خدا کی بادشاہت
Al-Risala, November 2025, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
بائبل کے عہد نامہ جدید میں حضرت مسیح نے اپنے حواریوں کو ایک تعلیم دعا کے انداز میں اس طرح دی ہے ۔ پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے ، تیرا نام پاک مانا جائے، تیری بادشاہی آئے ، تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے، زمین پر بھی ہو: اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کی بادشاہی جس طرح آسمانوں میں قائم ہے، اسی طرح ہم کو یہ کرنا ہے کہ لڑ کر اس دنیا میں خدا کی بادشاہی کو بھی قائم کریں۔ اس میں دراصل خدا کی اس اسکیم کو بتایا گیا ہے، جس کے تحت اس نے دنیا کی تخلیق کی۔ یعنی خدا تمام عالم کا مطلق حاکم ہے، تمام عالم میں اس کا حکم کلی طور پر قائم ہے۔ لیکن انسانی دنیا میں اس نے وقتی طور پر انسان کو آزادی دے رکھی ہے۔ ایک وقت آئے گا، جب کہ یہ آزادی ختم ہو جائے گی، اور انسانی دنیا بھی اسی طرح براہ راست طور پر خدا کے حکم کے تحت آجائے گی، جس طرح بقیہ دنیا ہے۔
اس تخلیقی منصوبہ کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے دہاپنے ہاتھ میں ۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں (39:67)۔ اس آیت کی تشریح ایک حدیث رسول میں اس طرح آئی ہے: يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ؟ حدیث نمبر 2787) ۔ یعنی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دہاپنے ہاتھ میں لپیٹ کر رکھ لے گا، اور کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں۔ منصوبہ تخلیق کی روشنی میں انسان کے لیے حقیقت پسندانہ رویہ صرف ایک ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے سامنے سرینڈر (surrender) کرے ۔ وہ بظاہر با اختیار ہونے کے باوجود اللہ کی اس دنیا میں تواضع کے ساتھ زندگی گزارے۔