Al-Risala · November 2025

یہود کی مثال

Al-Risala, November 2025, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں یہود کی تاریخ کا ایک نصیحت آمیز واقعہ سورۃ الاسراء کی ابتدائی چند آیتوں میں بیان کیا گیا ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دومرتبہ زمین میں خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹا دی اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کام کرو گے تو تم اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر تم برا کرو گے تب بھی اپنے لیے برا کرو گے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اور بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح وہ اس میں پہلی بار گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کر دیں (4:

قرآن کی ان آیتوں میں یہود کے بگاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ یہود کے اندر ہم نے مصلحین پیدا کیے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ان کے خلاف ہم نے اپنے زور آور بندے بھیجے، جنہوں نے ان کو تباہ و برباد کیا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ یہود (بنی اسرائیل) کی تاریخ میں دو بار یہ واقعہ پیش آیا۔ ان کو ایک بار 586 قبل مسیح میں بابل و نینوا کے بادشاہ نبو کدنضر (Nebuchadnezzar) کے ہاتھوں تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اور دوسری بار 70 عیسوی رومی بادشاہ رومی بادشاہ ٹائٹس (Titus) کے زمانہ میں۔ ان دونوں نے قوم یہود کو فلسطین کے علاقے سے نکال کر بیرونی علاقے میں جلاوطن کر دیا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر ماجدی، سورۃ بنی اسرائیل، یہی وہ لوگ ہیں، جن کو تاریخ میں ڈائسپورا (diaspora) کہا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ بظاہر سزا کا معاملہ تھا، لیکن اصلاً اس کا مقصد یہ تھا کہ قدیم زمانے میں یہودی نسلوں میں جو زوال آ گیا تھا، اس کو توڑا جائے، اور یہود کو دوبارہ یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی نسلوں کے اندر بیداری لائیں، اور ان کو احیا (revival) کا موقع مل سکے۔ یہ خدائی قانون بشمول امت مسلمہ دنیا کی تمام قوموں کے لیے یکساں طور پر لاگو ہے۔

ہارش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا یہ عمل یہود کے ساتھ کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1948 میں ان کو دوبارہ یہ موقع دیا گیا کہ فلسطین کے علاقے میں لوٹ کر آئیں، اور اپنی نئی زندگی شروع کریں۔ بدقسمتی سے بنو اسرائیل کی یہ واپسی مثبت واپسی نہ بن سکی۔ اس واپسی کے ساتھ یہودیوں اور عربوں کے درمیان ایک خونی تصادم شروع ہو گیا، اور اس طرح وہ امکان وہ واقعہ نہ بن سکا، جو اس معاملہ میں چھپا ہوا تھا۔

اگر مسلمان یہود کو سیاسی دشمن سمجھنے کے بجائے مدعو سمجھتے، اور خیر خواہی کے ساتھ ان کے درمیان خدائی پیغام پہنچانے کا کام کرتے تو عین ممکن تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی یا کلی طور پر وہی واقعہ پیش آتا جو اس آیت میں مذکور ہے:

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ - وَلَا تَسْتَوَی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ یعنی، اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اس کے برخلاف، یہ سوچ لینا کہ اب قوم یہود کے لیے سچائی کے راستے پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے، ایک غیر پیغمبرانہ سوچ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کے راہ راست پر آنے کے حوالے سے ہمیشہ پرامید رہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عہد رسالت سے لے کر اب تک ہر دور میں یہودیوں نے خدا کے فائنل پیغام کو دریافت کر کے اس کو قبول کیا، اور اب بھی قبول کر رہے ہیں۔ آسٹریا کے لیو پولڈ اسد اور امریکہ کی مارگریٹ جمیلہ (2012-1934)۔ طرح اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہود کے معاملے میں قرآن کی مذکورہ آیت (فصلت، 41:33-34) منطبق (apply) نہیں ہوتی ہے۔

قرآن کے اس حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو امتِ وسط کی حیثیت سے یہ حق نہیں کہ وہ ابدی طور پر یہود کو ملعون سمجھ لیں۔ مسلمانوں کا رویہ یہود کے بارے میں ہمیشہ قابلِ نظرثانی ہونا چاہیے، نہ کہ نماز روزے کی طرح ابدی حکم۔

Printed page