ایک مثال
Al-Risala, September 2025, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
بی بی سی لندن پر ہندی خبروں کے پروگرام کے تحت ہر روز ایک آئٹم ہوتا ہے جس کا مستقل عنوان یہ ہے: بات ایک سفر کی اس آئٹم کے تحت 13 نومبر 2003 کو جو واقعہ بیان کیا گیا وہ یہ تھا۔ سمستی پور (بہار) کے ایک صاحب، مشتاق خان نے بتایا کہ وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیے کراچی (پاکستان) گئے۔ انھوں نے ستمبر 1991 میں کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ واہگہ بارڈر سے ٹرین کے ذریعہ روانہ جب وہ پاکستانی سرحد (اٹاری) پر پہنچے تو بعض مسافروں نے بتایا کہ موجودہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ہندوستان سے آنے والے مسافروں کی کسٹم کی چیکنگ نہیں کی جائے گی۔ یہ سن کر مشتاق خان صاحب بہت خوش ہوئے۔
مگر جب 11 ستمبر 1991 کو ان کی ٹرین لاہور ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو معاملہ بالکل مختلف تھا۔ یہاں کسٹم کا سرکاری عملہ ان لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑا اور نہایت سختی کے ساتھ ان کی جانچ کرنے لگا۔ مشتاق خان صاحب نے پریشان ہو کر کچھ کہا تو کسٹم کا ایک آدمی ان پر برس پڑا۔ اس نے تحقیری انداز میں کہا کہ تم تو شکل ہی سے ہندوستانی نظر آتے ہو۔ مشتاق خاں صاحب نے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا
کہ ہم ہندوستانیوں کے چہرے سے نور ٹپکتا ہے، اور تم پاکستانیوں کے چہرے سے پھٹکار ٹپکتی ہے۔ یہ واقعہ ہندوستان کے عام مسلمانوں کے جذبات کو بتاتا ہے۔ عام مسلمان جو ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں ان کے دلوں میں ہندوستان کے بارے میں اسی قسم کے جذبات ہیں۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اور مسلمانوں کی نام نہاد اردو صحافت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ لوگوں کی وہ منفی تحریریں اور منفی تقریریں وہ مسئلہ پیدا کرتی ہیں جس کی بنا پر کٹر ہندوؤں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان محب وطن نہیں۔ (ڈائری، 13 نومبر 2003) برادرانِ وطن کے ساتھ حسنِ سلوک دو صاحبان ملاقات کے لیے آئے۔ یہ مسلمان تھے، اور برطانیہ میں رہتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا کہ مسلمان کو اپنے وطن سے محبت ہونا چاہیے ۔ برطانی مسلمانوں کو برطانیہ سے اور امریکی مسلمانوں کو امریکہ سے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہاں کے لوگ ہم سے نفرت کریں، تب بھی ہم ان سے محبت کریں۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے ان کو یہ حدیث سنائی:
لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا (سنن الترمذی ، حدیث نمبر (2007)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اِمعہ نہ بنو، یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے۔ لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤ کہ لوگ اچھا سلوک کریں تب بھی تم اچھا سلوک کرو اور لوگ برا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی اخلاق ٹٹ فار ٹیٹ (tit for tat) کا اخلاق نہیں۔ اخلاق یک طرفہ حسنِ سلوک کے اصول پر مبنی ہے ۔ (ڈائری، 28 جولائی 2011)