Your freedom ends where nose begins.
Al-Risala, September 2025, pp. 30–34
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ ہمالیہ پہاڑ اور بحر ہند کے درمیان واقع ایک زمینی خطہ جس کو ہمارے دستور نے "انڈیا" کے طور پر ڈیفائن کیا ہے، اس میں بسنے والا ہر آدمی انڈین ہے۔ یہ سب کے سب لوگ ایک قوم ہیں۔ سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی قومی سوچ کو اپنی شناخت بنائیں اور باہم مل جل کر زندگی گزاریں۔
مگر اس وسیع قومی مجموعہ کے اندر جو افراد آباد ہیں، اپنے نجی دائرہ میں ان کا طرز زندگی (mode of life) یکساں نہیں ہو سکتا۔ اور نہ کسی بھی ملک میں وہ یکساں ہے۔ پہلے دائرہ کے لیے فطرت کا تقاضا ہے کہ سب کا طرز فکر ایک ہو۔ مگر عین اسی فطرت کا یہ تقاضا بھی ہے کہ نجی دائرہ میں ان کے درمیان تنوع پایا جائے۔ ایک ماں باپ سے پیدا ہونے والے چار بھائی خاندان کے مشترک مفاد کے معاملہ میں تو ایک مشترک طرز فکر کے حامل ہوتے ہیں۔ مگر ذاتی دائرہ میں چاروں بھائیوں کا مزاج اور چاروں بھائیوں کی پسند الگ الگ بن جاتی ہے۔
معلوم ہوا وہ چیز جس کو ہم انڈین نیشن کہتے ہیں، اس کے دودائرے ہیں۔ ایک دائرہ میں یکسانیت مطلوب ہے اور دوسرے دائرہ میں تنوع ۔ یکسانیت والے دائرہ میں تفرق برداشت نہیں کیا جا مگر تنوع والے دائرہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے ایک دوسرے کے درمیان فرق کو ٹالریٹ کرنا۔ پہلے معاملہ میں اگر ”من تو شدم تو من شدی" کا اصول کارفرما ہے تو دوسرے معاملہ میں Let us agree to disagree کا اصول۔ ہندوستانی قومیت کی کامیاب تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب کہ ان دونوں حصوں کے فرق کو سمجھتے ہوئے ہر ایک کی صحیح رعایت کی جائے۔ پہلے دائرہ میں علاحدگی پسندی اتنی بری چیز ہے جس کو قومی غداری کہا جائے تو دوسرے دائرہ کے معاملہ میں برعکس طور پر Walt Whitman کا یہ قول
صادق آتا ہے کہ میں اتنا زیادہ وسیع ہوں کہ ان تمام تضادات کو اپنے اندر سموسکوں : I am large enough to contain all these contradictions. مادر وطن کہنا ایک صاحب نے ای میل کے ذریعے یہ سوال کیا کہ انڈیا کو مادر وطن کہنا جائز ہے یا ناجائز۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مادر وطن کو جائز یا ناجائز کی اصطلاح میں بیان کرنا اس کو غیر ضروری طور پر شرعی مسئلہ بنانا ہے۔ یہ انتہا پسندی (extremism) ہے کہ ہر چیز کو جائز یا ناجائز کا مسئلہ بنایا اس مزاج کو شریعت میں غلو کہا گیا ہے، اور قرآن وسنت میں غلو کی ممانعت کی گئی ہے۔ ایک مرتبہ صحابی رسول وابصۃ الاسدی رسول اللہ کے پاس آئے۔ وہ بہت سا سوال کرنا چاہتے تھے۔ رسول اللہ نے ان کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ یہ کہا: استفت قلبك ( مسند احمد، حدیث نمبر 18006 )۔ یعنی اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ بلکہ اپنی فطرت کی آواز کی پیروی کرو۔ لوگ انڈیا کو مادر وطن کہتے ہیں۔ وہ اس معنی میں نہیں کہتے کہ وہ اسی جغرافیہ کے بطن سے پیدا ہو کر حقیقت یہ ہے کہ یہ استعارہ (metaphor) کی زبان ہے۔ اصل یہ ہے کہ مادر وطن سے مراد وہی چیز ہے، جس کو دوسرے الفاظ میں مسقط الراس، مقام پیدائش (home land)، برتھ پلیس (birth place)، وغیرہ، کہا جاتا ہے۔ اگر بالفرض کچھ لوگ مادر وطن کا لفظ اس معنی میں بولیں کہ وہ وطن کے پیٹ سے اسی طرح پیدا ہوئے ہیں، جس طرح کوئی شخص ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہوگا، نہ کہ آپ کا معاملہ۔
آپ مادر وطن کا لفظ اپنے مفہوم میں بولیے۔ دوسرے لوگوں کو چھوڑ دیجیے کہ وہ کس معنی میں اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی زندگی کی ایک حکمت ہے کہ کسی بات کو اس کی منطقی حد(logical end)
تک نہ پہنچایا جائے۔ بلکہ اس کو معروف مفہوم کے اعتبار سے لیا جائے۔
مادر وطن (بھارت ماتا) کی اصطلاح انیسویں صدی کے آخری زمانے میں شروع کی گئی۔ آزادی کی تحریک چلانے والے لیڈروں نے سیاسی مقصد کے تحت استعمال کیا تھا۔ اس اصطلاح کا 16 اپریل 1994 کو بھارتیہ مزدور سنگھ کی دعوت پر میں ناگپور میں تھا۔ یہاں ریشم باغ (ناگپور) میں ان کا ایک اجلاس تھا، جس میں میرا افتتاحی خطاب تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آزادی کے بعد ہندوستان وہ ترقی یافتہ ہندوستان نہ بن سکا جو اس کو بننا چاہیے تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں ایکتا نہ ہونا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنا مشن دیش میں کمیونل ہارمنی کو بنایا ہے۔ اس سلسلہ میں جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس کا سبب دونوں طرف غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہونا ہے۔ دونوں فرقوں میں اگر ملنا جلنا بڑھ جائے تو اپنے آپ غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی ۔ اور لوگوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہو جائیں گے ۔
میں نے مختلف واقعات بیان کیے ۔ اور واقعاتی مثالوں کے ذریعہ بتایا کہ ہر آدمی انسان ہے۔ کوئی آدمی اگر آپ کو اپنا مخالف دکھائی دے تو یہ اس کی صرف عارضی حالت ہے۔ پھر میں نے کہا کہ وندے ماترم یا اس طرح کی دوسری چیزوں پر کچھ مسلمان جو اتنا زیادہ بھڑکتے ہیں اس کی وجہ حقیقت نہیں ہے، بلکہ غیر ضروری حساسیت ہے۔ 1947 سے پہلے اس قسم کی حساسیت مسلمانوں میں موجود نہیں تھی ۔ اس لیے خود مسلمان اس قسم کی باتیں کہتے تھے مگر کوئی رد عمل نہیں ہوتا تھا۔ میں نے اقبال کے چند اشعار سنائے۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز اہل وطن سمجھتے ہیں اس کو امام ہند 1947ء سے پہلے کوئی مسلمان اقبال کے ان اشعار پر بھڑکتا نہیں تھا۔ آج کوئی ہندو یا مسلمان ایسی کوئی بات کہہ دے تو فوراً اخباروں میں بیانات اور مراسلے چھپنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نااہل لیڈروں نے غیر ضروری طور پر مسلمانوں کو ان باتوں کے بارے میں حساس بنا دیا ہے۔ (ناگپور کا سفر 1994) حب الوطنی اور قومی یکجہتی مسلم علما کی ایک نشست تھی۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کے اوپر یہ غلط الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ملک کی مین اسٹریم (مکھیہ دھارا) میں نہیں ہیں، وہ بلاشبہ ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ شکایت بالکل بجا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ مین اسٹریم میں اپنے آپ کو شامل کرنے کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ آپ یہ مانیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک قوم ہیں۔ جب کہ یہی بات اب تک حاصل نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کا ہر عالم جو پاسپورٹ بنواتا ہے وہ نیشنلٹی کے خانہ میں اپنے آپ کو اسی طرح انڈین لکھتا ہے جس طرح ایک ہند ولکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندواور مسلمانوں دونوں کی نیشنلٹی ایک ہے اور دونوں ایک قوم ہیں۔ مگر علما نے ابھی تک اس کا اعلان نہیں کیا۔ 1947 سے پہلے مسلم لیگ کی تحریک زیر اثر تمام مسلمانوں کے ذہن میں یہ بھرا گیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قوم ہیں۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہی ذہن اب تک چلا جا رہا ہے۔ دونوں کو نیشنل مین اسٹریم میں لانے کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ علما کی طرف سے ایک متفقہ اعلان ہو کہ قومیت کا
تعلق وطن سے ہوتا ہے۔ چونکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا وطن ایک ہے، اس لیے دونوں قوم پاسپورٹ کا ذاتی فائدہ اٹھانے کے لیے تمام لوگ اس کے فارم پر اپنی نیشنلٹی انڈین بتا رہے مگر اسی بات کا عمومی اعلان کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کیسا عجیب ہے یہ تضاد جو لوگوں کی زندگیوں میں پایا جاتا ہے۔ (ڈائری، 26 نومبر 1995)