ڈائری 1986
Al-Risala, November 2025, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
آج کل کچھ لوگ مجھے بے حد پریشان کیے ہوئے ہیں۔ ان باتوں کو سوچ کر اچانک میرا دل بھر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میری زبان سے نکلا:
جنھوں نے سورج اور چاند کی بڑائی کی ان کو لوگوں نے اوتار بنا لیا۔ جنھوں نے انسانوں کی بڑائی کی، ان کو اپنا بزرگ اور پیشوا بنا لیا۔ جنھوں نے قوم اور ملک کی بڑائی کی، ان کو اپنا لیڈر بنا میں نے ہر ایک کو چھوڑ کر صرف خدا کی بڑائی کی تو سارے لوگ میرے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ دنیا جہاں ہر بڑائی لوگوں کو گوارا ہے، مگر ایک خدا کی بڑائی کسی کو گوارا نہیں۔ میرے اوپر کوئی شخص یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ میں نے اللہ کی وحدت میں کوئی کمی کی۔ رسول کو نہیں مانا۔ آخرت کے حساب کتاب کا انکار کیا۔ میرے اوپر سارا الزام صرف یہ ہے کہ تم ہمارے اکابر پر تنقید کیوں کرتے ہو۔ مزید یہ کہ کوئی شخص آج تک یہ ثابت نہ کر سکا کہ میری تنقید قرآن وحدیث کے اعتبار سے غلط ہوتی ہے۔
کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جن کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہ ہو تب بھی وہ ضروری سمجھتے ہیں جو ایک بندہ کے اوپر دست درازی کا کوئی حق نہ رکھتے ہوں، پھر بھی وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اس پر لازماً دست درازی کریں۔
آہ، وہ انسان جو خدا کی پکڑ سے اتنا بھی نہیں ڈرتا، جتنا کوئی شخص چیونٹی کے کاٹنے سے ڈرتا ہے۔ 14 جولائی 1986 12 اور 13 جولائی کو میں پٹنہ میں تھا۔ پٹنہ کے مدرسہ شمس الہدی (قائم شدہ 1912) میں مجھے استقبالیہ دیا گیا۔ اس استقبالیہ کا آغاز اس جملہ سے ہوتا تھا ۔ ہم عظیم آباد کے اس تاریخی شہر میں اپنے مہمانِ خصوصی کا استقبال کرتے ہیں۔
اورنگ زیب (1707-1618) کے ایک پوتے کا نام شہزادہ عظیم (1712-1664) تھا۔
اسی کے نام پر پٹنہ کا نام عظیم آباد رکھا گیا تھا۔ مگر انگریزوں کے زمانے میں وہ دوبارہ پٹنہ بن اس وقت سے آج تک تمام سرکاری کاغذات میں اس شہر کا نام پٹنہ ہی لکھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پٹنہ کسی ”پٹن دیوی“ کے نام سے ابتداء موسوم ہوا تھا۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ مزاج ان کے لیے غیر ضروری مسائل پیدا رکھنے کا سبب بنا جس شہر کو ہند و متفقہ طور پر ”پٹنہ“ کہتے ہوں، اس کو ”عظیم آباد“ کا نام دینا غیر ضروری قسم کی نفسیاتی پیچیدگی پیدا کرنا ہے۔ اور ایک طبقہ کو یہ کہنے کا موقع دینا ہے کہ مسلمان اس ملک میں دوبارہ اورنگ زیب کا عہد واپس لانا چاہتے ہیں۔
1971 میں، میں پاکستان گیا تھا اور لاہور میں ٹھہرا تھا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ لاہور میں تقسیم سے پہلے ہندوؤں نے ایک کالونی بنائی تھی، جس کا نام انھوں نے کرشن نگر رکھا تھا۔ تقسیم کے بعد مسلمانوں نے اس کا نام بدل کر اسلام نگر کر دیا۔ دوسری طرف کشمیر میں ایک شہر ہے، جس کا پرانا نام اننت ناگ ہے۔ اس کا نام بھی مسلمانوں نے بطور خود بدل کر اسلام آباد رکھ چھوڑا ہے۔ کاغذات میں یہ شہر اننت ناگ کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے خود ساختہ کاغذات میں اسلام آباد۔ مسلمانوں کا یہ معاملہ بھی عجیب ہے۔ وہ پاکستان میں بھی اسلام آباد بنانا چاہتے ہیں اور ہندوستان میں بھی اسلام آباد۔ جو لوگ اتنے غیر حقیقت پسند ہوں، ان کے لیے موجودہ دنیا میں کوئی مستقبل مقدر نہیں۔