15 جولائی 1986
Al-Risala, November 2025, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
ابوالبرکات علوی (نظام پور، اعظم گڑھ) دہلی آئے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے ایک بابری مسجد کے مسئلہ پر ایک مولانا صاحب نے دھواں دھار تقریر کی۔ تقریر کے دوران انھوں نے بار بار پرجوش طور پر کہا۔
بابری مسجد آج خون مانگتی ہے۔
ابوالبرکات صاحب تقریر کے بعد ان سے ملے اور کہا کہ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ درست ہے۔
آپ سے صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ بابری مسجد خون مانگتی ہے۔ کو صرف اتنا اور بتادیجیے کہ کس کا خون، آپ کے لڑکوں کا، یا قوم کے لڑکوں کا۔ اگر آپ اس کے لیے اپنے لڑکوں کا خون دینے کے لیے تیار ہوں تو اس کے بعد میں بھی اپنے بچوں کا خون پیش کروں گا۔ یہ سن کر مولانا صاحب خاموش ہوگئے اور کچھ دیر کے بعد فرمایا کہ آپ الرسالہ تو نہیں پڑھتے؟ یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ الرسالہ نے پہلی بار قوم کو سوچنے سمجھنے کی طاقت دی ہے۔ باشعور ہوتے جارہے ہیں۔ جب کہ اس سے پہلے قوم کے پاس بے شعوری کے سوا اور کوئی سرمایہ نہ تھا۔ ہمارے قائدین نے قوم کا ذہن اتنا بگاڑ دیا تھا کہ ہماری قوم سوچنے سمجھنے کی طاقت سے محروم ہو جذباتی ہنگاموں کا نام لوگوں کے نزدیک پروگرام تھا۔ اور جو شیلے اشعار اور لفظی تقریروں کو لوگوں نے اسلامی فکر سمجھ لیا تھا۔ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے الرسالہ کو نئے انقلاب کا ذریعہ بنایا۔ 16 جولائی 1986 17 جولائی 1986 کے اخبارات میں بیک وقت دو خبریں شائع ہوئی ہیں۔ ایک خبر میں نے ٹائمس آف انڈیا (15 جولائی ، ص 16) پر دیکھی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمد آباد کے فساد میں مسلمانوں کے قتل پر اظہار تشویش کیا۔
دوسری خبر میرے سامنے انڈین ایکسپریس (15 جولائی ، ص 7) ہے۔ اس میں ایک خبر ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں اس وقت تین لاکھ کی تعداد میں بہاری مسلمان ہیں، جنہوں نے بنگلہ دیش کرائسس کے وقت اپنے کو پاکستانی لکھوایا تھا۔ وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں، مگر پاکستان ان کو لینے سے انکار کر رہا ہے۔ ان ”بہاری مسلمان“ نے اولاً ہندوستان چھوڑا۔ اس کے بعد وہ بنگلہ دیش کی شہریت سے محروم ہوئے اور اب پاکستان میں داخلے کی اجازت سے بھی محروم ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو پاکستان کے لوگ زور و شور کے ساتھ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ دوسری طرف ان پاکستانیوں کا حال یہ ہے کہ وہ خود مسلمانوں کے ساتھ اس سے زیادہ بڑی بڑی زیاد تیاں کر رہے ہیں جو ہندوستان کر رہا ہے۔
جب میں اس قسم کی خبریں پڑھتا ہوں تو میرے اندر سخت اشتعال پیدا ہو جاتا ہے۔
جرم ہے کہ آدمی خود جس فعل میں مبتلا ہو اسی فعل کے لیے دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرے اور اس کو اسلامی اخوت کا نام دے۔ یہ کفر سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے۔ کافر کھلم کھلا منکر حق ہوتا ہے اور یہ لوگ وہ ہیں جو کافرانہ فعل کرتے ہیں اور اس پر اسلام کا لیبل لگائے ہوئے ہیں۔