Al-Risala · September 2025

یہ اسلام نہیں

Al-Risala, September 2025, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

رپورٹ کے مطابق ، امریکا کی فوج میں پندرہ ہزار مسلمان ہیں۔ یہ لوگ ایک قسم کے نفسیاتی بحران میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ کہ وہ امریکا کی فوج میں شامل ہو کر ایک مسلم ملک عراق کے خلاف جنگ کریں یا نہ کریں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی مسلمان جس کا نام اکبر تھا اور کویت میں امریکی فوج کے ساتھ تھا، اس نے ذہنی پریشانی کے عالم میں امریکی فوجیوں کے ایک کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ کر دیا اور چھ امریکیوں کو مار ڈالا۔

میرے نزدیک اس معاملہ میں امریکی مسلمانوں کے لیے جو چوائس ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ وہ امریکی فوج میں شامل ہو کر مسلم ملک کے خلاف لڑیں یا نہ لڑیں ۔ حقیقی چوائس صرف یہ ہے کہ وہ امریکی شہریت کو قبول کریں یا شہریت کو چھوڑ کر امریکا سے باہر آجائیں۔ میرے نزدیک یہ ایک منافقانہ

روش ہے کہ امریکا کی شہریت لے کر وہاں کی مادی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور جب امریکا کو کوئی قومی لڑائی پیش آئے تو اس لڑائی میں امریکا کا ساتھ نہ دیا جائے۔ آج کل اُمہ کا جو تصور مسلمانوں میں پھیلا ہوا ہے، مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ مسلمان اپنے مذہب کے اعتبار سے عالمی امت ہیں۔ مگر وطن کے اعتبار سے ان کی وفاداریاں اسی طرح اپنے وطن کے ساتھ ہونی چاہئیں، جس طرح دوسری قوموں کے لوگ اپنے مذہب کے اعتبار سے الگ تشخص رکھنے کے باوجود وطنی معاملات میں بقیہ اہل وطن کے ساتھ ہوتے ہیں۔ 26 مارچ 2003)

Printed page