رسول کو ماننا
Al-Risala, November 2025, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
احد کی جنگ میں جب ایک غلطی سے مسلمانوں کو شکست ہوئی تو لوگ ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی عزم و توکل کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے۔ آپ کے ساتھ پندرہ افراد بھی تیروں اور تلواروں کی بارش میں جمے رہے۔ اس وقت ایک مشرک عبداللہ بن قمیہ نے آپ پر پتھر سے حملہ کیا۔ یہ دیکھ کر آپ کے ساتھیوں میں سے حضرت مصعب بن عمیر اس کی طرف بڑھے۔ دونوں میں جنگ ہوئی ۔ عبداللہ بن قمیہ نے حضرت مصعب بن عمیر کو قتل کر دیا۔ اس نے سمجھا یہ خود رسول اللہ تھے، اور اس نے آپ کو اپنی تلوار سے ہلاک کر دیا ہے۔ چنانچہ وہ یہ کہنے لگا: قَتَلْتُ مُحَمَّدًا (میں نے محمد کو قتل کر دیا)۔ یہ خبر پھیلی تو مسلمانوں میں سے جو لوگ ادھر ادھر بکھر گئے تھے، وہ بھی اس سے متاثر ہوئے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 78-73)۔
حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک طویل روایت ہے۔ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ کچھ اہل نفاق نے کہا کہ اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو اب پہلے دین میں شامل ہو جاؤ۔ اس موقع پر سچے اہل ایمان نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا۔ مثلاً حضرت انس بن نضر نے کہا: یَا قَوْمِ إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ، فَإِنَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ لَمْ يُقْتَلْ (تاریخ الطبری، جلد 2، صفحہ 520)۔ یعنی، اے لوگو، اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو محمد کا رب تو قتل نہیں ہوا۔
حضرت ثابت بن الدحداحہ نے کہا: إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ! فَقَاتِلُوا عَنْ دِينِكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ مُظْهِرُكُمْ وَنَاصِرُكُمْ (مغازی الواقدی، جلد 1، صفحہ 281)۔ اگر محمد قتل کر دیے گئے تو اللہ، بیشک زندہ ہے، تم اپنے دین کے لیے قتال کرو، اللہ تم لوگوں کا ہے۔ ایک روایت کے مطابق ایک انصاری نے کہا: اِنْ کَانَ مُحَمَّدُ قَدْ قُتِلَ فَقَدْ بَلَّغَ ، فَقَاتِلُوا عَنْ دِيْنِکُمْ (اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو وہ اپنا دین پہنچا چکے تو اب تم اس دین کے لیے لڑو)۔ پس منظر میں قرآن کی یہ آیت اتری:
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰى اَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ یعنی، محمد تو صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ ہرگز اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا، اور اللہ شکر گزاروں کو بدلہ عطا فرمائے گا۔
(دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد 2، صفحہ 249)۔
کچھ لوگ وہ ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حیثیت سے پہچانتے ہیں کہ انھوں نے دنیا کو فتح کچھ لوگ وہ ہیں جو آپ کو اس حیثیت سے پہچانتے ہیں کہ آپ نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا۔ حقیقی مومن وہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد، مبشر اور نذیر کے روپ میں پہچانے۔ جو لوگ آپ کو فاتح کے روپ میں پہچانیں ان کی پہچان صرف مؤرخ کی پہچان ہے، نہ کہ مومن کی پہچان۔ فقدانِ معرفت کا دور ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، جس میں بعد کے زمانے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے: وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا اَعْقَلَهُ وَمَا اَظْرَفَهُ وَمَا اَجْلَدَهُ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ اِيْمَانٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6497؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 143)۔ یعنی کسی شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند ہے، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان