حب الوطنی
Al-Risala, September 2025, pp. 10–16
By Maulana Wahiduddin Khan
28 مارچ 1998 کوانڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک سیمینار تھا۔ اس کا اہتمام اردو اکادمی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کا موضوع مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت اور کارناموں کا جائزہ تھا۔ موقع پر میں نے بھی ایک تقریر کی۔ میں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک حب الوطنی کا مسئلہ تھا۔ میں نے کہا کہ 20 ویں صدی میں لمبی مدت تک مسلم مفکرین کسی نہ کسی طور پر اس نظریہ سے متاثر رہے ہیں، جس کو عام طور پر پان اسلامزم (pan islamism) کہا جاتا ہے۔ اس دور جدید کے بہت سے مفکرین کے نام شامل ہیں۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی (1897-1838)، محمد اقبال
(1877-1938)، محمد علی جناح (1948-1876)، سید ابوالاعلیٰ مودودی (1979-1903)، یہ لوگ مسلمانوں کو ایک بین اقوامی برادری سمجھتے تھے، اور مسلمانوں کو ایک عالمی قومیت کا رکن بتاتے تھے۔ اپنے اس نظریہ کی بنیاد پر ان کا کہنا تھا کہ قومیت (nationhood) کی بنیاد مذہب پر ہے، نہ کہ وطن پر۔
میں نے کہا کہ میری عمر ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے 78 سال ہو رہی ہے۔ میں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ اسلام اور اسلام سے متعلق علوم کے مطالعہ میں گزارا ہے۔ میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ قومیت کو مذہب پر مبنی قرار دینا کوئی اسلامی نظریہ نہیں۔ یہ سراسر ایک سیاسی نظریہ ہے جو مخصوص حالات میں پیدا ہوا۔ 20 ویں صدی کے نصف اول میں مسلمانوں کے سیاسی قائدین یورپی استعمار کے خلاف تمام دنیا کے مسلمانوں کو ابھارنا چاہتے تھے۔ اپنے اس سیاسی مقصد کے نظریاتی جواز کے لیے انھوں نے عالمی قومیت کا مذکورہ نظریہ پیش کیا۔ یہ اسلام کا سیاسی استحصال تھا، نہ کہ اسلام کی حقیقی ترجمانی۔
اس معاملہ میں اسلام کا نقطہ نظر وہی ہے، جو پولیٹیکل سائنس کا نقطہ نظر ہے، اور جس کو تمام دنیا میں نظری یا عملی طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ قومیت (nationhood) کی بنیاد وطن (motherland) پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام دنیا میں پاسپورٹ پر کسی آدمی کی قومیت (nationlity) وہی لکھی جاتی ہے، جو وطن کی نسبت سے اس کی ہے، خواہ وہ ایک مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو، یا دوسرے مذہب سے۔ مثلاً انڈیا میں ہر مسلمان یا غیر مسلمان پاسپورٹ میں اپنے آپ کو انڈین لکھتا ہے، برطانیہ میں برٹش، امریکہ میں امریکن، وغیرہ۔
مبنی بر وطن قومیت کا یہ نظریہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ اس معاملہ میں اسلام اور بقیہ دنیا میں کوئی اختلاف یا ٹکراؤ نہیں۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے کہا تھا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ مولانا مدنی کا یہ جملہ خبر ہے، وہ انشاء نہیں۔ یعنی یہ ایک واقعہ ہے کہ بقیہ دنیا میں وطن کو قومیت کی بنیاد مان لیا گیا ہے۔ مگر اس کا یہ
مطلب نہیں کہ اسلام میں بھی قومیت کی بنیاد وطن پر قائم ہے۔ مگر یہ تشریح درست نہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں میں چند باتیں عرض کروں گا۔ فقہ کا ایک مستقل اصول یہ ہے کہ چیزوں کی اصل (بنیادی حکم) ان کا مباح ہونا ہے (الأصل في الأشياء الإباحة)، جب تک کہ حرام ہونے کی دلیل نہ ملے : Everything is lawful unless it is declared unlawful. یہاں چیز سے مراد دنیوی معاملات ہیں۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ قومیت کے مسئلہ کے بارے میں قرآن وحدیث میں کوئی براہِ راست حکم موجود نہیں۔ قرآن وحدیث میں نہ یہ کہا گیا ہے کہ قومیت کی بنیاد مذہب پر ہے، اور نہ یہ کہ اس کی بنیاد وطن پر ہے۔ اس لیے اس معاملہ کو ان امور سے متعلق سمجھا جائے گا، جن کی بابت پیغمبر اسلام نے کہا: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث یعنی تم اپنی دنیا کے معاملہ کو زیادہ جانتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک عقیدہ اور عبادت اور آخرت کے معاملات کا تعلق ہے، ان میں مسلمان پابند ہیں کہ وہ شریعت کی رہنمائی کو تاویل کے بغیر قبول کریں، مگر جو امورِ نظام دنیا سے تعلق رکھنے والے ہیں، ان میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے حالات کے لحاظ سے جس طریقہ کو درست سمجھے اس کو اختیار کرے۔
اس معاملہ میں ایک پیغمبرانہ واقعہ سے مزید رہنمائی ملتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یمن میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کا نام مسیلمہ تھا۔ اس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک سفارتی وفد مدینہ بھیجا۔ انھوں نے مدینہ آ کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، اور مدعی نبوت کا یہ تحریری پیغام پہنچایا کہ میں نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں (فَإِنِّي قَدْ أُشْرِكْتُ فِي الْأَمْرِ مَعَكَ)۔
مسیلمہ کے دونوں سفیروں سے کلام کرنے کے بعد آپ نے ان سے پوچھا کہ اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بھی وہی رائے ہے جو ہمارے صاحب کی رائے ہے۔ یہ سن کر آپ فرمایا کہ خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا: أَمَّا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 600)۔
پیغمبر اسلام کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں شریعت کا طریقہ بھی وہی ہوگا ، جو دوسری قوموں کا طریقہ ہے۔ دوسری قوموں میں اگر سفیر کی جان کو ہر حال میں محترم سمجھا جاتا ہے، تو اسلام میں بھی اس کو ہر حال میں محترم سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ وطنیت کے معاملہ میں دنیا میں جس اصول کو عمومی طور پر مان لیا جائے وہی شریعت میں بھی اختیار کر لیا جائے گا۔ اس معاملہ کو غیر ضروری طور پر عقیدہ اور مذہب کا مسئلہ نہیں بنایا جائے گا۔ ایک بار میں ایک جلسہ میں شریک تھا۔ وہاں ایک صاحب نے اپنی تقریر میں وطن کی محبت کی اہمیت بیان کی ، اور کہا کہ اسلام میں بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ (الموضوعات للصغانی، حدیث نمبر 81)۔ یعنی، وطن سے محبت کرنا ایمان کا ایک حصہ ہے۔ ایک عالم دین جو اس وقت جلسہ میں موجود تھے، انھوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حب الوطن من الایمان کوئی حدیث نہیں ہے، یہ تو صرف ایک عربی مقولہ ہے۔
میں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ حب الوطن من الایمان حدیث نہیں۔ مگر وہ سادہ طور پر صرف عربی کا ایک مقولہ نہیں، بلکہ وہ فطرت کا ایک مقولہ ہے، جو انسانی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ محدثین عام طور پر اس قول کو حدیث رسول نہیں مانتے، وہ اس کو ضعیف یا موضوع قرار دیتے ہیں۔
تاہم کچھ علما نے اس قول کو معنوی اعتبار سے درست قرار دیا ہے۔ مثلاً آٹھویں صدی ہجری کے مشہور عالم محمد بن عبد الرحمن الالالسخاوی (وفات 1497ء) نے اس قول کے بارے میں لکھا ہے: لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ، وَمَعْنَاهُ صَحِيحٌ (المقاصد الحسنة، حدیث نمبر 386)۔ یعنی، میں اس حدیث سے واقف نہیں، لیکن اس کا مفہوم درست ہے۔ محدثین کے اصول کے مطابق، امام سخاوی کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول حدیث رسول کے طور پر ان کو نہیں ملا، لیکن دین اسلام میں اس کی اصل پائی جاتی ہے۔ کتابوں کے ذخیرے میں بہت سی چیزیں ہیں، جو خواہ حدیث رسول نہ ہوں، لیکن وہ یقینی طور پر حدیث فطرت ہیں۔ اس بات کو بتانے کے لیے محدثین نے وہ اصول بنایا ہے، جس کو سخاوی کے حوالے سے اوپر بیان کیا گیا۔
راقم الحروف کا خیال یہ ہے کہ یہ قول اگر کلام رسول کے طور پر ثابت شدہ نہ ہو، تب بھی وہ حدیث جو آدمی وطن کی محبت کو فطرت کا جزء نہ سمجھتا ہو، وہ جانتا ہی نہیں کہ فطرت کیا چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وطن سے محبت انسانی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے، اور فطرت کا تقاضا ہونا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ حب الوطنی (patriotism) کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ دین فطرت (religion of nature) ہے تو فطرت بشری کی ہر چیز اسلام کا حصہ قرار پائے گی۔ میں نے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے اس لیے فطرت انسانی کا ہر صحیح تقاضا بھی عین اسلام کا مثال کے طور پر حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا ہے کہ حبُّ الأم مِنَ الإيمان (ماں کی محبت ایمان کا حصہ ہے)۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ہر مسلمان اس کو اپنا فرض سمجھتا ہے کہ اس کے دل میں اپنی ماں سے محبت ہو۔ جس آدمی کے دل میں اپنی ماں کی محبت نہ ہو، وہ اپنے ایمان میں بھی کامل نہ ہوگا۔ کیونکہ فطرت اور ایمان میں کوئی تضاد نہیں۔
اسی طرح وطن سے محبت بھی بلاشبہ ہر مسلمان کے لیے ایک ایمانی تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی جس ملک میں پیدا ہوا، جہاں اُس کی پرورش ہوئی، جہاں کی ہوا میں اس نے سانس لیا، جہاں کے لوگوں سے اس کے تعلقات قائم ہوئے، جہاں اُس نے اپنی زندگی کی تعمیر کی، ایسے ملک سے محبت کرنا انسانی شرافت کا تقاضا ہے، اور اسی طرح وہ انسان کے ایمان و اسلام کا بھی تقاضا ۔ میں نے کہا کہ جو چیز فطرت انسانی کا جزء ہو، اس کو قرآن وحدیث میں لکھنے کی ضرورت نہیں، وہ قرآن وحدیث میں لکھے بغیر ہی شریعت کا ایک لازمی جزء ہے۔ قرآن وحدیث میں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ اے مسلمانو، تم اپنی ماں سے محبت کرو۔ کیونکہ یہ چیز حکم کے بغیر اپنے آپ ہی فطرت کے زور پر حاصل تھی ۔ اسی طرح قرآن وحدیث میں یہ لکھنے کی ضرورت بھی نہیں کہ اے مسلمانو، تم اپنے وطن سے کیونکہ وطن سے محبت انسانی شرافت کا تقاضا ہے، وہ انسان ایک پست انسان ہے جس کے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت نہ ہو۔ ایسے گہرے فطری تقاضے کے لیے شریعت میں کسی لفظی حکم کی ضرورت نہیں، وہ اپنے آپ ہر مومن کے دل میں پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے۔
یہاں ایک معاملہ کی وضاحت ضروری ہے۔ بعض انتہا پسند ہندو لیڈروں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے عیسائی اور مسلمان سچے محب وطن نہیں ہو سکتے۔ اس لیے کہ محب وطن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس وطن یا اس جغرافی خطہ کو آدمی مقدس سمجھتا ہو، جہاں وہ پیدا ہوا ہے۔ ہندو چونکہ اپنے وطن (ماتر بھومی) کو مقدس سمجھتا ہے، اور اس کو معبود کا درجہ دیتا ہے۔ اس لیے وہی بھارت کا سچا محب وطن (دیش بھگت) ہے۔ عیسائی اور مسلمان چونکہ اپنے مخصوص عقیدہ کی بنا پر زمین یا کسی زمینی خطہ کو معبود کی طرح مقدس نہیں سمجھ سکتے، اسی لیے وہ بھارت کے سچے دیش بھگت بھی نہیں ہو سکتے۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے خود ساختہ عقیدہ کی بنا پر اپنی ماں کو معبود مان لے، اور اس کی پرستش کرنے لگے، تو اس بنا پر اس کو یہ کہنے کا لائسنس نہیں مل جائے گا کہ اس کے سوا بقیہ لوگ اپنی ماں سے محبت نہیں کرتے، کیونکہ وہ اپنی ماں کو معبود نہیں سمجھتے۔ کسی شخص یا گروہ کو بلاشبہ یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ماں کو یا اپنے وطن کو معبود سمجھنے لگے۔ مگر کسی قانون یا اصول کی بنا پر ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دوسروں کے بارے میں یہ حکم لگائیں کہ وہ اپنی ماں کو یا اپنے وطن کو معبود مانیں، ورنہ وہ نہ اپنی ماں سے محبت کرنے والے قرار پائیں گے، اور نہ اپنے وطن سے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کا تعلق عالمی سطح پر مانے ہوئے رواج سے ہے، نہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اپنے مفروضہ سے۔ عالمی اور بین الاقوامی سطح پر جب یہ مان لیا گیا ہے کہ قومیت کی بنیاد وطن پر ہے، اور وطن سے مراد معروف معنوں میں جغرافی وحدت (geographical unity) ہے، نہ کہ پر اسرار معنوں میں تقدیسی وحدت (religious unity)۔ اس لیے حب الوطنی (patriotism) کا معیار ہر ایک کے لیے یہی ہوگا۔ البتہ ہر ایک کو یہ آزادی حاصل رہے گی کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور عقیدہ پسند کرتا ہو تو اس کو اپنے لیے اختیار کرلے۔ (الرسالہ، ستمبر 1998) مسلمانوں کی قومیت آزادی سے پہلے برصغیر ہند میں قومیت کے مسئلہ پر دو نقطہ نظر تھے۔ ایک اقبال کا۔
کہنا تھا کہ قومیت کا تعلق مذہب سے ہے۔ دوسرا نظریہ مولانا حسین احمد مدنی کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ یعنی عقیدہ کا تعلق مذہب سے ہے اور قومیت کا تعلق میرے نزدیک مولانا حسین احمد مدنی کا نظریہ درست تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کے اعتبار سے ساری دنیا کے مسلمانوں کا ایک مذہب ہے۔ مگر جہاں تک قومیت کا سوال ہے، اس کا تعلق وطن (homeland) سے ہے، یعنی جس مسلم گروہ کا جو وطن ہے وہی اُس کی قومیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ملک پر اگر کوئی مسلم ملک حملہ کرے تو یہ حملہ مسلمانوں کے مذہب پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ اُن کے مشترک وطن پر حملہ قرار پائے گا۔ وطن کے خلاف جارحیت کے معاملہ میں مسلمان بھی اُسی طرح دفاع کریں گے جس طرح اُن کے غیر مسلم برادران وطن کریں گے، خواہ یہ حملہ بظاہر کسی مسلم ملک نے کیا ہو یا غیر مسلم ملک نے۔ (الرسالہ اگست، 2000، جودھ پور کا سفر)