Al-Risala · September 2025

برج محن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے

Al-Risala, September 2025, pp. 44–48

By Maulana Wahiduddin Khan

میں روزانہ طلوع سورج (sunrise) کا منظر اس امید سے دیکھتا ہوں کہ شاید آج کی صبح وہی صبح ہو، جس کے اشتیاق میں ایک فریڈم فائٹر نے ایک کتاب لکھی تھی، جس کا ٹائٹل تھا: روشن میں ہر دن نکلنے والے سورج کا استقبال ان الفاظ میں کرتا ہوں— وہ صبح کبھی تو آئے گی، وہ صبح کبھی تو آئے گی ۔

انڈیا نے پیس فل اسٹرگل (peaceful struggle) کے ذریعے اپنی تاریخی آزادی حاصل اب انڈیا کی تعمیر نو کا کام بھی صرف پیس فل اسٹرگل کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ نے پیس فل اسٹرگل کے ذریعے آزادی حاصل کر کے ایک تاریخ بنائی تھی، اب دوبارہ وقت آ گیا

ہے کہ انڈیا کی تعمیر نو کا کام پیس فل اسٹرگل کے ذریعے انجام دیا جائے۔ انڈیا کی طاقت پہلے بھی امن تھی، آج بھی امن (peace) ہے، اور آئندہ بھی امن ہی اس کی طاقت بنی رہے گی۔ 15 اگست 2020 کو انڈیا نے اپنا چوہترواں (74th) یوم آزادی منایا۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد انڈیا کی حیثیت سے اپنا رخ متعین کریں۔ یوم آزادی ہمارے لیے ٹرینڈ سیٹر (trend-setter) ہونا چاہیے۔ موجودہ سال، یعنی 2020ء کو ہمیں ٹرینڈ سیٹر سال کے طور پر منانا سوچ سمجھ کر ہمیں آخری طور پر یہ طے کرنا چاہیے کہ آزادنیشن کی حیثیت سے ہمارا نشانہ کیا ہے۔ سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ انڈیا کے بارے میں ان کا خواب یہ ہے کہ آزادی کے بعد انڈیا سپر پچول سوپر پاور بن کر ابھرے۔ انڈیا پوٹینشل طور پر بلاشبہ اسپر پچول سوپر پاور ہے۔ اس پوٹینشل کو ایکچول بنانے کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے جمہوری نظام کے تحت متحد ہو کر

میں 90 پلس ہوں، اس لحاظ سے مجھے زندگی کا لمبا تجربہ ہوا ہے۔ میں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انڈیا کے ڈیولپمنٹ کے لیے صرف ایک ہی ورکیبل ماڈل ہے۔ وہ وہی فطری ماڈل ہے، جس کو امریکن ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ امریکن ماڈل فری کمپटीशन پر بیس (base) کرتا ہے، یعنی ایسا ماحول پیدا کرنا، جس میں میرٹ کی بنیاد پر کسی کو ترقی حاصل ہو، نہ کہ فیور (favour) کی ترقی کے لیے اصل چیز کمپٹیشن ہے، نہ کہ فیور۔ امریکہ میں ہر میدان میں یہ اصول ہے کہ کمپٹیٹ یا پیرش (compete or perish)، یعنی مقابلہ کرو، یا ختم ہو جاؤ۔ عام زبان میں اس کو کرو یا مرو (do or die) کہا جاتا ہے۔

فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں کوئی گروہ فیور (favour) کے ذریعے ترقی نہیں وہ صرف مقابلہ (competition) میں اپنے آپ کو اہل ثابت کر کے کامیاب ہو سکتا کمپٹیشن ہے، جو انسان کو مین (man) سے اٹھا کر سپر مین (super-man) بناتی ہے۔ کیوں کہ خالق نے اس دنیا کو چیلنج۔ رسپانس (challenge-response) کے اصول پر بنایا فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا

اس کے سوا ہر دوسرا اصول انسان کا خود ساختہ اصول ہوگا، جو کبھی عمل میں آنے والا نہیں۔ یہی ماڈل نیچرل ماڈل ہے۔ کمپیٹیشن کا ماڈل مائیوٹیٹنگ ماڈل (motivating اس کے برعکس، نہرو نے رشین ماڈل کو اختیار کیا، جس کو وہ سوشلسٹ ماڈل کا نام مگر عملاً یہ ماڈل ڈی مائیوٹیٹنگ ماڈل (demotivating model) ہے۔ آگیا ہے کہ ہم اس ماڈل کو اختیار کریں، جو مائیوٹیشن پر مبنی ہے، اور اس ماڈل کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، جو عملاً ڈی مائیوٹیشن کا ماڈل بن جاتا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم انڈیا کے ڈیولپمنٹ کی ری پلاننگ کریں۔

انڈیا میں امریکا کے سابق سفیر جان گالبریتھ (,John Kenneth Galbraith 1908-2006) نے ایک مرتبہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا— انڈیا ایک فنکشننگ انارکی ہے (India is a functioning anarchy)۔ میں اس بیان کو کریٹیسزم کے طور پر نہیں لیتا، بلکہ چیلنج کے طور پر لیتا ہوں، اور یہ دعا کرتا ہوں کہ انڈیا ایک آئیڈیل ڈیموکریسی بنے۔

آپ کا ایک خط ’ماہنامہ تذکیر‘ کے مئی 2004 (نیز الرسالہ، مئی 2004) کے شمارے میں شائع ہوا ہے جو آپ نے عبد السلام اکبانی صاحب (ناگپور) کو لکھا ہے۔ اس میں آپ نے اُس تقریر کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے ایک سیمینار میں کی۔ اس میں آپ نے دو قومی نظریے کو علامہ اقبال اور جناح صاحب کے ذہن کی پیداوار قرار دیا اور یہ دلیل دی کہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ’’اے میری قوم‘‘ کہا۔ یعنی حاضرین کا عقیدہ یا مذہب چاہے الگ الگ ہو، ایک بستی یا ایک جغرافیائی وحدت میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے وہ ایک قوم تھے۔

اس سلسلے میں بندہ کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ قرآن تو جگہ جگہ ایمان والوں کو یٰأَیُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (اے ایمان والو) اور کافروں کو یٰأَیُّهَا الْکٰفِرُونَ (اے کافرو) کہہ کر پکارتا ہے۔ کہتا ہے کہ کیا مؤمن اور فاسق برابر ہو سکتے ہیں ۔ پھر قرآن خود جواب دیتا ہے ہرگز نہیں وہ کہتا ہے تم جس کو پوجتے ہو اُس کو ہمارا رسول نہیں پوجتا اور جس کو وہ پوجتا ہے اُس کو تم ہمارے رسول اور اُس کے ساتھیوں کا اپنا دین خالص، اور تمہارے لیے تمہارا دین (الكافرون، 6-1: 109)۔

قرآن کہتا ہے کہ مسلمین اور مجرمین کو کیا ہم ایک سطح پر رکھیں؟ تمہیں کیا ہوگیا کیسا غلط گمان ہے تمہارا (36-68:35)۔ قرآن میں اللہ کافروں کو حِزْبُ الشَّيْطٰنِ کہتا ہے اور مومنوں کو حِزْبُ الله کہہ کر ان کو انعام کی بشارت دیتا ہے (22, 58:19)۔

اور سورہ التوبہ میں اعلان کرتا ہے کہ مشرکین نجس ہیں اور یہ جو اپنے آپ کو حرم کعبہ کا متولی سمجھتے تھے ان کو اگلے سال سے حرم کعبہ کے قریب بھی نہ آنے دینا (9:28) اور جو ایمان نہیں لاتے ان سے قتال کریں۔ اور آپ ہیں کہ کافروں اور مومنوں کو ایک ہی قوم ثابت کرنے کی سعی لا حاصل میں ہلکان ہو رہے ہیں۔ (محمد صدیق ، اسلام آباد)

قرآن سے جب یہ ثابت ہو جائے کہ پچھلے نبیوں نے اپنے غیر مسلم مخاطبین سے کہا تھا کہ: "اے میری قوم" (11:89)۔ تو یہی اُسوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ قرار پائے گا۔ قرآن میں رسول اللہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم بھی وہی کرو جو پچھلے انبیاء نے کیا: فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ (6:90)۔ یعنی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔

روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً بھی یہی کیا۔ چنانچہ غزوہ أحد کے موقع پر آپ کے مخالفین نے آپ کے اوپر پتھر مارا جو آپ کے چہرے پر لگا۔ اس سے آپ کے چہرے سے خون جاری ہو گیا۔ اُس وقت آپ نے ایک پچھلے رسول کے اُسوہ پر عمل کیا۔ مسعود اس واقعے کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

كَاَنِّيْ اُنْظُرُ اِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْاَنْبِيَاءِ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُوْلُ: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3477؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1792)، یعنی، "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال بیان کر رہے ہیں جس کو اُس کی قوم نے مار کر زخمی کیا۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! تو میری قوم کو معاف فرمادے کیوں کہ وہ جانتے نہیں۔

اس معاملے میں جو کچھ میں نے کہا ہے وہ نص پر مبنی ہے۔ جب کہ آپ نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ تمام تر قیاس اور استنباط پر مبنی ہے اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ قیاس اور استنباط کے ذریعے کسی نص کی تردید نہیں ہوتی۔

اس معاملے میں آپ جیسے لوگوں کی اصل مشکل یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو مستقل طور پر دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے، مسلم اور کافر۔ اس تقسیم کی بنا پر آپ لوگوں کے نزدیک ایک طرف ابدی معنوں میں ایک قوم، مسلم قوم بن گئی ہے اور دوسری طرف ابدی معنوں میں ایک قوم غیر مسلم قوم۔ تقسیم سراسر غلط ہے۔

نہ مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام ہے اور نہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام۔ دونوں ہی کا مدار اس پر ہے کہ کس کو معرفتِ خداوندی ملی اور کس کو معرفتِ خداوندی نہیں ملی۔ اس لیے مسلسل ایسا ہوگا کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلیں اسلام سے دور ہوتی رہیں گی اور غیر مسلموں میں سے لوگ سچائی کی دریافت کر کے اللہ کے اطاعت گزار بندے بنتے رہیں گے۔

اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ قومیت کا مدار مذہب پر نہ ہو، بلکہ ہوم لینڈ پر ہو۔ مذہب کی تقسیم بدلتی رہتی ہے، جب کہ ہوم لینڈ کی تقسیم عموماً نہیں بدلتی۔ آپ نے اپنے سوال میں جن آیات کا حوالہ دیا ہے، ان کے تفصیلی مطالعہ کے لیے میری تفسیر "تذکیر القرآن" اور میری کتاب "حکمتِ اسلام" کا چیپٹر "کفر اور کافر کا مسئلہ" ملاحظہ فرمائیے۔ نوٹ: یہ مضامین اردو اور انگریزی زبانوں میں کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔

Printed page