گڈ انڈین
Al-Risala, September 2025, pp. 34–36
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی میگزین سنڈے کے شمارہ 25-19 نومبر 1995 میں مسٹر آرن شوری (پیدائش 1941) کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا۔ اس کے انٹرویو منی شنکر ایر تھے۔ اس انٹرویو میں مسٹر آرن شوری نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ایک اچھے مسلمان (Good Muslim) کا ایک اچھا انڈین (Good Indian) ہونا بہت مشکل ہے۔ میں نے اس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد مسٹر آرن شوری کو ٹیلی فون کیا۔ میں نے کہا: یہ بتائیے کہ میں گڈ مسلم ہوں یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ کون کہہ سکتا ہے کہ آپ گڈ مسلم نہیں ہیں ۔ میں نے کہا کہ پھر سن لیجیے کہ میں ایک گڈ مسلم بھی ہوں اور گڈ انڈین بھی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میری زبان سے نکلا— اگر میں گڈ انڈین نہیں ہوں تو مہاتما گاندھی بھی گڈ انڈین نہیں تھے ۔
اس واقعہ کے چند روز بعد ڈاکٹر مہیش چندر شرما (ممبر پارلیمنٹ) میرے دفتر میں ملاقات کے لیے آئے ۔ میں نے ان سے مذکورہ گفتگو نقل کی ۔ انھوں نے اس کو سن کر کہا : مولانا صاحب، آپ کے گڈ انڈین ہونے کے لیے کسی آرن شوری کے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں ۔ آپ ایسے کسی سرٹیفکٹ کے بغیر ہی گڈ انڈین ہیں ۔
اس کے بعد کا واقعہ ہے۔ 23 نومبر تا یکم دسمبر 1996 میں پونے کے سفر میں تھا۔ کو فجر سے پہلے چار بجے سو کر اٹھا۔ وضو کر کے دو رکعت نماز لمبی قرآت کے ساتھ پڑھی۔ اس کے بعد اپنے کمرہ میں بیٹھا تو اچانک یاد آیا کہ شری گرو گولوالکر (1973-1940) اور مسٹر آرن شوری نے لکھا ہے کہ ایک گڈ مسلم کبھی گڈ انڈین نہیں بن سکتا۔ یہ سوچتے ہوئے بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو
نکل آئے کہ یہ لوگ انسان کو کتنا کم جانتے ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ انسان سے واقف انیسویں صدی کا امریکی شاعر والٹ وھٹ مین (Walt Whitman) تھا جس نے کہا کہ:
I am large enough to contain all these contradictions. میں یہ کہہ رہا تھا اور رورہا تھا کہ بخدا میں ایک گڈ مسلم ہوں اور اسی کے ساتھ میں گڈ انڈین بھی یہ میری شرافت انسانی کی توہین ہے کہ یہ کہا جائے کہ جس ملک میں پیدا ہوا، اس کا میں اچھا شہری نہیں ہوں۔ وطن کی محبت ایک خالص فطری جذبہ ہے۔ اور جس چیز کی جڑیں خود فطرت انسانی میں ہوں اس سے کوئی انسان کبھی خالی نہیں ہوسکتا۔
میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر مہاتما گاندھی پیدا ہوں اور کہیں کہ میں تم کو گڈ انڈین ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیتا ہوں تو میں ایسا سرٹیفیکیٹ لینے سے انکار کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ کیا کسی بیٹے کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ماں کا اچھا بیٹا بننے کے لیے کسی اور کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرے۔ کسی گر وگولو الکر یا کسی گاندھی کے سرٹیفیکیٹ کے بغیر ہی ایک گڈ انڈین ہوں۔ انڈیا کی محبت میں نکلنے والے میری تنہائیوں کے آنسو جن کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا وہ بذات خود اس کے لیے کافی ہیں کہ میں اپنے آپ کو پورے معنی میں ایک گڈ انڈین سمجھوں۔ (پونہ کا سفر، نومبر 1996) سچی حب الوطنی اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ نام ہے اسٹیٹس کو پر راضی ہونے کا اور نزاعی امور میں یہی واحد قابل عمل طریقہ ہے کہ آدمی اسٹیٹس کو (status quo) پر راضی ہوجائے۔
راحت ابرار صاحب (علی گڑھ) خورشید احمد صاحب (بمبئی) اور دوسرے کئی مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں نے ہندوؤں کی کئی مجلسوں اور میٹنگوں میں کئی بار یہ کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان اچھا انڈین نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک بے اصل بات ہے۔ میں پورے معنوں میں ایک مسلمان ہوں۔ اس کے باوجود پورے معنوں میں ایک اچھا انڈین ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ اگر میں اچھا انڈین نہیں ہوں تو مہاتما گاندھی بھی اچھے انڈین نہیں تھے۔ میں نے مزید کہا کہ مجھے اچھا
انڈین بننے کے لیے کسی گرو گولوالکر کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ ایسے کسی سرٹیفکیٹ کے بغیر میں ایک اچھا انڈین ہوں۔
ان لوگوں سے میں نے مزید یہ کہا کہ ہندوؤں کے سامنے یہ کہنے کی جرأت مجھے اس لیے ہوتی ہے کہ مجھے انڈیا سے سچی محبت ہے۔ میں پورے معنی میں ایک محب وطن ہوں۔ مثلاً ایک مسلم ملک اور انڈیا کا کسی میدان میں آمنا سامنا ہو تو میں دل سے چاہوں گا کہ مسلم ملک کے مقابلے میں انڈیا کو جیت حاصل ہو۔ (ڈائری، 14 نومبر 1996)