Al-Risala · November 2025

دجال کا فتنہ

Al-Risala, November 2025, pp. 26–30

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کی اکثر کتابوں میں آیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک شخص ظاہر ہوگا۔ اس کے لیے حدیث میں دجال کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ تیس ایسے لوگ آئیں گے جو دجال کذاب ہوں گے۔ انگریزی میں دجال کو امپوسٹر (imposter) کہہ سکتے ہیں۔ دجال کا لفظ اگر چہ قرآن میں نہیں آیا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ قرآن میں موجود ہے۔ کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ تزئین کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (15:39) ۔ یعنی، ابلیس نے کہا، اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے اسی طرح میں زمین میں ان کے لیے مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کر دوں گا۔

He said, "My Lord, since You have let me go astray. I shall make the path of error seem alluring to them on the earth and shall mislead them all. اس لحاظ سے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دجال قرآن کی زبان میں مزین اکبر ہوگا، یعنی سب سے بڑا دجال، امت مسلمہ کا ایک فرد ہوگا، لیکن وہ امت کے بعد کے زمانے میں آئے گا۔ تاریخی طور پر اس زمانے میں جب کہ امت زوال کا شکار ہو چکی ہوگی۔ زوال کے زمانے میں کسی امت کے اندر جو نفسیات بنتی ہے، وہ شکست خوردگی کی نفسیات (defeatist mentality) ہوتی یہ زمانہ وہ ہوتا ہے جب کہ امت اس قابل نہیں رہتی کہ وہ عملاً اپنی شکست کو فتح میں تبدیل اس لیے امت کے اندر ایسے افراد ابھرتے ہیں، جو امت کو فرضی فخر (false pride) کی غذا دیں، جن کی لفظی باتوں سے متاثر ہو کر امت یہ سمجھے کہ وہ اس کے مخالفین کے مقابلے میں ڈیفنڈر (defender) کا رول ادا کر رہے ہیں۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کے دورِ زوال میں جو شخص ڈیفنڈر کی حیثیت سے ابھرے وہ حقیقت کے اعتبار سے ڈیفنڈر کا رول ادا کرنے والا نہ ہوگا، بلکہ وہ دجل (to deceive)

کے لبادہ میں ظاہر ہوگا۔ یعنی امت دھوکہ کھا کر اس کو اپنا ڈیفنڈر سمجھ لے گی۔ حالاں کہ وہ ڈیفنڈر نہیں، بلکہ فریبی (deceiver) ہوگا۔

احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں امت کا ایک شخص ظاہر ہوگا، جو دجال کو قتل کرے گا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4321)۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ قتل جسمانی قتل نہ ہوگا، بلکہ وہ نظریاتی قتل ہوگا۔ یعنی اس معنی میں کہ وہ شخص دلائل کے ذریعہ ایکسپور (expose) کر کے بتائے گا کہ یہ شخص ڈیفنڈر نہیں ہے، بلکہ وہ امپوسٹر ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ دجال ایک نہیں ہوگا، بلکہ بڑے دجال سے پہلے تیس دجال ظاہر ہوں گے (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4333)۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ دجال ایک انفرادی کردار نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک تسلسل کا نقطہ انتہا (culmination) ہوگا۔ دجال سے پہلے مختلف قسم کے افراد اٹھیں گے، جو گویا بڑے دجال کے لیے ابتدائی زمین تیار کریں گے۔ مثلاً پہلے مناظر (debator) قسم کے افراد ابھریں گے، اس کے بعد ایسے افراد ابھریں گے جن کو ملت اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ڈیفنڈر کا درجہ دے گی، آخر میں بڑا دجال ظاہر ہوگا۔ جس کو لوگ اپنا نجات دہندہ (saviour) سمجھیں گے۔

بڑے دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ذاتی اعتبار سے غیر معمولی شخصیت کا مالک ہوگا۔ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے زمانے میں ایسے حالات اور وسائل پیدا ہوں گے، جو اس کو موقع دیں گے کہ وہ عملاً بڑے دجال کا درجہ حاصل کرلے۔ مثلاً یہ کہ اس کے زمانے میں عالمی کمیونی کیشن وجود میں آجائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: يُنَادِي بِصَوْتٍ لَهُ يُسْمَعُ بِهِ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (كنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ یعنی دجال ایک ایسی آواز سے پکارے گا، جو مشرق اور مغرب کے دونوں سروں کے درمیان سنائی دے گی۔

مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عام انسان جیسا نہیں ہوگا، وہ کوئی ہمالیائی شخصیت ہوگا۔ بلکہ اس سے مراد امت کے زوال کی ایک حالت ہے۔ زوال کی بنا پر دجال کی باتیں امت کی نفسیات کو ایڈریس کریں گی۔ دجال کی مقبولیت اس بنا پر نہیں

ہو گی کہ وہ جسمانی اعتبار سے کوئی غیر معمولی انسان ہوگا۔ بلکہ اس کا سبب امت کی زوال یافتہ نفسیات جو اپنی بگڑی ہوئی نفسیات کی بنا پر فرضی طور پر دجال کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لے گی۔ ایک حدیث میں آیا ہے : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ : اللَّهُ اللَّهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 148)۔ یعنی قیامت اس وقت آئے گی، جب زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہیں رہے اس سے مراد دنیا کی عام قومیں نہیں بلکہ اس سے مراد امت مسلمہ ہے۔ مزید یہ کہ اللہ اللہ کہنے کا مطلب لفظی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کا اللہ رب العالمین سے عارفانہ تعلق ختم ہو جائے گا، اور غیر اللہ ان کے لیے اصل کنسرن (sole concern) کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ قرآن کے مطابق، انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ انسان اللہ رب العالمین کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنائے۔ اس کو حب شدید کا تعلق صرف اللہ رب العالمین سے ہو۔ مگر ہر زمانے میں اور آج بھی انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کو غیر مشہود پا کر کسی نہ کسی غیر خدا کو اللہ رب العالمین کے مقام پر بٹھاتا رہا ہے۔ کسی نہ کسی غیر خدا کو وہ اپنا سول کنسرن (sole concern) بناتا رہا ہے۔

The transfer of the divine seat from God to Nature. The transfer of the divine seat from God to King. The transfer of the divine seat from God to Holymen. The transfer of the divine seat from God to Dollar. The transfer of the divine seat from God to Self. The transfer of the divine seat from God to Children. مسلم دنیا میں اللہ سے عارفانہ تعلق ختم ہونے کا حادثہ اچانک پیش نہیں آیا ہے، یہ حادثہ ایک لمبے پراسس کے تحت پیش آیا ہے۔ اسلام کے دور اول میں ایشیا اور افریقہ میں جب مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم نہیں ہوئی تھیں، اس وقت مسلمانوں کا اعتماد صرف اللہ پر ہوتا تھا۔ اس کے بعد جب مسلمانوں کی سلطنتیں قائم ہوگئیں تو مسلمانوں کا اعتماد اللہ پر کمزور ہو گیا۔ اب وہ مسلم سلطنتوں پر شعوری یا غیر شعوری طور پر اعتماد کرنے لگے۔ یعنی ٹرانسفر آف ڈیوائن سیٹ فرام اللہ ٹو مسلم پولیٹکل پاور: The transfer of divine seat from God to Muslim political power.

اس کے بعد انیسویں اور بیسویں صدی میں جب مغربی قوموں کو عروج حاصل ہوا، اور مغل ایمپائر اور ٹرکش ایمپائر جیسی مسلم سلطنتیں ختم ہوگئیں۔ تو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں ایک سیاسی خلا پیدا ہو گیا۔ اس سیاسی خلا کی بنا پر مسلمانوں کے اندر خوف کی نفسیات پیدا ہو گئی۔ اب ان کا کنسرنن اپنی ملت پر قرار پایا۔

اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے مسلمان زیادہ سے زیادہ اپنی ملت کی طرف مائل ہونے ان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنا کہ اب ان کے لیے بائنڈنگ فورس صرف ان کی اپنی ملت ہے۔ اس طرح مسلمان نفسیاتی اعتبار سے دوسری قوموں سے دور اور مسلمانوں سے قریب آنے لگے۔ اس کے نتیجے میں فطری طور پر مسلمانوں کا یہ مزاج بنا کہ مسلم اور غیر مسلم کے بارے میں جو آدمی مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت کرے، وہ ان کا اپنا آدمی ہے، اور جو مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت نہ کرے، وہ عملاً ان کے حریف کا ساتھی ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے غیر شعوری طور پر عملاً مسلم قوم اصل کنسر (sole concern) بن گئی۔

اسی قسم کی فضا ہے جس میں دجال ابھرے گا۔ وہ مسلمانوں کی اس نفسیات کو فیڈ کرے گا۔ مسائل میں یک طرفہ طور پر غیر مسلم قوموں کو اور غیر مسلم میڈیا کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ اور مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر بے قصور ظاہر کرے گا۔ اس بنا پر مسلمان یہ سمجھیں گے کہ وہی ان کا اپنا آدمی ہے۔ وہی ان کے مفاد کی حفاظت کرنے والا ہے۔ یہ مزاج بڑھ کر یہاں تک پہنچے گا کہ وہ دجال کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیں گے۔

جب مسلمانوں میں اللہ پر اعتماد موجود ہو تو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ خوف کی حالت ان کے تعلق باللہ میں اضافہ کرنے والا بن جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:

اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَّقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (3:173)۔ یعنی جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمہارے خلاف بڑی طاقت جمع کرلی ہے اس سے ڈرو، لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔

دجال کے فعل کو دجل (دھوکا اور فریب) کیوں کہا گیا۔ کیوں کہ وہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو اسلام سے دور کرے گا۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام کو فروغ دے گا۔ دجال کی پوری سرگرمیوں کا مرکز یہ ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے مفروضہ دشمنوں کو دین کا لیبل لگا کر عوامی زبان میں وہ اسٹیج کے میدان میں بظاہر مفروضہ دشمنوں کو شکست دے گا۔ غلط طور پر مسلمانوں کو یہ باور کرائے گا کہ ہم نے تمھارے دشمنوں کو زیر کر دیا ہے۔ مگر دجال کا یہ سارا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام دشمنی کا معاملہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کی باتیں مسلمانوں کی توجہ کو اللہ کے بجائے ، غیر اللہ کی طرف مائل کر دے گی۔

مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کرنے والا وہ ہے، جس کی رہنمائی سے مسلمانوں میں اللہ پر یقین بڑھے۔ ان کے اندر اللہ کا تقویٰ پیدا ہو، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ ان کو سب سے زیادہ شوق جنت کا ہو۔ ان کا سب سے زیادہ اہتمام آخرت کے لیے ہو جائے۔ وہ اپنی زندگی میں وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ (9:18) کے مصداق بن جائیں ، یعنی وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ مگر برعکس طور پر ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آئے گا کہ مثلاً وہ دجال کی منفی باتوں سے دھوکہ میں آکر دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگیں گے۔ دوسری قوموں کو وہ اپنا دشمن اور سازشی سمجھنے لگیں وہ غلط طور پر یہ فرض کرلیں گے کہ ان کے ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسری قومیں ہیں۔ اس طرح وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی سرگرمیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں ان کے اندر انسانوں کو خدا کے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرنے کا ذہن بالکل ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ یہ اسپرٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ مسلمانوں کے اندر عام انسان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ جب کہ دجال مسلمانوں کے اندر سے انسانی خیر خواہی کا کلی خاتمہ کردے گا۔

احیائے اسلام کا مطلب ہے، تبدیلی زمانہ کے اعتبار سے اسلام کا مطالعہ کر کے اس کو سمجھنا، اور اپلائی کرنا۔

Printed page