Al-Risala · November 2025

قومٰی بے عزتی یا محبتِ رسول

Al-Risala, November 2025, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا محمود حسن دیوبندی (وفات (1920) دار العلوم دیوبند میں شیخ الحدیث تھے۔ جب وہ صحیح بخاری کا درس دے رہے تھے۔ ایک حدیث کی تشریح کے دوران انھوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ مسلمان رسول کی بے حرمتی کے نام پر سخت مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رسول کی بے حرمتی یا سبکی جو مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت بن جاتی ہے، اس کی وجہ رسول کی محبت تو نہیں ہو سکتی۔ در حقیقت رسول کی سبکی میں اپنی سبکی کا غیر شعوری احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی خودی اور انانیت مجروح ہوتی ہے، ہم جس کو اپنا پیغمبر اور رسول تم اس کی اہانت نہیں کر سکتے۔ چوٹ در حقیقت اپنی اسی ”ہم“ پر پڑتی ہے، لیکن مغالطہ یہ ہوتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے انتقام پر آمادہ کیا ہے، نفس کا یہ دھوکہ ہے۔ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن از مولانا مناظر احسن گیلانی، صفحہ 155-153)

اصل یہ ہے کہ مسلمانوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر رسول کو اپنا قومی فخر بنا رکھا ہے۔ جب کوئی شخص کوئی ایسی بات کہے جو مسلمانوں کے نزدیک رسول کی اہانت کے ہم معنی ہو تو وہ اس کو اپنی قومی بے عزتی سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے کسی واقعے پر مسلمانوں کے قومی فخر کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، اور وہ ہنگامے کرنے لگتے ہیں۔ مگر اس قسم کے رد عمل کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ اس کا تعلق اس لیے نہیں ہے کہ اسلام میں دعوت کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی کوئی شخص منفی بات بولے تب بھی اس کو ایسا انسان سمجھنا چاہیے جو سچائی سے بے خبر ہو۔ چنانچہ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے انسان کو دشمن سمجھنے کے بجائے اس کے سامنے دین حق کا پیغام پر امن انداز میں رکھا جائے۔ اور اس قسم کا رد عمل عقل پر مبنی اس لیے نہیں ہے کہ کسی شخص کے منفی کلام کا تعلق آدمی کی فطری آزادی سے ہے، جو کہ خدائی منصوبہ تخلیق کے تحت اس کو اللہ کی طرف سے ملی ہوئی ہے۔ چونکہ مسلمان اس منصوبہ تخلیق کو منسوخ نہیں کر سکتے۔ اس لیے اہانت جیسے واقعات کا خاتمہ بھی ان کے لیے ممکن نہیں۔ اس طرح کے معاملے میں مسلمانوں کے لیے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ وہ غصہ اور نفرت میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں ہدایت کی دعا کریں اور پر امن اندازی میں حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ ان کو اللہ کا

Printed page