Al-Risala · September 2025

Today, India is free

Al-Risala, September 2025, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

میں وائسرائے کی تقریر کو ریڈیو پر تو نہیں سن سکا، لیکن بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں نے اگلے دن صبح کو اخبار میں پڑھا۔ 15 اگست 1947ء کو میں اعظم گڑھ میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ رات کے وقت جب میں اپنی قیام گاہ سے باہر نکلا، اور شہر کی سڑکوں پر پہنچا تو میرے چاروں طرف خوشی کے دیے جل رہے تھے۔ پورا شہر روشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔

اب وہ روشنی بجھ چکی ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب لوگ مل کر ایک نئے دور کے آغاز کا دیا جلائیں— وہ ہے انڈیا کی نئی تعمیر کا دور۔ وہ دور جس کا خواب سوامی وویکانند نے دیکھا تھا۔ دور جس کی یاد میں مہاتما گاندھی نے اپنی جان دے دی۔ وہ دور جس کا آخری صفحہ لکھنے کے لیے شاید انڈیا کا مؤرخ انتظار کر رہا ہے۔

میں اب 90 پلس ہو چکا ہوں۔ لیکن میری امیدیں ابھی تک باقی ہیں۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ صبح کو اپنے کمرے سے نکل کر باہر بیٹھ جاتا ہوں، اور صبح کے سورج کے نکلنے کا انتظار کرتا رہتا مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ 15 اگست پر ہونے والے ایک پروگرام میں میں نے کسی شاعر کی زبان سے سنا تھا:

Printed page