Al-Risala · September 2025

قوم اور قومیت

Al-Risala, September 2025, pp. 18–30

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے غیر مومن مخاطبین کو اے میری قوم (يَاقَوْمِ) کے لفظ سے خطاب کیا ہے (مثال کے طور پر قرآن کی ان آیات کا مطالعہ کیجیے، 85, 79, 67, 7:61)۔ اس قرآنی بیان کے مطابق، مومن اور غیر مومن کی قومیت (نیشکنلٹی) ایک ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ وطن سے ہے۔ مذہبی اشتراک کو بتانے کے لیے ملّت کا لفظ بولا جائے گا (النساء، 125؛ 4) ، اور وطنی اشتراک کو بتانے کے لیے قومیت کا لفظ (ہود، 11:89)۔ موجودہ زمانہ میں وطن (home land) کو قومیت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کا اصول بھی یہی اسلام کے مطابق بھی وطن ہی قومیت کی بنیاد ہے۔

اس اعتبار سے دو قومی نظریہ ایک غیر اسلامی نظریہ ہے۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ ہم الگ قوم ہیں اور دوسرے لوگ الگ قوم۔ جب کہ صحیح اسلامی ذہن یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو دوسروں کا ہم قوم سمجھیں، وہ دوسروں کو اے میری قوم کے لوگو، کہہ کر خطاب کر سکیں، جیسا

کہ تمام پیغمبروں نے کیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو شعوب اور قبائل میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو (49:13)۔ آیت میں شعب سے مراد وطنی اشتراک سے بننے والی قوم ہے اور قبیلہ سے مراد نسلی اشتراک سے بننے قرآن کے مطابق، یہ دونوں قسم کی گروہ بندی صرف تعارف کے لیے ہے، وہ عقیدہ یا مذہب کے رشتہ کو بتانے کے لیے نہیں۔

1947 سے پہلے کے دور میں مولانا حسین احمد مدنی نے کہا تھا کہ ”فی زمانہ قومیں اوطان سے مولانا موصوف کا یہ بیان بجائے خود درست تھا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اُس میں فی زمانہ (موجودہ زمانہ) کی شرط درست نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ قوم ہمیشہ وطن ہی کی بنیاد پر تشکیل پاتی رہی موجودہ زمانہ میں صرف یہ ہوا ہے کہ دوسری بہت سی چیزوں کی طرح، اس معاملہ میں بھی تعین اور تشخص کے لیے جدید طریقے استعمال کیے گئے۔ مثلاً پاسپورٹ میں قومیت کا اندراج، جب کہ پہلے پاسپورٹ کا طریقہ رائج نہ تھا، بین اقوامی حقوق کے تعین کے لیے قومیت کی قانونی تعریف، ملک کی نسبت سے کسی قوم کے افراد کے حقوق کو قانون کی زبان میں متعین کرنا، وغیرہ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قوم کا لفظ موجودہ زمانہ میں بھی اصلاً اسی معنی میں بولا جاتا ہے جس معنی میں وہ قدیم زمانہ میں بولا جاتا تھا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے وہ مجمل مفہوم میں بولا جاتا تھا اور اب وہ مفصل مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ کچھ لوگ قومیت کی تشریح انتہا پسندانہ انداز میں کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ قومیت کو مذہب کے ہم معنی بنا دیتے ہیں، مگر یہ ایک نظریاتی انتہا پسندی ہے۔ اس قسم کی نظریاتی انتہا پسندی کی مثالیں خود اہلِ مذہب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کی تشریح ایسے انتہا پسندانہ انداز میں کی کہ اسلام کے سوا ہر نظام طاغوتی نظام بن گیا۔ کسی مسلمان کے لیے اس طاغوتی نظام میں موافقت کر کے رہنا حرام قرار پا گیا۔ حتی کہ اس مفروضہ طاغوتی نظام میں تعلیم حاصل کرنا، سرکاری ملازمت کرنا، ووٹ دینا، نزاعات کے قانونی تصفیہ کے لیے ملکی عدالت سے رجوع کرنا، سب کا سب حرام قرار پا گیا۔

طاغوتی نظام کا یہ نظریہ بعض افراد کے انتہا پسندانہ ذہن کی پیداوار تھا، اُس کا خدا اور رسول والے اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقائق نے اس نظریہ کے وابستگان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس سے دست بردار ہو جائیں۔ چنانچہ اب یہ تمام لوگ بلا اعلان عملی طور پر اس انتہا پسندانہ نظریہ کو چھوڑ چکے ہیں۔ یہی معاملہ قومیت کا بھی ہے۔ مغرب کے کچھ انتہا پسند مفکرین نے قومیت کو توسیع دے کر مکمل مذہب کے روپ میں پیش کیا۔ مگر حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر یہ نظریہ ٹوٹ کر ختم اب عملی طور پر قومیت کا تصور تقریباً اسی فطری معنی میں بولا جاتا ہے جس فطری معنی میں وہ قرآن کے اندر استعمال ہوا تھا۔

بیسویں صدی کے نصف اوّل میں اٹھنے والے مسلم رہنما اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ قومیت اور وطنیّت کے معاملہ میں اس غیر فطری انتہا پسندی کو اصل سمجھ لیا اور اس بنا پر اُس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کی ایک مثال مشہور مسلم شاعر اقبال (وفات 1938) کی ہے۔ انھوں نے قومیت اور وطنیّت کے اس انتہا پسندانہ وقتی تصور کو اصل سمجھ کر اُس کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے:

اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے قومیت اور وطنیّت کے بارے میں یہ نظریہ بلا شبہ بے بنیاد ہے۔ عجیب بات ہے کہ اُس دور کے اکثر مسلم علما اور دانشوروں نے سیاسی نوعیت کی چیزوں کو مذہب یا اسلام کے لیے موت وحیات کا مسئلہ سمجھ لیا۔ حالاں کہ کوئی بھی سیاسی اتار چڑھاؤ مذہب اسلام کی ابدیت کے لیے چیلنج نہیں بن مثلاً بیسویں صدی کے آغاز میں ترکی کی عثمانی سلطنت ٹوٹی تو شبلی نعمانی نے یہ شعر کہا: زوالِ دولت عثماں زوالِ شرع و ملت ہے عزیز و فکر فرزند و عیال و خانماں کب تک یہ تصور یقینی طور پر بے بنیاد ہے کہ کسی حکومت کا ٹوٹنا "شرع و ملت" کے لیے زوال کے ہم معنی ایسا نہ کبھی ہوا اور نہ ایسا کبھی ہو سکتا۔ دورِ اول میں خلافت راشدہ ختم ہوئی مگر اسلام باقی رہا۔

کے بعد اموی سلطنت ٹوٹی تب بھی اسلام کا سفر بدستور جاری رہا، اس کے بعد عباسی سلطنت ٹوٹی، اندلس کی مسلم سلطنت ٹوٹی، مصر کی فاطمی سلطنت ٹوٹی، ہندوستان کی مغل سلطنت ٹوٹی، وغیرہ وغیرہ۔ سلطنتوں کا یہ زوال اسلام کے زوال کا سبب نہ بن سکا۔

اسی طرح بیسویں صدی میں کئی انتہا پسندانہ نظریات اُبھرے۔ مثلاً کمیونزم، نازی ازم، نیشنلزم اور وطنيت، وغیرہ۔ مگر ان سب کا آخری انجام یہ ہوا کہ فطرت کا قانون اُن کے انتہا پسندانہ عناصر کو رد کرتا ہے اور آخرکار جو چیز بچی وہ وہی تھی جو قانون فطرت کے مطابق مطلوب تھی۔ فطرت کا ابدی قانون ہر دوسری چیز پر بالا ہے۔ فطرت کا قانون اپنے آپ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معتدل افکار کو رد کر کے اُنہیں میدانِ حیات سے ہٹا دیتا ہے اور اُن کے بجائے معتدل افکار کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ قومیت کا مسئلہ سید جمال الدین افغانی 1838 میں پیدا ہوئے اور 1897 میں اُن کی وفات ہوئی۔ وہ اُس نظریہ کی ایک علامت ہیں جو ترکی کے سلطان عبدالحمید کی حمایت سے شروع ہوئی اور جس کو اتحادِ اسلامی (پان اسلامزم) کہا جاتا ہے۔ سید جمال الدین افغانی کے زمانہ میں تقریباً مسلم دنیا انگریزوں اور فرانسیسیوں کی سیاسی ماتحتی میں آ گئی تھی۔ جمال الدین افغانی اِس مغربی اقتدار کو ختم کرنے کے لیے اس مقصد کو طاقت دینے کے لیے انہوں نے اتحادِ اسلامی کا نظریہ بنایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام دنیا کے مسلمان، خواہ وہ اکثریتی ملک میں ہوں یا اقلیتی ملک میں، وہ سب کے سب ایک واحد اُمّت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سب کے سب ایک ہی سیاسی وحدت میں بندھے ہوئے ہیں۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسی نظریہ کے مطابق کہا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک انٹرنیشنل پارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آیت اللہ خمینی اور دوسرے رہنماؤں نے اس کو اَلأُمّۃ (Ummah) کا لفظ دیا جو بہت جلد تمام دنیا کے مسلمانوں میں مقبول ہوگیا۔ اسی نظریہ کو اقبال نے اپنے ایک شعر میں اس

طرح بیان کیا ہے:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر یہ بین اقوامی نظریہ نو آبادیاتی دور میں حالات سے متصادم نہیں معلوم ہوتا تھا۔ اُس وقت دنیا کے بیشتر ملک عملاً ایک ہی سیاسی نظام کے تحت تھے۔ تقریباً تمام مسلمان اِس ایک سیاسی نظام کے شہری شمار ہوتے تھے۔ مگر جب نو آبادیاتی نظام ٹوٹا اور نیشنلزم کا دور آیا تو بہت سی الگ الگ سیاسی وحدتیں پہلے اگر ایک ایمپائر کی وفاداری کا مسئلہ تھا تو اب ایک سو قومی وحدتوں کی الگ الگ وفاداری کا مسئلہ سامنے آ گیا:

Pan-Islamism was the dominant ideology of the Muslim world of the 19th century before the rise of Nationalism. (Encyclopædia Britannica, Vol. 7, p. 719)

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کا نقشہ بدلا تو مسلمان فکری اعتبار سے ایک پیچیدہ صورت حال میں مبتلا ہو گئے۔ جو لوگ عالمی قومیت کے ڈھانچہ میں اپنی سیاسی شناخت بنائے ہوئے تھے، اب اُن کو مقامی قومیت کے ڈھانچے میں دوبارہ اپنی سیاسی شناخت کو تلاش کرنا پڑا۔ اس نازک وقت میں، میرے علم کے مطابق، پوری مسلم دنیا میں صرف ایک عالم تھا جس نے اس سوال کا جواب فراہم کرنے کی کوشش کی۔ یہ مولانا سید حسین احمد مدنی (1957-1879) تھے۔ انہوں نے 1947 سے پہلے کی ہنگامی سیاست کے زمانہ میں یہ جرأتمندانہ اعلان کیا کہ : فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں (شرح ارمغانِ حجاز، یوسف سلیم چشتی، 1982، نئی دہلی ، صفحہ 272)۔ یہ بلاشبہ ایک اجتہادی رہنمائی تھی۔ بدقسمتی سے مولانا موصوف کی وفات کے بعد خود دیوبند کے علما نے یہ اعلان کر کے اُس کو کالعدم کر دیا کہ حضرت نے اس سلسلہ میں جو فرمایا وہ صرف ایک خبر (informal observation or report) تھی، وہ انشا (formal legal declaration) نہ تھی۔

یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ بے حد نازک معاملہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اس معاملہ میں انتہائی غیر جانبدارانہ انداز کے ساتھ غور کیا جائے۔ مولانا حسین احمد مدنی کے موقف سے رجوع کی

صورت میں نظری یا اعتقادی پوزیشن یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی قومیت (nationality) دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسلمانوں کی سیاسی وفاداری مشترک طور پر اُن کے مذہب کے ساتھ وابستہ ہے۔ اب جب کہ ہر ملک میں نیشنلٹی کو وطن (home-land) کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے تو یہ نظریہ ہر جگہ مقامی تقاضوں سے متصادم ہو گیا ہے۔

مثلاً امریکہ یا برطانیہ یا انڈیا میں جدید تصور قومیت کا تقاضا یہ ہے کہ ان ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی سیاسی وفاداریاں صرف اپنے وطن کے ساتھ وابستہ ہوں، اُن کی کوئی خارج از وطن سیاسی وفاداری (extra-terrestrial loyalty) نہ ہو۔ جب کہ الامہ کا نظریہ برعکس طور پر یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کی وفاداریاں بین اقوامی اسلام کے ساتھ ہونی چاہئیں، نہ کہ ملکی وطنیت کے ساتھ۔ تضاد نے ساری دنیا کے ہر اُس ملک میں مسلمانوں کی نیشنل وفاداری کو مشتبہ کر دیا ہے جہاں مسلمان ایک اقلیت کے طور پر رہتے ہیں۔

یہ ایک بے حد سنگین مسئلہ ہے۔ خالص نظریاتی طور پر مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک کا یا تو وہ اپنے اعلان کردہ موقف کے مطابق، یہ کہیں کہ ہم عالمی اسلامی قومیت کے فرد ہیں، ہم مقامی قومیت کے قائل نہیں۔ وہ اس موقف کو اختیار کریں اور پھر اُس کی ہر قیمت کو دل کی آمادگی کے ساتھ ادا کریں۔ مثلاً اگر کسی ملک میں اُن کی وطنی وفاداری کو مشتبہ سمجھ کر اُنہیں ملکی فوج میں نہ لیا جائے، اُنہیں وزارت خارجہ میں شامل نہ کیا جائے، اُنہیں سفیر کا عہدہ نہ ملے، ملک کی بین اقوامی نمائندگی کے فورم میں اُن کو جگہ نہ دی جائے، اُن کو اپنے ملک میں درجہ دوم کا شہری سمجھا جائے تو اُنہیں چاہیے کہ وہ اُسے اپنے عقیدہ کی فطری قیمت سمجھ کر اُس کو قبول کریں۔ مسلمانوں کے لیے دوسرا چوائس یہ ہے کہ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ الامہ کا مذکورہ بین اقوامی نظریہ کچھ مسلم رہنماؤں کا ذاتی نظریہ تھا جو انہوں نے مخصوص حالات کے ردعمل میں اختیار کیا اور اُس کو غلط طور پر اسلام کا نام دے دیا۔ اب ہم اس نظریہ کو رد کرتے ہیں اور جیسا کہ مولانا حسین احمد مدنی نے اعلان کیا تھا، ہم اس رائے کو اختیار کرتے ہیں کہ عقیدہ اور مذہب کے اعتبار سے بلاشبہ

تمام دنیا کے مسلمان ہم مذہب ہیں مگر جہاں تک قومیت (nationality) کا تعلق ہے، ہر مسلمان کی قومیت وہی ہے جو اُس کا وطن ہے۔ قومیت کا تعلق وطن سے ہے، نہ کہ مذہب سے۔ اگر مسلمانوں کی طرف سے کھلے طور پر کر دیا جائے تو مذکورہ تضاد ختم ہو جائے گا اور پھر کسی کو یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ اُن کی وطنی وفاداری پر شک کرے۔

مسلمان اگر ان دونوں میں سے کوئی موقف اختیار نہ کریں بلکہ وہ یہ کریں کہ موقف کے بارے میں کھلے اعلان کے بغیر وہ اپنے اپنے ملک کی مادی تقسیم میں اپنا حصہ لینے لگیں تو یہ ایک دوہرا معیار (double standard) کی روش ہوگی۔ یعنی اپنے نظری یا اعتقادی موقف میں تبدیلی کا اعلان کیے بغیر خاموشی کے ساتھ اپنے عملی موقف کو بدل لینا۔ اس قسم کی روش ایک افادی (opportunistic) روش قرار پائے گی، نہ کہ کوئی اصولی روش۔

اس طرح دو عملی کی روش اختیار کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے نقصانات بے حد سنگین ہیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سے بااُصول کردار کا مزاج ختم ہو جائے گا۔ کا روحانی ارتقا (spiritual development) رک جائے گا۔ اُن کے اندر فکری عمل (intellectual process) جاری نہ ہو سکے گا۔ اُن کی شخصیت ارتقائی منازل طے کرنے سے محروم ہو جائے گی۔ وہ اُس عظیم نعمت کی لذت سے نا آشنا ہو جائیں گے جس کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (48:4) کہا گیا ہے۔ اس صورت حال کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ جمودِ ذہنی کا شکار ہو کر رہ جائیں وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ وہ علم و فکر کے اعتبار سے دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کو خدا کی طرف سے الگ الگ شریعت اور منہاج دیا گیا (5:48)۔ یہ بات بظاہر امت کے حوالے سے کہی گئی ہے، مگر وہ حقیقتاً زمانہ کی نسبت سے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو ان کے زمانی حالات کی نسبت سے انہیں شریعت اور منہاج عطا کیا گیا۔ اسی لیے فقہ میں مسئلہ بنا ہے کہ زمانہ اور مقام کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں: تتغير الاحكام بتغير الزمان والمكان (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، اعلام الموقعين

ابن القیم الجوزية، جلد 3، صفحه 11؛ مجلة الاحکام العدلية، ماده: 39)۔ تشریع الہی کا یہ اصول صرف پیغمبر اسلام سے پہلے کے لوگوں کے لیے نہیں تھا۔ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت کے لیے بھی اسی طرح مطلوب ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پچھلی امتوں کو براہِ راست پیغمبر کے ذریعہ اس تبدیلی حکم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور اب ختم نبوت کے بعد علما کے اجتہاد کے ذریعہ تبدیلی حکم کا یہ کام انجام پائے گا۔

اس تشریعی اصول کے مطابق، بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ قومیت (nationality) کے معاملہ میں موجودہ زمانہ میں جو تصور عالمی سطح پر رائج اور مسلم ہو گیا ہے اس کی روشنی میں اجتہاد کر کے دوبارہ اس معاملہ میں شریعت کا موقف متعین کیا جائے گا۔ اور یہ موقف وہی ہے جس کا اعلان 1947 سے پہلے کے زمانہ میں مولانا سید حسین احمد مدنی نے کیا تھا۔

شرعی موقف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان عقیدہ اور مذہب کے اعتبار سے بلاشبہ ایک عقیدہ اور ایک مذہب رکھتے ہیں مگر جہاں تک قومیت کا تعلق ہے وہ ملک کی نسبت سے متعین یعنی ہر ملک کے مسلمانوں کی قومیت وہی قرار پائے گی جو اس ملک کے دوسرے گروہوں کی اس وقت ہماری گفتگو کا موضوع ہے — ہندوستانی قومیت کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے: What Constitutes Indian Nationalism یہ سوال بلاشبہ نہایت اہم قومی سوال ہے۔ اس سوال کے حل پر ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار اس اعتبار سے اس سوال کو 1947 ہی میں آخری طور پر طے ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی اس سوال پر بحث جاری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً نصف صدی گزرنے پر بھی اس سوال کا متفق علیہ جواب معلوم نہ کیا جا سکا۔

اس غیر معمولی تاخیر کا سابب کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا بنیادی سبب ہے۔ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو ملحوظ نہ رکھنا۔ سماجی زندگی میں ہمیشہ کچھ چیزیں نیشنل (مشترک) ہوتی ہیں، اور کچھ چیزیں پرائیویٹ (غیر مشترک) ۔ نیشنل حصہ میں یکسانیت مطلوب ہوتی ہے، اور پرائیویٹ حصہ میں تعدد نیشنل معاملات کو اگر ہر آدمی کے ذوق (taste) پر چھوڑ دیا جائے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔ اسی طرح پرائیویٹ حصہ میں اگر تمام لوگوں کو ایک روش پر قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو سارا سماج انتشار کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

اس مسئلہ کے الجھاؤ کے ذمہ دار مختلف فرقوں کے وہ پر جوش لوگ ہیں جو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہ رکھ سکے۔ انھوں نے یہ غلطی کی کہ ایک نیشنل معاملہ کو پرائیویٹ بنانے کی کوشش کی، اور ایک معاملہ جو پرائیویٹ تھا اس کونیشنل درجہ دینے پر اصرار کیا۔ اس قسم کی غیر فطری اور غیر حقیقت پسندانہ کوشش صرف انتشار پیدا کرسکتی تھی، اور اس نے صرف وہی پیدا کیا۔ مثال کے طور پر ہمارے جن لیڈروں نے ”کامن سول کوڈ“ کی دفعہ دستور ہند میں شامل کی، انھوں نے ایک پرائیویٹ معاملہ کونیشنل بنانے کی کوشش کی۔ کیوں کہ شادی بیاہ یا نکاح و طلاق کا معاملہ لوگوں کی پرائیویٹ زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ہر ایک کا انفرادی معاملہ ہے، نہ کہ پورے ملک کا قومی معاملہ۔ اسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس دستوری دفعہ نے غیر ضروری بحث پیدا کرنے کے سوا ب تک کچھ اور نہیں کیا۔

اسی طرح کچھ مسلمان پاکستان کی جیت پر خوشی مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے، اس بنا پر یہ ہمارے لیے ایک جذباتی مسئلہ ہے۔ مگر یہ نیشنل معاملہ کو پرائیویٹ معاملہ انڈیا ہمارا وطن ہے۔ جب بھی انڈیا کا مقابلہ کسی دوسرے ملک سے ہوگا، خواہ وہ کرکٹ کے میدان میں ہو یا جنگ کے میدان میں، تو ہمارے جذبات لازمی طور پر اپنے وطن کے ساتھ ہوں گے۔ اس معاملہ میں انفرادی روش ہر گز قابل برداشت نہیں ہوسکتی۔ نان کامن کو کامن بنانا جتنا غلط ہے، اتناہی کامن کو نان کامن بنانا بھی غلط ہے۔

اس مسئلہ کو سادہ اور فطری طور پر سمجھنے کی آسان صورت یہ ہے کہ اس کو خاندان کی سطح پر دیکھا خاندان کسی قوم کی ابتدائی یونٹ ہوتا ہے۔ بہت سے خاندان کے مجموعہ ہی کا نام نیشن اب دیکھیے کہ خاندان کی سطح پر اس مسئلہ کی نوعیت کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ خاندان کی سطح پر ہمیشہ کچھ باتیں کامن انٹرسٹ کی ہوتی ہیں۔ ان میں ہر فیملی ممبر کی رائے صرف ایک ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ کچھ چیزیں انفرادی ذوق (taste) کی ہوتی ہیں۔ ان میں ہر فیملی ممبر کی سوچ الگ الگ ہوتی ہے۔

کامن انٹرسٹ میں مثال کے طور پر ایک اہم چیز معاشی یا مالی انٹرسٹ ہے۔ جو فیملی کے معاشی انٹرسٹ سے تعلق رکھتی ہوں ان میں ہر ایک کی سوچ بالکل یکساں ہوتی ہے۔ معاملات میں فیملی کے تمام ممبر بلا اختلاف ایک ہی نقطہ نظر کو اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ معاملات میں اگر کئی نقطہ نظر چلائے جائیں تو خود فیملی کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائے گا۔ مگر جہاں تک انفرادی ٹیسٹ کا معاملہ ہے، تو یہاں ہر ایک کا کیس الگ الگ بن جاتا ہے۔ مثلاً کوئی ایک قسم کا کھانا پسند کرتا ہے اور کوئی دوسرے قسم کا کھانا۔ کوئی ویسٹرن لباس پہنتا ہے اور کوئی ایسٹرن لباس۔ کسی کو ادب سے لگاؤ ہوتا ہے اور کسی کو سائنس سے۔ کوئی کٹر مذہبی ہوتا ہے اور کوئی مذہب کے معاملہ میں لبرل ہوتا ہے۔ کسی کو ایک رنگ کا فرنیچر پسند ہوتا ہے اور کسی کو دوسرے رنگ کا فرنیچر، وغیرہ۔

اسی دوگانہ اصول پر تمام خاندانوں کا نظام چل رہا ہے۔ خواہ وہ ہندو خاندان ہو یا مسلم خاندان، یا اور کسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا خاندان ۔ ہر ایک کے لیے فطرت کا یہی اصول ہے، اور دنیا میں ہر جگہ یہی اصول کارفرما ہے۔

نومبر 1991 میں شولاپور (مہاراشٹر) میں قومی ایکتا کے موضوع پر ایک سیمینار تھا۔ مجھے شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ اس موقع پر مقامی ایم ایل اے شری تلسی داس جادھو نے بھی تقریر انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ میرے باپ نان ویجیٹیرین

میری ماں کٹر قسم کی ویجیٹیرین تھی۔ اس کے باوجود دونوں میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ نے سالہا سال تک دیکھا ہے کہ میری ماں صبح اٹھ کر پہلے میرے باپ کے لیے میٹ بناتیں اور اس کو کھانے کی میز پر رکھ دیتیں۔ اس کے بعد وہ غسل خانہ میں جا کر نہاتیں اور پھر اپنے لیے دال سبزی والا کھانا بناتیں۔

میری ماں اسی طرح آخر عمر تک کرتی رہیں۔ کھانے کے معاملہ میں دونوں کے درمیان اتنا بڑا مگر اس سوال پر دونوں میں کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔ دونوں زندگی بھر عزت اور محبت کے ساتھ مل کر

یہی معاملہ ہر فیملی کا ہے۔ ہر فیملی میں کچھ چیزیں مشترک ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں غیر مشترک۔ مشترک حصہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو سب سے یکساں طور پر تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً خاندان کی عزت، خاندان کا کاروبار، خاندان کی ترقی، خاندان کا تحفظ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو خاندان کے ہر فرد کا مشترک کنسرن ہوتی ہیں۔ ان چیزوں میں فیملی کے ایک فرد اور فیملی کے دوسرے فرد میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ خاندانی زندگی کا دوسرا حصہ وہ ہے جو غیر مشترک ہوتا ہے۔ اس میں ہر آدمی اپنے اپنے ذوق پر یہ غیر مشترک حصہ ہے ۔ کھانا پینا، لباس، تفریحات، شخصی عادتیں، وغیرہ۔ زندگی کا فطری اصول یہ ہے کہ مشترک امور میں تمام افراد کو ایک نقطہ نظر کا پابند کیا جائے ۔ مگر غیر مشترک امور میں ہر ایک کو آزادی دے دی جائے کہ وہ اپنی ذاتی پسند سے جوروش چاہیں اختیار کریں۔ وحدت کے ساتھ تنوع ، اور تنوع کے ساتھ وحدت کے اسی اصول میں کسی سماج کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ خاندان ہی جیسا معاملہ بڑے پیمانہ پر قوم کا بھی ہے۔ یہاں بھی ایک قومی انٹرسٹ ہے، اور دوسرا انفرادی انٹرسٹ۔ اگر ان دونوں کی علاحدہ علاحدہ رعایت کی جائے اور ان میں کنفیوز نہ کیا جائے تو نیشن کا معاملہ درست طور پر چلتا رہے گا ۔ اور اگر دونوں کے فرق کو نظر انداز کر دیا جائے اور غیر ضروری طور پر نظریاتی رولر چلا کر دونوں کو ایک کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد یہ مسئلہ سادہ طور پر ایک سماجی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ وہ ایسے میدان جنگ کا مسئلہ بن جاتا ہے جو کبھی حل نہ ہو سکے۔

خاندان رشتہ داری کی بنیاد پر بنتا ہے اور قوم وطن کی بنیاد پر بنتی ہے۔ قومیت کا سادہ اصول یہ ہے کہ ایک زمینی خطہ میں جو لوگ رہتے ہیں وہ سب ایک قوم ہیں۔ مثلاً انڈیا میں جو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی، رہتے ہیں وہ سب کے سب ایک قوم ہیں۔ خواہ اس واحد قوم کو ہندوستانی کہا جائے یا اس کو انڈین یا بھارتی کا نام دیا جائے۔

ہندوستانی قومیت کے اس انسانی مجموعہ میں ایک چیز کا من ہے، اور اسی کے ساتھ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو انفرادی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ چیزیں جن کا تعلق انڈیا کی اننگر یٹی یا اس کے مجموعی مادی انٹرسٹ سے ہو، اس میں اس خطہ ارض میں بسنے والے ہر آدمی کا نقطہ نظر ایک ہوگا۔ مثلاً کشمیر کا مسئلہ کسی مسلمان کے لیے مسلم مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے صرف انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح پنجاب کا مسئلہ کسی سکھ کے لیے سکھ مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح آسام کا مسئلہ کسی کرسچین کے لیے کرسچین مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح وہ تمام مسائل جن سے ملک کا مجموعی سیاسی، معاشی، جغرافی انٹرسٹ وابستہ ہو، ان میں کسی بھی فرد یا کمیونٹی کی سوچ علاحدہ نہیں ہوگی۔

مگر اس مشترک نیشنل انٹرسٹ کے باہر بہت سی چیزیں ہیں جن کا تعلق انفرادی ذوق سے ان دوسرے پہلوؤں میں ہر ایک کو اپنے نجی دائرہ میں آزادی حاصل ہوگی۔ خوراک، لباس، زبان، رہن سہن، شادی بیاہ، جیسے معاملات میں ہر ایک کو اپنے محدود دائرہ میں آزادی ہوگی کہ وہ اپنی انفرادی پسند کے مطابق جو انداز چاہے اس کو اختیار کرے۔ یہی طریقہ آج تمام ترقی یافتہ ملکوں میں رائج ہے۔

اس انفرادی آزادی پر اگر کوئی شرط لگائی جاسکتی ہے تو وہ صرف یہ کہ کسی کو اپنی آزادی اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیے کہ وہ دوسرے کی آزادی میں خلل اندازی کا سبب بن جائے۔ اس معاملہ میں وہی اصول صادق آتا ہے جو ایک امریکی شہری نے راستہ پر چلنے والے اپنے ایک ہم وطن سے اس وقت کہا تھا جب کہ اس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی ناک پر مار دیا

اس نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ تم کو آزادی حاصل ہے۔ مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے:

Printed page