دین کی سیاسی تعبیر
Al-Risala, January 2025, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی میں مسلمان نئے حالات سے دوچار ہوئے۔ ان کا ایمپائر، مثلاً مغل ایمپائر اور عثمانی ایمپائر ٹوٹ گیا۔ مسلمانوں کے اوپر ہر اعتبار سے مغربی قوموں کا غلبہ قائم ہو گیا۔ مغربی قو میں نئی طاقت کے ساتھ ابھریں، اور عملاً سارے عالم پر چھاگئیں، جن میں مسلم قومیں بھی شامل تھیں۔ یہ صورتِ حال مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی چیلنج بنی ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر سیاسی ردعمل کا ذہن پیدا ہوا۔ اسی زمانے میں کارل مارکس کا نظریہ تاریخ بڑے پیمانے پر کارل مارکس نے جو نظریہ تاریخ پیش کیا، اس کا خاص پہلو یہ تھا کہ اس نے تاریخ کی ایک مادی تعبیر پیش کی، جس کو مادی تعبیرِ تاریخ (material interpretation of history) کہا 1917 میں جب کارل مارکس کے پیروؤں (کمیونسٹ پارٹی) کو روس میں حکومت قائم کرنے کا موقع ملا تو اس کے بعد مارکسی فلسفہ ساری دنیا میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ان حالات کے زیرِ اثر مسلم دنیا میں ایک ظاہرہ پیدا ہوا۔ یہ ظاہر ہ زیادہ تر زمانی حالات سے تاثر پذیری کا نتیجہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کو وقت کے معیار کے مطابق ثابت کرنے کے لیے اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation of Islam) پیش کرنا شروع کیا۔
یہ وہی ظاہرہ ہے جس کو حدیث میں اتباع یہود (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3456) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں یہود کا اتباع سے مراد، زوال یافتہ امت کا اتباع دورِ زوال میں یہود کے علما نے اپنی تشریحات کو عملاً موسوی شریعت کی حیثیت دے دی۔ انھوں نے علما کی آراء پر مشتمل مجموعہ احکام تیار کیا، اور دینِ موسیٰ کی جگہ ان مجموعہ احکام کو دین کا لیبل لگا کر حقیقی خدائی دین کی مانند ان کا چرچا کرنے لگے۔ چنانچہ بعد کے زمانے میں یہودیت کا جو ورژن (version) تیار ہوا وہ تمام تر قوانین (laws) پر مبنی تھا۔ یہودیت کے اس ورژن میں معرفت اور دعوت جیسی چیزیں تمام تر حذف ہو گئیں۔ یہی واقعہ امت مسلمہ کے درمیان پیش آیا۔
یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے علما اور رہنما کے یہاں جس دین کا چرچا ہے، اس میں معرفت اور دعوت جیسی اصل تعلیمات حذف ہوگئی ہیں، اس کے بجائے سارا زور ظاہری قوانین اور احکام پر دیا جارہا ہے، جس کو بطور خود وہ اسلامی نظام کا نام دیتے ہیں۔ اسلام کو سیاسی اور سماجی نظام کے طور پر پیش کرنا، ان کا واحد نشانہ بن گیا ہے، اور معرفت اور دعوت جیسی چیزیں ان کے یہاں بھی اسی طرح حذف ہوگئی ہیں، جس طرح وہ اس سے پہلے یہود کے یہاں حذف ہوگئی تھیں۔
اس انحراف کو مبنی بر نظام اسلام (system-based Islam) کہا جاسکتا ہے۔ دین کا نتیجہ ہے کہ امت میں ایک ابدی قسم کے ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ٹکراؤ ابتدائی طور پر دوسروں کو اپنا حریف (rival) سمجھنے کی صورت میں شروع ہوتا ہے، اور پھر بڑھ کر تشدد اور جنگ اور خودکش بمباری تک پہنچ جاتا ہے۔
قرآن کو اگر کتاب معرفت کے طور پر لیا جائے تو اس کا تقاضایہ ہوتا ہے کہ قرآن کی آیتوں میں تدبر کرو، قرآن کے ذریعے خالق کی معرفت حاصل کرو، اور پھر خالق کی معرفت میں جینے والے بن جاؤ، یعنی وہ انسان جس کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے۔ گویا قرآن اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے ہدایت خداوندی کی پیروی (following) کا نام ہے۔ مگر قرآن کی نظامی یا قانونی تعبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن عملی نفاذ (implementation) کی کتاب بن گیا۔ اب امت کا نشانہ یہ قرار پایا کہ وہ موجودہ قانونی اور سیاسی نظام کو الٹ کر بدلے، اور اس کی جگہ وہ قانونی اور سیاسی نظام نافذ کرے جس کو بطور خود اس نے اسلامی نظام کا درجہ دے دیا ہے۔