انسان کا مقصد تخلیق
Al-Risala, November 2025, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی تخلیق اور زمین پر اس کی آباد کاری ایک انتہائی معجزاتی واقعہ ہے۔ انسان ماں کے پیٹ میں اپنی زندگی کی ابتدا کرتا ہے۔ ماں کا پیٹ ایک انتہائی مکمل قسم کا کارخانہ ہے، جس میں انسان بتدریج ایک بچے کی صورت میں وجود پاتا ہے۔ پھر ایک مقرر مدت کے بعد وہ ماں کے پیٹ سے نکل کر زمین پر آباد ہوتا ہے۔ یہاں انسان کے لیے پہلے سے ایک موافق دنیا، دوسرے الفاظ میں کسٹم میڈ یونیورس (custom made universe) موجود ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اعلیٰ انتظام کے تحت انسان کا ڈیولپمنٹ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مقرر مدت کے بعد انسان پر موت کا تجربہ پیش آتا ہے، جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے، ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے (3:185)۔
انسان کی اس تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ تخلیقی پلان کے مطابق، خالق کو انسان سے کیا مطلوب اس کا جواب قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں متعلق آیات کے الفاظ یہ ہیں: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ - إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (51:56-58) ۔ یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو بیشک اللہ ہی روزی دینے والا، زور آور، زبردست ہے۔
ان آیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق یک طرفہ پلاننگ کے تحت ہوئی یہاں خدا خالق ہے، اور انسان کا درجہ مخلوق کا۔ تخلیق کا یہ معاملہ خدا کی یک طرفہ رزاقیت کا انسان کے مقصد تخلیق کو سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ غور طلب لفظ لِيَعْبُدُون ہے، جس کی تفسیر لِیُعْرَفُون سے کی گئی ہے (تفسیر مقاتل بن سلیمان، جلد 4، صفحہ (133) ۔ یہ تفسیر اصلاً عبد اللہ ابن عباس صحابی کی ہے (المجالسۃ و جواہر العلم للدنوری، اثر نمبر 225)، اس کے بعد ان کے شاگرد مجاہد بن جبر تابعی نے اس کو نقل کیا ہے (تفسیر البغوی، جلد 4، صفحہ (288)۔ اس اعتبار سے آیت کی یہ تفسیر ایک معتبر تفسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس تفسیر کے مطابق غور کیا جائے، تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اصلا یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے ۔ کائنات میں سب کچھ تھا، لیکن خود شعوری کا ظاہر ہ (phenomena) موجود نہ تھا۔ خالق نے چاہا کہ یہاں ایک ایسی مخلوق پیدا ہو، جو شعور کی صلاحیت رکھنے والی ہو۔ انسان کی ساخت اس تفسیر کی تائید کرتی ہے۔ کیوں کہ انسان کو جن صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، وہ اس تفسیر کے ساتھ پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔
انسان کی شخصیت کا مطالعہ کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ماڈل اسی مقصد کے مطابق بنایا گیا ہے۔ انسان گویا اس بات کی پوری صلاحیت رکھتا (well equipped) ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کرے۔ خالق کی دریافت کے سوا انسان کا کوئی اور مقصد وجود نہیں۔ قرآن کی اس آیت پر مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً اللہ رب العالمین کو یہ مطلوب تھا کہ کائنات میں ایک ایسی مخلوق ہو، جو سیلف ڈسکوری (self discovery) کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرے، اور پھر اس خود در یافت کردہ معرفت کی سطح پر وہ کھڑا ہو۔ ایسی مخلوق جو اپنی ذاتی دریافت کی بنیاد پر یہ اعلان کرے کہ خدا یا ـــــ تو خالق ہے، میں مخلوق ہوں، تو دینے والا (giver) ہے، اور میں پانے والا (taker) ہوں، تو واجد (Originator) ہے، اور میں موجود(created being) ہوں۔
خالق کو یہ مطلوب تھا کہ ایک ایسی مخلوق ہو، جو اس حقیقت اعلیٰ کو شعوری دریافت کے دوسرے الفاظ میں یہ کہ ایک ایسی مخلوق جو قادر مطلق خدا کے مقابلے میں شعوری طور پر اپنے عجز مطلق کی دوسری انتہا (extent) بنائے ۔ یہی انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے۔ انسان کی ترقی کا آخری درجہ ہے۔ جو لوگ شعوری ارتقا کے اس درجے تک پہنچیں، اور اس دریافت کے مطابق، دنیا میں زندگی گزاریں، وہی وہ لوگ ہیں، جو جنت میں آباد کاری کے لیے چنے جائیں گے ۔ جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اسی عارف مخلوق کا نام انسان ہے، اور دریافت خویش کے اس درجے تک پہنچنے کا نام معرفت ہے۔