Al-Risala · November 2025

محبت کا نذرانہ

Al-Risala, November 2025, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ایک آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: اور بعض انسان وہ ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ سے کرنا چاہیے ۔ ایمان والے ہیں وہ اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں (2:165)۔

آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ خارجی سہارا چاہتا ہے، ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے، اور اس کے لیے اعتماد و یقین کی بنیاد ہو۔ اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کو معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور عقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہو جاتے ہیں۔ آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ وہ کسی سے حب شدید کرے اور جس سے کوئی شخص حب شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔

موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظر نہیں آتا اس لیے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خدا کو دینا چاہیے۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں، جن کو آدمی بڑا سمجھ لیتا ہے اور پھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی تو جہات کا مرکز بن لوگ اس طرح ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں جیسا گرویدہ انھیں صرف خدا کا ہونا چاہیے۔ کی فطرت کا خلا جو حقیقتاً اس لیے تھا کہ اس کو خدا سے پر کیا جائے وہاں کسی غیر خدا کو بٹھا لیا جاتا ہے۔ انسان کے پاس کسی کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ محبت ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص خدا جیسی با کمال ہستی کو پائے اور اس کی خدمت میں اعلی درجہ کی محبت سے کم تر کی کوئی چیز پیش کرے۔ محبت سے کم کوئی چیز نہ تو خدا قبول کرتا اور نہ کسی انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ خدا کے حضور میں محبت سے کم کسی چیز کا نذرانہ پیش کرے ۔ اپنی چیزوں میں سے کم تر کسی چیز کا ہدیہ خدا کو پیش کرنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے خدا کو اس کے جلال و کمال کے ساتھ پایا ہی نہیں۔

Printed page