Al-Risala · September 2025

رسول اللہ کی وطن سے محبت

Al-Risala, September 2025, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مجبورانہ طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جانے لگے تو اُس وقت آپ نے مکہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: وَاللَّهِ إِنَّكِ، لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ، مَا خَرَجْتُ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3108)۔ یعنی، اے مکہ، تو مجھے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عزیز ہے۔ مگر تیرے باشندے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا تو آپ کے لیے پورا موقع تھا کہ آپ مکہ کو دوبارہ اپنی قیام گاہ بنالیں۔ آپ مدینہ واپس چلے گئے اور آخر عمر تک وہیں رہے۔ حتی کہ آپ کی وفات کے بعد مدینہ ہی میں آپ کی قبر بنائی گئی۔

اس سے معلوم ہوا کہ مکہ کے بارے میں آپ کا مذکورہ جملہ شرعی نوعیت کا جملہ نہ تھا۔ اگر اس کی حیثیت شرعی ہوتی تو یقیناً آپ فتح کے بعد مکہ میں رہ جاتے۔ مگر مکہ پر قبضہ کے باوجود آپ کا مدینہ چلے

جانا ثابت کرتا ہے کہ یہ جملہ شرعی نہ تھا، بلکہ وہ وطنی محبت کے جذبہ کے تحت نکلا ہوا ایک جملہ (ڈائری، 12 نومبر 1996)

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ آپ کا یہ ارشاد اس لیے تھا کہ مکہ ایک مقدس شہر ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا یہ ارشاد وطن کے جذبے کے تحت تھا۔ یہ اسی جذبے کا اظہار تھا جو ہر انسان کے اندر اپنے وطن کو چھوڑتے وقت پیدا ہوتا ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں نعت گوئی کا رواج ان نعتوں میں ہمیشہ مدینہ کی عظمت بیان کی جاتی ہے ۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ان نعتوں میں مکہ کی عظمت بیان کی جاتی ہو۔ اگر مکہ مطلق طور پر مقدس شہر ہو تو ان نعتوں میں مکہ کی تعریف ہونی چاہیے تھی ، نہ کہ مدینہ کی۔ (ڈائری، 14 ستمبر 2006)

Printed page