ایک سینیر سیٹیزن کی زبانی
Al-Risala, September 2025, pp. 42–44
By Maulana Wahiduddin Khan
میری پیدائش یکم جنوری 1925ء کو یوپی میں ہوئی ۔ میں برٹش انڈیا میں پیدا ہوا، اور اب اس کے ایک سینیر سیٹیزن کی حیثیت سے آزاد انڈیا میں پہنچ گیا ہوں۔ میری پیدائش ایک ایسے گھرانے
میں ہوئی، جو فریڈم فائٹر کی حیثیت رکھتا تھا۔ میرے بڑے بھائی اقبال احمد خاں سہیل (ایم اے، ایل ایل بی) ایڈوکیٹ (1955-1884) ایک شاعر تھے۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہا تھا: غلط ہے یہ کہ فقط ہندوؤں کا لیڈر تھا کہ تھا تمام جہاں بھر کا رہنما گاندھی اقبال احمد خاں سہیل نے 1936 کے یوپی کے الیکشن میں حصہ لیا تھا، اور الیکشن جیت کر یوپی اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔ اس کے بعد جب میں بڑا ہوا، تو مجھے سوامی وویکانندا (1902-1863) کی کتاب لیٹرز آف وویکانندا پڑھنے کو ملی۔ اس کتاب کے لیٹر نمبر 271 میں سوامی وویکانند نے اپنے ایک فرینڈ کو ایک خط مورخہ 10 جون 1898 میں لکھا تھا۔ اس خط میں سوامی وویکانند نے آزاد انڈیا کے بارے میں اپنے ویژن کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:
For our own motherland a junction of the two great systems, Hinduism and Islam—Vedanta brain and Islam body—is the only hope. I see in my mind's eye the future perfect India rising out of this chaos and strife, glorious and invincible, with Vedanta brain and Islam body. (Letters of Swami Vivekananda, Letter No. 271, p. 427)
انھیں سہانی یادوں کے ساتھ میرے دن گزرتے رہے۔ میں اپنے دائرے میں آزادی کی سرگرمیوں میں شریک رہا۔ مثلاً میں نے آزادی سے پہلے متو (یوپی) جا کر جواہر لال نہرو (1964-1889) کی مجھے یاد ہے کہ لوگ ٹرینوں اور بسوں کی چھت پر بیٹھ کر متو پہنچے تھے۔ اسی طرح میں نے پھول پور (اعظم گڑھ) کے ایک جلسہ میں شریک ہو کر سبھاش چندر بوس (1945-1897) کی تقریر جیسا کہ معلوم ہے کہ سبھاش چندر بوس نے آزاد ہند فوج 1942 میں بنائی تھی۔ ان کا نعرہ یہ تھا: Give me blood, and I will give you freedom. اسی طرح میں نے ایک سوشلسٹ اجتماع (gathering) میں شریک ہو کر جے پرکاش نارائن (1979-1902) کی تقریر سنی۔ یہ جلسہ اعظم گڑھ میں ہوا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے جے پرکاش نارائن بعد کو لوک نائک کے خطاب سے مشہور ہوئے۔ اس طرح میری نوجوانی کے دن گزر رہے یہاں تک کہ 15 اگست 1947 کا دن آ گیا۔ 15 اگست 1947 کی رات کو میں نے وہ
تاریخی تقریر تو نہیں سنی، جس میں اس وقت کے وائسرائےلارڈ ماؤنٹ بیٹن (1979-1900) نے رات کو 12 بج کر ایک منٹ پر آل انڈیا ریڈیو سے اعلان کیا تھا: