Al-Risala · November 2025

Lawyers always exploit the legal loopholes.

Al-Risala, November 2025, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی طریقہ ابلیس کا ہے۔ ابلیس چاہتا ہے کہ وہ انسان کی سوچ اور جذبات میں ایک لوپ ہول

تلاش کرے اور پھر اس لوپ ہول کو استعمال کر کے وہ انسان کو صحیح راستے سے بھٹکا دے۔ Satan always exploits the loopholes of human sentiments. مثال کے طور پر ابلیس نے آدم کو بہکانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا تھا، اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے:

فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكِ لَا يَبْلَى (20:120) - یعنی، پھر شیطان نے ان کو بہکایا۔ اس نے کہا کہ اے آدم، کیا میں تم کو ہمیشگی کا درخت بتاؤں۔ اور ایسی بادشاہی جس میں کبھی کمزوری نہ آئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس نے آدم کے اندر موجود خواہش ابدیت کو استعمال کر کے ان کو یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے۔ وسوسہ کو چھو کر یادیکھ کر نہیں جانا جا سکتا، وسوسہ کے شر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کر کے وسوسہ کو دریافت اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کو بیدار رکھے ۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ شیطان کے وسوسہ کا تجزیہ کرے اور اس طرح وہ اس سے متاثر نہ ہو۔ ایسے آدمی کی ذہنی بیداری اُس کو ایسے مواقع پر ابلیس سے محفوظ رکھنے کی ضامن بن جائے گی۔ فطرت کا عمل ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اس نے اپنی فیملی کے لیے کچھ نہیں میں نے کہا کہ کچھ نہ کرنا سب سے بڑا کرنا ہے۔ اس لیے کہ جب آپ کچھ نہیں کرتے ہیں تو فطرت کا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ اور فطرت کا نظام اس سے زیادہ کر دیتا ہے جتنا آپ کرتے زندگی میں سب سے بڑا عامل (incentive) آپ خود نہیں، سب سے بڑا عامل فطرت ہے۔

Printed page