لو پروفائل ، ہائی پروفائل
Al-Risala, November 2025, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ خیبر کا ایک سبق آموز واقعہ حدیث کی کتابوں آیا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفاً، وَلَا نَعْلُو شَرَفاً، وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ، قَالَ: فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِباً، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعاً بَصِيراً (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6610)۔ یعنی ابو موسیٰ اشعری نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے اور ہم یہ کرنے لگے کہ جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے یا بلندی پر پہنچ جاتے یا کسی نشیبی علاقہ میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے قریب آئے تو آپ نے کہا: اے لوگو، اپنے آپ پر رحم کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکارتے ہو، بلکہ تم اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔
یہ ایک مثال ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کا طریقہ کیا آپ ہمیشہ لو پروفائل (low profile) میں کام کرنا پسند کرتے تھے۔ ہائی پروفائل (high profile) میں کام کرنا پیغمبر اسلام کا پسندیدہ طریقہ نہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2965)۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ ایسے بندے سے محبت کرتا ہے، جو متقی ہو، دنیا سے بے نیاز ہو اور نمائش سے دور ہو۔ یہاں تک کہ اسلام میں عبادت کے معاملہ میں بھی لو پروفائل کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی حدیث میں ہے کہ ایسا صدقہ کرنے والا قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہوگا، جو اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو: رَجُلٌ تَصَدَّقَ، أَخْفَى حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 660)۔
ایسا کیوں ہے۔ لو پرو فائل کا مطلب ہے، پبلسٹی سے دور رہ کر کام کرنا۔ یعنی غیر نمایاں انداز میں کام کرنا کہ آپ کا حریف آپ کے کام کو اپنے لیے چیلنج نہ سمجھے۔ فریق ثانی آپ کے کام میں اپنے لیے خطرہ محسوس نہ کرے۔ فریق ثانی آپ کے معاملے کو اپنے لیے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردے : یہ طریقہ بہت بڑی حکمت پر مبنی ہے۔ اس طریقہ کار کی حکمت یہ ہے کہ لو پرو فائل میں کام کیا جائے تو اس سے ری ایکشن کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ شروع سے آخر تک اپنا کام معتدل انداز میں جاری رکھے، اور حسب منشا اپنے منصوبے کو تکمیل تک پہنچائے۔ لو پرو فائل میں کام کرنے کی صورت میں ایسا ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو آپ کے کام کی خبر نہیں وہ آپ کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کا منصوبہ نہیں بناتا، وہ آپ سے ٹکراؤ کی کوشش نہیں اس طرح آپ کو موقع مل جاتا ہے کہ آپ معتدل انداز میں اپنے منصوبوں کو مکمل کرسکیں۔ کی پوری انرجی صرف اپنے منصوبے کی تکمیل میں استعمال ہو۔ غیر ضروری چیزوں میں ضائع ہونے سے بچ جائے۔ اس کے مقابلے میں ہائی پروفائل کا مطلب ہے، نمایاں انداز میں کام کرنا: ہائی پروفائل میں کام کرنا، ہمیشہ مسئلہ پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ فریق ثانی بہت جلد آپ کے عمل سے آگاہ ہو جاتا ہے، اور آپ کے مقابلے میں جوابی منصوبہ بندی شروع کر دیتا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ آپ اور فریق ثانی کے درمیان چین ری ایکشن (chain reaction) شروع ہو جاتا ہے۔ لو پرو فائل میں کام کرنے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ آپ کا وقت اور آپ کی انرجی صرف اپنے منصوبے کی تکمیل میں استعمال ہوتی ہے۔ جب کہ ہائی پروفائل میں کام کرنے کی صورت میں آپ کے وقت اور آپ کی انرجی کا بڑا حصہ اصل مقصد میں لگنے کے بجائے جوابی کارروائی میں گزر جاتا ہے۔