Al-Risala · September 2025

نیشنلزم اور حب الوطنی

Al-Risala, September 2025, pp. 8–10

By Maulana Wahiduddin Khan

1971 کے نصف اول کا واقعہ ہے۔ میں نے بذریعہ ٹرین پاکستان (لاہور اور فیصل آباد) کا جب میں ہندوستانی سرحد پار کیا اور دوسری جانب پہنچا تو میرے قلی نے ایک فوجی افسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ میجر صاحب آپ کو بلا رہے ہیں۔ اس کے بعد قلی نے مجھے ایک بند فوجی خیمے کے اندر پہنچا دیا۔ وہاں ایک پاکستانی فوجی افسر بیٹھا ہوا تھا۔ اس خیمے میں صرف ہم دو آدمی تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ بنگلہ دیش کی جنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان میں سخت تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

اس خیمہ میں پاکستانی فوج کے افسر نے مجھ سے ایسی گفتگو شروع کی جو میرے نزدیک انڈیا کے نیشنل انٹرسٹ کے خلاف تھی۔ مثلاً آورو دی فوجی افسر نے مجھ سے کہا کہ انڈیا کے کچھ فوجی راز کچھ دیر تک میں برداشت کرتے ہوئے اس کی باتیں سنتا رہا۔ پھر میں نے کہا میجر صاحب، آپ مجھ سے یہ سمجھ کر بات کیجئے کہ میں انڈیا کا ایک وفادار شہری ہوں۔ اس کے بعد میں نے تقریباً پندرہ منٹ تک نہایت سخت انداز میں اس کے سامنے تقریر کی۔ میں جانتا تھا کہ اس وقت اگر وہ مجھے

گولی مار دے تو یہاں مجھے کو نئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مگر صورتِ حال کی نزاکت کی پروا کیے بغیر میں نے اس سے وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو ایک ہندووستانی شہری کی حیثیت سے میں کہہ سکتا تھا۔ مذکورہ فوجی میجر سے جو باتیں میں نے کہی، ان میں سے ایک بات یہ تھی اگر انڈیا کیے ساتھ آپ کی لڑائی کا انحصار ہمارے جیسے لوگوں سے فوجی راز حاصل کرنے پر ہے تو آپ اپنی لڑائی جیت چکے۔ کہ موجودہ زمانہ میں جنگی راز اتنا ٹاپ سیکریٹ ہوتا ہے کہ بعض اوقات وزیر دفاع کو بھی اس کی خبر نہیں تقریباً آدھ گھنٹہ تک میں اس قسم کی باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد سلام اور معذرت کے بغیر خیمہ سے باہر نکل آیا۔ مذکورہ میجر مکمل خاموشی کے ساتھ میری باتوں کو سنتا رہا۔ جب میں باہر نکلا تو وہ بھی میرے پیچھے پیچھے باہر آ گیا۔ اس نے کہا: مولانا صاحب، ہم کو آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ یہ بات میں نے پاکستان کی سرزمین پر ایک فوجی خیمے میں اس وقت کہی جب کہ اگر وہ فوجی افسر مجھے گولی مار دیتا تو شاید میری موت اس طرح واقع ہو جاتی کہ اس کی کوئی خبر بھی نہ بنتی۔ جس وقت میں نے پاکستان کے فوجی افسر سے یہ باتیں کہیں اس وقت میرا مذہب، میرا لباس، میری بولی، میری خاندانی روایات، سب کچھ ایک عام ہندو سے مختلف تھیں۔ مگر قومی احساس کے اعتبار سے اس وقت میرا احساس عین وہی تھا جو ایک دیش بھگت ہند کا احساس ہو سکتا ہے۔ میری زندگی کے سیکڑوں واقعات میں سے یہ صرف چند واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ مجھے اپنے وطن سے کتنا زیادہ لگاؤ ہے۔ جو ہندو مجھے قریب سے جانتے ہیں، مثلاً سوامی اوم پورن سوتنترا (نئی دہلی) یا سوامی چیدانند (رشی کیش)، وغیرہ، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے اندر جو دیش بھکتی ہے اس کی مثال ہم نے مہاتما گاندھی کے بعد کسی اور کے اندر نہیں دیکھی۔ میرے دل کی یہی تڑپ ہے جو مجھ کو مذکورہ قسم کی باتیں کہنے پر مجبور کرتی ہے۔

اس نوعیت کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ 20 جنوری 1997 کوئی دہلی میں پانیور ہاؤس میں ایک اس میں شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے۔ اس میٹنگ کا موضوع تھا— کیا گاندھی آج کے ہندوستان میں کامیاب ہوتے۔ میں نے اس موقع پر ایک لمبی تقریر کی ۔

سلسلہ میں میں نے کہا کہ گاندھی پچھلے انڈیا میں بھی کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ 1947 میں انھیں خود یہ کہنا پڑا کہ: اب میری کون سنے گا۔ پھر گاندھی جب پچھلے انڈیا میں کامیاب نہیں ہوئے تو آج کے انڈیا میں وہ کس طرح کامیاب ہوتے۔ ایک ہندو پروفیسر نے میری بات سن کر کسی قدر برہمی کے ساتھ کہا کہ آپ مہاتما گاندھی پر تنقید کر رہے ہیں۔ یہ سن کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میری آنکھوں میں آنسو میں نے درد بھرے لہجے میں کہا:

Printed page