ایک غیر حقیقی سوچ
Al-Risala, September 2025, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
علامہ اقبال کی ایک نظم ہے، جس کا عنوان ہے، وطنیّت۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ : تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور اس کے بعد ان کا اگلا شعر یہ ہے :
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے یہ نظم کلیاتِ اقبال کے بانگِ درا میں شامل ہے۔ اقبال کے اس شعر کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلّق نہیں۔ موجودہ دنیا میں قومیت (nationhood) کو مبنی بر وطن (homeland based) چیز سمجھا جاتا ہے۔ میرے نزدیک اس تصور میں اور اسلام میں کوئی ٹکراؤ نہیں، مگر اقبال
کے ذہن میں اسلام کا وہ تاریخی تصور تھا، جو بعد کو مسلم ایمپائر کے زمانے میں بنا۔ مسلم ایمپائر کے دور میں سارے مسلمانوں کا وطن ایک ہی مانا جاتا تھا، لیکن دوسری جنگ کے بعد جب مسلم ایمپائر ٹوٹ گیا اور پچاس سے زیادہ الگ الگ ملک بن گئے تو اب مسلمانوں کی قومیت اُن کے موجودہ وطن کی نسبت سے متعین کی جائے گی۔ اس معاملے میں مسلم ایمپائر کا زمانہ کوئی معیاری چیز نہیں، قدیم مسلم ایمپائر مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کا ایک وقتی ظاہرہ تھا، وہ اسلام کا دوامی حصہ نہیں۔ 12 دسمبر 2007)