Al-Risala · November 2025

آیات کا ظہور

Al-Risala, November 2025, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں دجال کو تاریخ کا عظیم ترین فتنه بتایا گیا ہے۔ دجال کے بارے میں روایتیں حدیث کی تقریباً تمام کتابوں میں آئی ہیں۔ ان روایتوں کے گہرے مطالعے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دجال کسی فرد واحد کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک دجالی دور کا نام ہے۔ یہ دور غالباً وہی ہے جس کو مغربی تہذیب کا دور کہا جاتا ہے۔ دجال کے لیے جن غیر معمولی طاقتوں کا ذکر ہے، وہ سب تمثیل کے معنی میں ہیں، اور یہ وہی طاقتیں ہیں جو جدید دور میں ٹکنالوجی کی ترقی سے انسان کو حاصل ہوئی ہیں۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے : يُنَادِي بِصَوْتٍ لَهُ يُسْمَعُ بِهِ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (کنز العمال، حدیث یعنی وہ ایسی آواز میں پکارے گا، جو مشرق و مغرب کے درمیان سنائی دے گی۔ سے مراد واضح طور پر جدید کمیونی کیشن ہے۔ اس کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آدمی ایک مقام سے بولے، اور اسی وقت تمام دنیا میں اس کی آواز سنی جا سکے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے : قُلْنَا: يَا رَسُولَ الله، وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (2937)۔ یعنی، ہم لوگوں نے پوچھا کہ زمین میں اس کی رفتار کیسی ہوگی، آپ نے کہا: جیسے بارش جس کو تیز آندھی اڑائے جاتی ہو۔ اس سے مراد واضح طور پر ہوائی سفر (air travel) ہے۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے : مَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ، وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث یعنی اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں وسائل حیات کا انفجار (explosion) ہوگا۔ اس کے نتیجے میں اسباب حیات کی بہت زیادہ فراوانی ہو جائے گی۔ مثلاً دستی زراعت کے بجائے مشینی زراعت کا ممکن ہو جانا، ڈی سالینیشن (desalination) کے ذریعہ سمندر کے پانی کا میٹھے پانی میں تبدیل ہونا، وغیرہ۔ دجال کا دور غالباً وہی دور ہے جب کہ آفاق و انفس کی آیات (دلائل) بڑے پیمانے پر ظاہر ہوں گی، اور حق کی اعلیٰ تبیین ممکن ہو جائے گی (فصلت، 41:53)۔ لیکن عین اسی زمانے میں دجالی ذہن کے لوگ بہت بڑے پیمانے پر غلط تعبیر (misinterpretation) کا کام کریں گے، اور ظاہر ہونے والے دلائل کو خالق کا کارنامہ بتانے کے بجائے یہ کریں گے کہ ان کو مخلوق کی طرف منسوب

کر دیں گے، اور اس طرح حقیقت کے ظہور کامل کے دور میں بھی لوگوں کو غلط تعبیرات میں بھٹکا دیں غالباً یہی وہ ظاہر ہ ہے جس کو حدیث میں فتنہ دہیماء (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4242) کہا گیا ہے، یعنی بڑے اندھیرے (utter darkness) کا دور۔

حقائق کی غلط تعبیر کیا ہوگی۔ وہ یہ ہے کہ علم کے تمام اداروں اور ریسرچ کے تمام شعبوں کو اس طرح منظم کیا جائے گا کہ ان کی تحقیقات انسان کے لیے خدا کی معرفت بننے کے بجائے، خدا کے وجود کا انکار یا اس سے بے خبری کا ذریعہ بن جائیں۔ مثلاً زندگی کیسے وجود میں آئی، حیوان اور انسان کیسے بنے، اس کے بارے میں حیاتیاتی ارتقا (biological evolution) کا نظریہ وضع کیا جائے گا، اور ان کو اتنا زیادہ عام کیا جائے گا کہ ہر تعلیمی ادارہ اور ہر لائبریری میں اسی نظریہ کی گونج سنائی دے گی۔ اسی طرح مادہ (matter) کے اندر مختلف خواص کیوں ہیں، ان کے بارے میں یہ نظریہ وضع کیا گیا کہ یہ سب فطرت کے داخلی قوانین (inherent laws of nature) کا نتیجہ اس قسم کے بے خدا (godless) نظریات کو علم کے مختلف شعبوں کے ذریعہ اتنا زیادہ پھیلایا گیا کہ تقریباً پوری دنیا میں ان نظریات کو شعوری یا غیر شعور طور پر برحق مان لیا گیا۔ دجال کے بارے میں حدیث میں دو اہم باتیں آئی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک رجل مومن اس کا کامیاب مقابلہ کرے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)، دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح، دجال کو قتل کریں گے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2244)۔ یہ بات غالباً دو فرد کی بات نہیں ہے، بلکہ دو گروہ کی بات ہے۔ دجال کے فتنہ کا خاتمہ غالباً دو گروہ کریں گے، ایک غالباً پیروان محمد کے منتخب افراد کا گروہ، اور دوسرا غالباً پیروان مسیح کے منتخب افراد کا گروہ۔ مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ”قتل دجال“ یا دجالی فتنہ کے خاتمے کا آغاز عملاً واقع ہو چکا اس معاملے میں مسیحی اہل علم نے بڑے پیمانے پر دجالی فتنے کے علمی مقابلہ کا کام کیا ہے۔ دجالی فتنے کے دوران ایک خطرناک نظریہ پیدا ہوا، جس کو ہیومنزم کہا جاتا ہے۔ ہیومنزم کا خلاصہ ایک شخص نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— خدا کی سیٹ پر انسان کو بٹھانا:

Printed page