تعمیری طریقہ
Al-Risala, January 2025, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
سیدمنصورآغا (پیدائش 1945) دہلی میں رہتے ہیں ان کا وطن میرٹھ ہے۔ یکم جولائی 1996 کی ملاقات میں انھوں نے اپنا ایک تجربہ سنایا جس میں ایک قیمتی سبق موجود ہے۔ 64-1963 میں وہ میرٹھ کالج کے طالب علم تھے۔ ان کے پولیٹیکل سائنس کے استاد مسٹر کے سی گپتا تھے۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ پر جب انھوں نے لکچر دینا شروع کیا تو یہ آغا صاحب کے لیے بہت پریشان کن ثابت ہوا۔ حال ان کے ساتھی مستعین الرحمن صاحب کا تھا۔ مسٹر گپتا نے اپنے لکچر میں تقسیم اور سیاسی تاریخ کو اس طرح بتایا جس میں سارا الزام مسلمانوں پر آتا تھا۔ دونوں طالب علموں نے آپس میں مشورہ کیا کہ کیا کرنا آخر میں انھوں نے طے کیا کہ غصہ ہونے یا مشتعل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہم لوگوں کو اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرنا چاہیے کہ ہم مسٹر گپتا کی علمی کاٹ کر سکیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ، اب دونوں اپنا خالی وقت لائبریری میں گزارنے لگے۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ اور تقسیم ہند کے تاریخی ریکارڈ کا مطالعہ کرتے۔ اس طرح وہ پوری ذہنی تیاری کے ساتھ کلاس میں جانے لگے۔ انھوں نے یہ کیا کہ جب گپتا صاحب تاریخ کی کوئی غلط تعبیر پیش کرتے تو آغا صاحب اور ان کے ساتھی فوراً انھیں ٹوکتے اور پورے حوالہ کے ساتھ کہتے کہ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ فلاں کتاب میں تو یہ بات اس طرح لکھی ہوئی ہے۔ اور فلاں مورخ نے تو اس کو اس طرح بیان کیا ہے۔
کچھ دن ایسا چلتا رہا۔ آخر کار ایک دن مسٹر گپتا نے دونوں طالب علموں کو اپنے کمرے میں انھوں نے کہا کہ میرے دل میں تم لوگوں کی بہت قدر ہے۔ تم لوگوں نے میری تصحیح کر دی اور مجھے روشنی دکھائی۔ اس کے بعد مسٹر گپتا کے لکچر کا انداز بالکل بدل گیا۔ وہ آخر وقت تک دونوں مسلم طالب علموں کے ساتھ نہایت عزت کا سلوک کرتے رہے۔
اس طرح کے کسی مسئلہ کے حل کا یہی تعمیری طریقہ ہے۔ اور مسائل ہمیشہ تعمیری طریقہ سے حل ہوتے ہیں، نہ کہ تخریبی طریقہ سے۔
سوال: مولانا، فسادات کے بارے میں عموماً اس طرح کی خبریں آتی ہیں کہ ہندو لیڈروں کی اشتعال انگیزی فسادات کا باعث بن جاتی ہے۔ آپ بتائیں گے کہ فسادات کا آغاز کس طرح ہوتا ہے اور فوری اسباب کیا ہوتے ہیں؟
جواب: بڑا اہم سوال ہے کہ فساد کس طرح شروع ہوتا ہے۔ اس کو سمجھانے کے لیے میں آپ کو دو مثالیں دوں گا۔
علی گڑھ میں ہر سال دنگل ہوتا ہے، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوتے ہیں۔ اگست 1978 کے ایک دنگل میں مسلم پہلوان کو شکایت ہوئی کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ اس کی شکایت کا نشانہ سریش بھورے تھا جس سے اس کی رقابت چلی آرہی تھی۔ دنگل کے بعد مسلمان پہلوان نے طے کر لیا کہ سریش بھورے سے انتقام لینا ہے۔ اکتوبر کی ایک شام کو انصار احمد پہلوان اور اس کے ساتھی سریش بھورے کو اکیلا پا کر اس پر حملہ آور ہو گئے اور چھرے سے وار کر کے اس کو زخمی کر دیا۔ وہ مر گیا۔ سریش بھورے کا مرنا شہر کے بارے ہوئے فرقہ پرست لیڈروں کے لیے ایک نادر موقع تھا۔ انہوں نے جلوس نکالا اور نعرہ لگایا کہ خون کا بدلہ خون۔ اشتعال انگیز تقریریں کر کے پورے شہر کی فضا کو خراب کر دیا، یہاں تک کہ فساد شروع ہو گیا اور علی گڑھ جل کر خاکستر ہو گیا۔ ہندو مسلم فسادات اکثر ان مقامات پر ہوتے ہیں جہاں مسلمان اقتصادی اعتبار سے نسبتاً بہتر ہیں۔ اس لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ یہ مسلمانوں کی اقتصادیات کو برباد کرنے کی منظم سازش ہے۔ حالانکہ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جن مقامات پر بہتر حیثیت میں ہیں، وہیں وہ جذباتی حرکتیں بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کسی آدمی کو پرجوش کارروائی کرنے کے لیے ہمیشہ سماجی پشت پناہی درکار ہوتی ہے۔ یہ سماجی پشت پناہی ان مقامات کے مسلمانوں کو بآسانی مل جاتی ہے، جہاں وہ اقتصادی اعتبار
سے بہتر ہوں۔ مسلمانوں کے آپس کے جھگڑے اور اختلافات بھی انہی مقامات پر زیادہ ہوتے ہیں جہاں انہیں کسی قدر معاشی استحکام حاصل ہو۔ اسی طرح مسلم اور غیر مسلم تصادم بھی اکثر ان مقامات پر ہوتا ہے جہاں مسلمان عددی اور اقتصادی اعتبار سے اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ خدا اور رسول کا حکم ہے کہ اپنے آدمی کو ابتدائی شرارت کے وقت پکڑو۔ مگر وہاں مسلمانوں کے قائدین صرف اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب فساد بڑھ کر اپنی عمومی بربادی تک پہنچ جاتا ہے۔ ابتدائی چنگاری کو بھڑکانے والے کا ہاتھ پکڑنے کے لیے کوئی نہیں اٹھتا۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستا تا ہے تو کوئی بھی موقع پر پہنچ کر ظالم مسلمان کا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ حالانکہ اس قسم کے مظلوم مسلمان اکثر منفی جذبات کا شکار ہو کر ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جس کی سزا پورے معاشرے کو بھگتنی پڑتی ہے۔
اسی طرح جب ایک غیر مسلم سے شکایت پیدا ہونے پر ایک مسلمان اس کے خلاف تخریبی منصوبہ بناتا ہے یا جب کچھ مسلمان غیر مسلموں کے سامنے یہ بے معنی مطالبہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہماری نماز کے وقت عبادت گاہ کی گھنٹیاں نہ بجاؤ، یا مسجد کے سامنے سے اپنا جلوس نہ لے کر جاؤ تو ایسے مواقع پر مسلمانوں میں سے کوئی نہیں اٹھتا کہ ان سر پھرے مسلمانوں کو روکے۔ خدا کی ہدایت یہ ہے کہ ہم انفرادی فساد کے وقت متحرک ہوں۔ مگر ہمارے تمام لیڈر صرف اجتماعی فساد کے وقت متحرک ہوتے ہیں۔ یہ خدا کے راستے پر چلنے کے بجائے خود ساختہ راستے پر چلنا اور خود ساختہ راستے پر چلنا خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے۔
مئی 1984 میں بھیونڈی تھانے اور بمبئی (ممبئی) کے علاقہ میں خونریز فساد ہمارے مسلمان رہنماؤں کے اندازِ کار کی بہترین مثال ہیں۔ یہ فساد اتنا شدید تھا کہ اخبارات نے اسے زمین کے اوپر جہنم قرار دیا۔ واقعہ یہ تھا کہ انتہا پسند ہندو تنظیم کے لیڈر بال ٹھاکرے نے اپریل 1984 کو چوپاٹی کے مقام پر ایک تقریر کی۔ نہ ملک کی کسی نیوز ایجنسی نے اس تقریر کو نشر کیا اور نہ کسی اخبار نے اس کی رپورٹ شائع کی۔ بعض مقامی نوعیت کے مراٹھی اخبارات نے اس کی رپورٹنگ کی، لیکن یہ اشتعال انگیز
البتہ بنگلور کے اردو اخبار ”نشیمن“ نے اس کی رپورٹ شائع کی وہ مسلمانوں کے لیے خاصی اشتعال انگیز ثابت ہوئی۔ بعد میں بمبئی (ممبئی) کے ایک اخبار ”عالم“ نے اس کو تیز و تند سرخیوں کے ساتھ نقل کیا۔ اس کے بعد حسب عادت اردو اخبارات نے پر شور تبصرے کیے۔ ان اخبارات کا کہنا تھا کہ بال ٹھاکرے نے قرآن اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کی ہے۔ حالانکہ بال ٹھاکرے نے دہلی کے انگریزی میگزین ”لِنک“ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اس کی تردید کی اور اسے جھوٹ قرار دیا اور یہ پیشکش بھی کی کہ تقریر کا ٹیپ سن لیا جائے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ 3 مئی کو بھیونڈی میں شیو جینتی کا جلوس نکلا، حالانکہ قبل ازیں اس کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ مسلمانوں کو جلوس پر اعتراض تھا۔ بہر حال حفاظتی اقدامات کے سبب جلوس عافیت سے گزر گیا۔ 11 مئی کو مسلمانوں نے ایک غصہ بھر اجلوس نکالا، جوشیلی تقریریں کیں اور بال ٹھاکرے کی مورت بنا کر اس کو پرانی چپلوں کا ہار پہنایا گیا۔ اس فضا میں 16 مئی کو شب برات منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھیونڈی کی سڑکیں اور گلیاں جن کی گندگی کو ختم کرنے کا کبھی کسی مسلمان کو خیال نہ آیا تھا، ان کو سبز جھنڈیوں سے سجایا جانے لگا۔ جھنڈے کا جہاد یہاں تک پہنچا کہ پر جوش مسلمانوں نے ایک مقام پر جہاں پہلے سے شیو سینا کا جھنڈا لگا ہوا تھا، وہاں سبز جھنڈ الہرا دیا، جو ان کے خیال میں اسلامی جھنڈا اس اشتعال کی فضا میں 16 مئی کو شیو سینا کے لیڈروں نے بمبئی بند منایا جس نے اشتعال کو آخری حدوں تک پہنچا دیا اور پھر 17 مئی کو بھیونڈی میں فساد پھوٹ پڑا۔ یہ فساد اتنا شدید تھا کہ چند دنوں کے اندر اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔ جانی نقصان اس کے علاوہ تھا۔ فساد کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کی مدد لینی پڑی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نقصان ایک طرفہ تھا۔
حدیث میں مومن کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ ایسا اقدام نہیں کرتا جس سے نمٹنے کی اس کے اندر طاقت نہ ہو (سنن الترمذی، حدیث نمبر 4016)۔ مگر یہاں مسلمانوں نے ایسا اقدام کیا جس میں وہ چھری کے مقابلہ میں خر بوزه ثابت ہوئے۔ جو مسلمان اس قسم کے غیر حکیمانہ افعال میں مبتلا ہوں، سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی اسلامیت کو کس خانہ میں رکھا جائے؟