اللہ سے حب شدید
Al-Risala, November 2025, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حَب شدید کا حق دار صرف اللہ تعالی ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کچھ لوگ ایسے ہیں، جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے برابر (نِد) ٹھہراتے ہیں، وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی اللہ سے رکھنا چاہیے۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا عذاب دینے والا ہے۔ محبت کا مطلب گہرا قلبی تعلق (strong affection) ہے۔ محبت کا یہ گہرا تعلق صرف اللہ سے مطلوب ہے۔ مذکورہ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سے حب شدید کا راز کیا ہے۔ ساتھ حب شدید بلاشبہ ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ یہ درجہ صرف اس انسان کو ملتا ہے۔ حقیقت کو شعوری طور پر دریافت کرے کہ قوت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کامل معنوں میں صاحب قوت (All-Powerful) ہے اور دوسرے تمام لوگ بشمول انبیاء اور اکابر کامل معنوں میں بے قوت (all-powerless) ہیں۔ یہی وہ دریافت ہے جس سے کسی آدمی کے اندر اللہ کے لیے وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے، جس کو حب شدید کہا گیا ہے۔
محبت کا تعلق ہمیشہ اسباب محبت سے ہوتا ہے۔ کسی انسان کے اندر اللہ کے لیے حب شدید صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ اس کے ذہن میں اس کے لیے گہرا سبب ( strong reason ) موجود ہو۔ اس حقیقت کا زندہ شعور کہ قوت ساری کی ساری صرف ایک اللہ کے ہاتھ میں یہی وہ گہرا سبب ہے۔ جو کسی انسان کے اندر اللہ کے لیے حب شدید کا چشمہ جاری کرتا ہے۔ مزید یہ کہ نفسیاتی اعتبار سے قوت کوئی قابل تقسیم چیز نہیں۔ ادنیٰ درجے میں بھی اگر کسی اور کے لیے قوت کو مان لیا جائے تو اللہ کے لیے حب شدید کا خاتمہ ہو جائے گا، خواہ یہ دوسرا شخص سیاسی معنوں میں صاحب قوت ہو یا باعتبارِ دولت صاحب قوت ہو یا اخروی نجات کا اختیار رکھتا ہو۔ اس آیت میں نِد کا لفظ آیا ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے مثل، ہم پلہ اور شریک، وغیرہ۔
آيت میں نِد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے کہ قوت کے اعتبار سے کسی کو ادنیٰ درجے میں بھی اللہ کے برابر نہ سمجھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں بے حد حساس تھے۔ ایک صحابی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مَاشَاءَ اللهُ وَشِئْتُ ( جو اللہ چاہے اور جو آپ یہ سنتے ہی آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے سختی کے لہجے میں کہا: جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عِدْلًا (کیا تم نے مجھ کو اللہ کے برابر کر دیا)۔ تم کو اس طرح کہنا چاہیے: مَاشَاءَ اللهُ وَحْدَهُ (وہی ہوگا جو صرف ایک اللہ چاہے) مسند احمد، حدیث نمبر 2561۔
اسی طرح ایک صحابی نے تقریر کرتے ہوئے کہا: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ. وَمَنْ يَعْصِهُمَا فَقَدْ غَوَى ( جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، وہ راہ راست پر ہے اور جوان دونوں کی اطاعت نہ کرے وہ بھٹکا ہوا ہے)۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ ( تو قوم کا برا خطیب ہے) صحیح مسلم، حدیث نمبر 870۔ آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ اللہ اور رسول دونوں کو ایک ضمیر ( pronoun ) میں جمع کر کے ہمسری پیدا کی جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نِد سے مراد صرف مخصوص نام نہیں ہے بلکہ اس میں ہر وہ عمل اور فکر شامل ہے جس سے ادنیٰ درجے میں بھی اللہ کی ہمسری کا شائبہ پیدا ہوتا ہو۔ حتیٰ کہ مذکورہ احادیث کے مطابق، اس معاملے میں خود پیغمبر کا بھی کوئی استثنا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اعتبار سے اسوہ ہیں۔ مذکورہ روایات سے اس معاملے میں آپ کا اسوہ معلوم ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ایک مومن کو اتنا شدید ہونا چاہیے کہ وہ اللہ اور بندہ، حتیٰ کہ اللہ اور رسول کے درمیان ضمیر کی شرکت کو بھی گوارا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات اتنی زیادہ ناپسند ہے کہ اسی پر آدمی کی جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، جَعَلَهُ اللهُ فِي النَّارِ (مسند احمد، حدیث نمبر 3811)۔ یعنی جو شخص کسی کو اللہ کا ہمسر بنائے، اللہ اس کو آگ میں ڈال دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے حب شدید ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ لیکن اللہ سے حب شدید کی توفیق صرف اس انسان کو ملتی ہے، جو اس شعور میں جینے والا ہو کہ قوت اور اختیار تمام تر صرف ایک اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا جو مخلوقات ہیں، ان کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں، خواہ وہ کوئی عام انسان ہو یا اللہ کا پیغمبر۔