با مقصد زندگی
Al-Risala, November 2025, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بار میری ملاقات ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی۔ بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ ہم لوگ تو حیوان کا سب (earning animal) ہیں ۔ یعنی پڑھ لکھ کر ڈگری لینا، اور اس کے بعد پیسہ کمانا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے لیے دو اچھے آپشنز (options) ہیں۔ ایک ہے، ون مین، ون مشن (one man, one mission)، اور دوسرا ہے، ون مین، ٹو مشن (one man, two mission) ۔ ان دونوں قسم کی زندگی کو اچھی زندگی کہا جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کا ایک سوچا سمجھا مقصد ہو، اور وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول میں لگ جائے۔ ایسے انسان کے لیے ایک کام یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق، کسب مال کرے، اور پھر اپنی ضرورت کے مطابق اپنی کمائی کا استعمال کرے۔ ایسے انسان کے دو طریقے ہیں۔ ایک ، یہ ہے کہ وہ اپنا سارا وقت اپنے مقصد کے لیے وقف کر دے، اور کمائی کے معاملے کو ثانوی (secondry) بنادے، اور دوسرا یہ ہے کہ وہ اپنے وقت کا آدھا حصہ کمائی میں لگائے، اور آدھا حصہ اس کام میں جس کو اس نے اپنا مقصد حیات بنایا ہو۔ یہ دونوں طریقے یکساں طور پر درست طریقے ہیں۔
آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو دو چیزوں کے درمیان پاتا ہے۔ ایک، اپنی اور اپنی فیملی کے تقاضے۔ دوسرا، اپنی زندگی کے اصل مقصد کے تقاضے۔ آدمی اگر کسی ایک چیز کی طرف مکمل طور پر جھک جائے، تو وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ اپنی زندگی کے دوسرے تقاضے کو پورا کر سکے۔ اس لیے قابل عمل بات یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دو چیزوں کے درمیان بانٹ لے۔ آدھا مقصدی تقاضے کے لیے، اور آدھا مادی ضروریات کے تقاضے کے لیے۔ اس طرح دونوں تقاضے پورے ہوتے رہیں گے، اور وہ بقدر ضرورت ایک کامیاب انسان بن سکے گا، یعنی وہ اپنے آپ کو اس اصول پر قائم کرلے، جس کو میں ون مین ٹو مشن (one man two mission) سے تعبیر کرتا ہوں۔
ایک صاحب نے ہمارے واٹس ایپ پر درج ذیل میسج بھیجا ہے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، اسکالرز اور مفسرین کو پڑھنے کے حوالے سے میرا یہ طریقہ ہے کہ میں پڑھتا سب کو ہوں، یا یوں کہہ لیجیے کہ جس جس کو پڑھنے سننے کا جب جب موقع ملتا ہے اسے پڑھتا سنتا ہوں، اور مختلف افراد کے زیر مطالعہ افکار کے ساتھ وہ کرتا ہوں جو اس مثال سے واضح ہو جائے گا: جس طرح ایک گائے گھاس کھاتی ہے، مختلف قسم کا چارہ وغیرہ کھاتی ہے، پانی پیتی ہے، اس کے بعد اس کے معدے کا نظام غیر مفید اور غیر ضروری چیزوں کو خارج کر دیتا ہے اور صرف مفید اور کارآمد چیزوں کو ہضم کرتا ہے اور پھر اس سب کے نتیجے میں گائے دودھ جیسی عظیم اور مفید چیز نکالتی ہے۔ اسی طرح میں پڑھتا سب کو ہوں، اور جو بات ضروری اور اہم بلکہ قرآن مجید اور سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مطابق ملے اس کو لے لیتا ہوں، اور باقی باتوں کو چھوڑ دیتا ہوں۔ یعنی میں کسی مصنف یا اسکالر کی کتابوں سے استفادہ ضرور کرتا ہوں لیکن کسی کتاب سے اس حد تک متاثر نہیں ہوا کرتا جس طرح لوگوں کی اکثریت کسی اسکالر سے متاثر ہوتی ہے اور پھر اس کی فالوور بن جاتی ہے۔ میرا یہ طریقہ مطالعہ کس حد تک درست ہے، اس سلسلے میں مجھے آپ کے تبصرے کا انتظار رہے گا۔ (ایک قاری الرسالہ) اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گائے کا تقابل انسانی رویے سے کرنا درست نہیں۔ گائے مکمل طور پر خدا کے فطری قانون کے مطابق عمل کرتی ہے۔ لیکن انسان اپنے معاملے میں اپنے ارادہ و اختیار کے مطابق عمل کرتا ہے۔
آپ کا جو طریقہ ہے، وہی موجودہ زمانے میں اکثر تعلیم یافتہ لوگوں کا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ بظاہر صحیح معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے۔ اس طریقے کی غلطی یہ ہے کہ آدمی بظاہر یہ کہتا ہے کہ وہ ہر ایک کو پڑھتا ہے، لیکن وہ خود اپنے آپ کو کرائٹیرین (criterion) بنا لیتا ہے۔ اس لیے اس طرح کا پڑھنا اپنے آپ کو پڑھنا ہوتا ہے، نہ کہ سب کو پڑھنا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے آبجیکٹیو انداز میں قرآن وسنت کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کی
جائے کہ خالص قرآن وسنت کے اعتبار سے صحیح طریقہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر آپ اپنے طریقے کے مطابق، سیرت کی کوئی کتاب پڑھتے ہیں۔ اس میں آپ کو غزوات کے عنوان سے بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ غزوات ہر گز جنگ کے معنی میں نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی بیشتر تعداد جنگ کو اوائڈ کرنے کے معنی میں تھی۔
فریق ثانی نے اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں الجھانا چاہا تو آپ نے یہ کوشش کی کہ فریق ثانی کی طرف سے ہونے والے جنگی اقدامات کو جھڑپ (skirmishes) میں تبدیل کر دیا گویا جھڑپ (skirmish) کے واقعات کو سیرت نگاروں نے غزوات کا نام دیا ہے۔ کہ وہ پریکٹیکل وزڈم کا استعمال کر کے جنگ کو اوائڈ کرنے کی ایک عظیم مثال ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ نے جو کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے حکیمانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے جنگی اقدام کو جھڑپ میں تبدیل جیسا کہ خندق کے موقع پر ہوا۔
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو کسی ماحول میں زندگی گزارتا ہے۔ اس ماحول کے زیر اثر ہر ایک انسان کا اپنا ایک ذہنی سانچہ (mindset) بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اسی بنے ہوئے ذہن (conditioned mind) کے تحت چیزوں کو دیکھتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ اسی مائنڈ سیٹ کو قرآن میں شاکلہ (17:84) کہا گیا ہے۔ قرآن وسنت کو درست انداز میں سمجھنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے اس خود ساختہ شاکلہ کو توڑے اور ربانی شاکلے کی روشنی میں وہ دین کا مطالعہ کرے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے مطالعے سے درست نتیجہ اخذ کر سکے۔