ایک انٹرویو
Al-Risala, November 2025, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
( زیر نظر انٹرویو کی پہلی قسط الرسالہ جولائی ۔ اگست 2025 میں شائع ہو چکی ہے ) س: آپ کے خیال میں اہل مدارس اور علما بین مذاہبی مکالمے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ ج: میرے خیال میں وہ اس تعلق سے نہایت مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے وہ اس میں مشغول نہیں ہیں۔ مدارس کو غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول کے فائدے کا احساس میرا خیال ہے کہ اس سے طلبہ پر منفی اثر پڑنے کے بجائے ان پر مثبت اثر پڑے گا اور اس سے ان کی مذہبیت کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔
اس سلسلے میں میں مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک شاگرد کا واقعہ سنانا چاہوں گا۔ مولانا سے اپنے لڑکے کی مذہب سے بیگانگی کی شکایت کی ۔ مولانا تھانوی نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اس لڑکے کو عیسائی اسکول میں بھیج دیں۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور اس کے نتیجے میں وہ لڑکا ایک با عمل مسلمان بن گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں اس لڑکے کو مذہب کے تعلق سے مستقل چیلنج در پیش تھا۔ اس کے عیسائی ساتھی اس سے اسلام سے متعلق سوالات کرتے رہتے تھے۔ اس کو اسلام کے متعلق پڑھنا پڑا۔ اسی طرح ان لوگوں نے اس سے نماز کے بارے میں سوال کیا تو اس کے دل میں نماز پڑھنے کا داعیہ پیدا ہوا اور وہ اس کا پابند ہو گیا۔
اس حوالے سے میں خود اپنی ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ تقریباً نصف صدی قبل جب میں لکھنو میں تھا، تو میری ایک ہندو اسکالر سے ملاقات ہوئی، جو ملحد تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تاریخ سے ہٹا دیا جائے تو اس سے دنیا کی تاریخ میں کوئی فرق واقع نہیں میں اس کے اس بیان سے بالکل نہیں بھڑکا۔ اس کے بجائے میں نے اس جملے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا۔ اس کے بعد میرے ذہن میں ایک خاص طرح کا فکری عمل شروع ہو گیا۔ رسول اللہ کو آخری پیغمبر اور پوری انسانیت کے لیے ایک نمونہ تصور کرتے ہیں۔ مذکورہ شخص کے اس جملے نے مجھے مجبور کیا کہ میں رسول اللہ کے تاریخی رول کا مختلف کتابوں کے حوالے سے مطالعہ اس مطالعہ کا نتیجہ میری کتاب ” اسلام دورِ جدید کا خالق “ کی شکل میں سامنے آیا۔
یہ کتاب ایک ملحد شخص کے ساتھ انٹرایکشن کا ثمرہ ہے۔ اگر میری اس شخص سے ملاقات نہیں ہوتی تو میں متعلقہ موضوع کے مطالعہ پر آمادہ بھی نہ ہوتا۔ بہرحال اس حوالے سے میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اختلاط سے خطرے کا جو تصور ہے، وہ بالکل بے بنیاد جو لوگ اس خطرے کے احساس سے دوچار ہیں، وہ اس چیلنج کی قدر و قیمت کو نہیں سمجھ رہے ہیں، جو اس اختلاط اور میل جول کی دین ہے۔ یہ میل جول بجائے خود تعلیم ہی کی ایک شکل اور ذریعہ اگر مدارس کے لوگوں کا دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول ہو تو میرے خیال میں ہندوستان میں اس سے ہندو - مسلم تعلقات کے باب میں کافی فائدہ حاصل ہوگا۔ س: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ میل جول کو فروغ دینا علما کی ذمہ داری ہے؟ اگر علما میل جول میں دلچسپی نہ لیتے ہوں تو؟
ج: میں مدرسوں کو اس کا الزام نہیں دے رہا ہوں۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ دوسروں کے درمیان اسلام کا تعارف پیش کرنا یہ باہمی میل جول پر منحصر ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں اللہ کا ایک پیغام لے کر مبعوث ہوا ہوں۔ تم لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ تم لوگ میرے بعد اسے پوری انسانیت تک عام کردو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 67)۔ چنانچہ اس کے بعد آپ کے اصحاب کی بڑی تعداد تبلیغ وارشاد کے لیے مکہ ومدینہ کو چھوڑ کر اس سے متصل علاقوں میں چلی گئی۔ ہے کہ مدینہ اور مکہ میں اصحاب رسول کی بہت کم قبریں ہیں۔
س: علما کی طرف سے دوسروں کے ساتھ تعامل میں سب سے بڑی رکاوٹ زبان کا مسئلہ ہے۔ علما کی اکثریت اردو کے علاوہ دوسری زبان سے واقف نہیں ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ اس سلسلے کی ایک بڑی مشکل ہے؟
ج: جہاں چاہ وہاں راہ۔ میں نے انگلش اور ہندی خود سے سیکھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر مدارس کے فارغین صحیح عزم سے کام لیں تو وہ بالکل سیکھ سکتے ہیں۔ جب ایک شخص دوسروں سے میل قائم کرتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اس کی زبان بھی سیکھتا جاتا ہے اور ان کی تہذیب و روایت سے بھی اس کی آشنائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔