوں میں ایک مسنون دُعا ان الفاظ میں آئی ہے: اَللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ ( صحیح بخاری، حدیث نمبر 1889؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1376)۔ ہمیں مدینہ سے اسی طرح محبت دے جیسے تُو نے ہمیں مکہ سے محبت دی ہے۔

اس حدیث میں گویا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی جائے پیدائش اور جائے عمل سے محبت کی دعا کرنی چاہیے۔ اسی طرح حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب آپ سفر سے واپس آتے، اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو مدینہ کی محبت کے تحت (مِنْ حُبِّهَا) اپنی سواری تیز فرما دیتے (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1886)۔

صرف وطن سے نہیں، بلکہ وطن سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے بھی محبت ہونی چاہیے۔ مثلاً احد کا پہاڑ مدینہ کے لیے قدرتی ڈھال کا کام کرتا تھا، آپ نے احد پہاڑ کے لیے فرمایا: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ( صحیح البخاري، حدیث نمبر 2889)۔ یعنی، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت

پیغمبرِ اسلام ﷺ کی یہ احادیث وطن سے جُڑے گہرے جذبات اور اخلاقی اقدار کو نمایاں کرتی شارحین حدیث نے بھی ان کی اہمیت پر زور دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ احادیث وطن سے محبت اور تعلق کو جائز قرار دینے کی دلیل ہیں (عمدة القاري للعيني، جلد 10، صفحہ 135؛ فتح الباري لابن حجر، جلد 3، صفحہ 621)۔ برصغیر کے معروف محدث اور فقیہ مولانا زکریا کاندھلوی (1982-1898) نے اس کو مزید واضح کیا ہے کہ ”اسی طرح کا حکم مدینہ کے سوا تمام شہروں، علاقوں اور وطنوں کے بارے میں بھی ہے جن کی طرف میلان ہو اور جو محبوب ہوں“: كَذَلِكَ الْحُكْمُ فِي غَيْرِ الْمَدِينَةِ مِنَ الدِّيَارِ المَرْغُوبَةِ فِيهَا، وَالأَوْطَانِ المَحَبَّبَةِ فِيهَا (اللامع الدراري، جلد 5، صفحہ 279)۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ سلسلہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بعد ختم ہوگیا، بلکہ بعد میں آنے والے متعدد علما، صوفیا اور شعرا کی تحریروں میں بھی اسی جذبے کی بازگشت ملتی مثلاً اسلامی تاریخ کے مشہور زاہد اور صوفی بزرگ ابراہیم بن ادہم (وفات 160 ہجری) سے

مَا قَاسَيْتُ فِيمَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ مُفَارَقَةِ الْأَوْطَانِ (حليۃ الاولیاء، جلد 7، یعنی، میں نے جن چیزوں کو چھوڑا، اُن میں سے کسی چیز کی تکلیف مجھ پر اتنی شدید نہ تھی جتنی وطن کی جدائی۔

علامہ راغب اصفہانی پانچویں صدی ہجری (11 ویں صدی عیسوی) کے مشہور مسلم عالم، مفسر اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب محاضرات الأدباء (جلد دوم، صفحہ 652) میں وطن کی محبت کے موضوع پر دو مستقل عناوین قائم کیے ہیں۔ اس کتاب میں وطن سے محبت کے تعلق سے ایک بامعنی قول یہ ہے : حُبُّ الْوَطَنِ مِنْ طَيِّبِ الْمَوْلِدِ (وطن کی محبت نیک فطرت انسان کی صفت ہوتی ہے)۔ اسی طرح ایک اور قول یہ ہے : لَوْلَا حُبُّ الْوَطَنِ لَخَرِبَتْ بِلَادُ السُّوْءِ (اگر وطن سے محبت کا جذبہ نہ ہوتا تو وہ خطہ ویران ہوجاتے، جہاں ظلم و بدعنوانی پائی جاتی ہے)۔ اسلامی لٹریچر میں اس نوعیت کے متعدد دلائل اس حقیقت کی نہایت واضح طور پر نشان دہی کرتے ہیں کہ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، وہ ایمان کے منافی نہیں، بلکہ اخلاق اقدار کے عین مطابق ہے۔ یہ اقوال اس امر کو اجا گر کرتے ہیں کہ کسی انسان کا اپنے وطن سے محبت کرنا تنگ نظری یا تعصب نہیں، بلکہ انسانی اخلاقی اور فطرت کا ایک لازمی جزء ہے۔ یہ خلاف اخلاق بات ہوگی کہ وہ سر زمین جو آپ کو سب کچھ فراہم کرے، آپ کو اس سے کوئی انس یا تعلق نہ ہو۔ سچی حب الوطنی ایک جوڑنے والی قوت ہوتی ہے، پھوٹ ڈالنے والی نہیں۔ یہ دین کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی تقویت کا ذریعہ ہے۔ زیرِ نظر کتابچہ، مولاناوحیدالدین خان کی تحریروں پر مشتمل ان صفحات میں قاری کو وطن سے محبت کا ایک نیا زاویہ دیکھنے کو ملے گا۔ یعنی یہ کہ اخلاص، اخلاق، مثبت طرزِ فکر اور تعمیری سرگرمیوں کے ساتھ وطن سے محبت، ایک بہتر دنیا کی تشکیل کا مؤثر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتابچہ کو کامیابی عطا فرمائے، اور مصنف کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، آمین۔

Printed page