نئے سال کے لیے ایجنڈا
Al-Risala, January 2025, pp. 5–9
By Maulana Wahiduddin Khan
ایجنڈا ہمیشہ دو چیزوں کی بنیاد پر بنتا ہے۔ ماضی کا تجربہ اور حال و مستقبل کے امکانات۔ دونوں پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کا ایجنڈا یہ ہونا چاہیے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرائیں اور نئے امکانات کو جان کر ان کو بخوبی طور پر استعمال کریں۔
اس اعتبار سے غور کیجیے تو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ وہ منفی طرزِ فکر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں اور پوری طرح مثبت طرزِ فکر کو اختیار کر لیں۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے جو بے نظیر کامیابی حاصل کی اس کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ ان میں کا ہر فرد مکمل معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) کا مالک تھا۔ وہ، قرآن کے مطابق عسر میں یسر (94:5-6) کا پہلو تلاش کر لیتا تھا۔ وہ بظاہر شکست کے واقعہ میں فتح کا راز دریافت کر لیتا تھا۔ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں 14 ھ میں ایران فتح ہوا۔ فتح سے پہلے کا واقعہ ایران کے شہنشاہ یزدگرد نے مسلم لشکر کے سردار سعد بن ابی وقاص کو پیغام بھیجا کہ بات چیت کے لیے اپنا سفیر بھیجیں ۔ چنانچہ مسلمانوں کا ایک وفد ایرانی شہنشاہ یزدگرد سے گفتگو کے لیے اس کے دربار میں گیا۔ کسی بات پر یزدگرد ناراض ہو گیا ، اور اس نے مسلم ڈیلیگیشن کی بے عزتی کے لیے ان کے ایک رکن عاصم بن عمر و کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھوا کر واپس کر دیا۔ وہ اپنے سر پر مٹی کا ٹوکرا لیے ہوئے سعد بن ابی وقاص کے پاس پہنچے۔ مگر حضرت سعد نے اس کو منفی طور پر نہیں لیا، بلکہ یہ کہا کہ تم کو خوش خبری ہو۔ خدا کی قسم ، اللہ نے ہمیں ان کے اقتدار کی کنجیاں دے دیں (أَبْشِرُوا فَقَدْ وَاللَّهِ أَعْطَانَا اللَّهُ أَقَالِيدَ مُلْكِهِمْ) ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم سلطنت ہر روز ترقی کرتی گئی اور ایرانی سلطنت سمٹتی چلی گئی (البدایة والنهایة، جلد 9، صفحہ 628)۔
یہی اسلام کی تعلیم ہے کہ عسر میں یسر دیکھو۔ منفی واقعہ میں بھی مثبت پہلو تلاش کرو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر، نہ کہ مجبوری کے تحت، منفی سوچ اور منفی بولی کو مکمل طور پر ترک
وہ شعوری فیصلے کے تحت مثبت طرزِ فکر کو پوری طرح اپنا لیں۔
موجودہ دور کی سب سے خوش آئند علامت یہ ہے کہ جدید معاشی انفجار نے دنیا کے سیاسی اور معاشی اور سماجی حالات کو یکسر بدل دیا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ امید افزا پہلو یہ ہے کہ ہر قسم کے مواقع ہر ایک کے لیے لامحدود حد تک کھل گئے ہیں۔ اس کی ایک علامت یہ ہے کہ جمعہ اور عید کے موقع پر مسجدوں کے سامنے کاروں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ اور ٹھیلے والوں کی جیب میں اسمارٹ فون بج کر یہ اعلان کرتا ہے کہ معاشی مواقع اب اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ خواص سے لے کر عوام تک ہر ایک کو اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح سیاسی اور سماجی شعبوں میں بھی حالات پوری طرح بدل گئے ہیں۔
ان تبدیلیوں کا پہلا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اب خارجی حالات کے مقابلے میں دفاع یا تحفظ کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا۔ اب مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ نئے حالات اور نئے مواقع کو پہچانیں اور اپنے اندر وہ اہلیت (competence) پیدا کریں جن کے ذریعے وہ نئے مواقع کو تمثیل کی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بارش ہوچکی ہے۔ اب کسی کسان کو صرف اس کی بے عملی ہی محروم رکھ سکتی ہے، درست منصوبہ بندی کے ساتھ عمل کرنے والے کسان کے لیے اب محرومی کا کوئی سوال نہیں۔ یہاں اس سلسلے میں چند ضروری پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ نئے حالات نے انگریزی زبان اور کمپیوٹر لٹریسی کی اہمیت بہت زیادہ بڑھادی ہے، یعنی انفارمیشن ٹکنالوجی (IT)۔ اب ترقی کے لیے انگریزی زبان اور کمپیوٹر لازمی ہوچکے ہیں۔ دیوبند نے اس اہمیت کو محسوس کیا اور اپنے یہاں انگریزی اور کمپیوٹر کا کورس باقاعدہ طور پر جاری میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے تمام مدرسوں اور دینی اداروں کو بلا تاخیر ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اب تک مسلم نو جوانوں میں یہ رجحان رہا ہے کہ وہ زیادہ تر آرٹ سائڈ (Humanities) میں داخلہ لے کر پڑھتے تھے۔ یہ رجحان اب زمانے کے خلاف رجحان بن چکا ہے۔ آرٹ سائڈ میں بی اے اور ایم اے کرنے کی معاشی اعتبار سے اب بہت کم افادیت رہ گئی ہے۔ مسلم نو جوانوں کو اب بلا تاخیر یہ
کرنا ہے کہ وہ انگریزی زبان اور ٹیکنیکل سبجیکٹس میں اچھی لیاقت پیدا کریں۔ خوش قسمتی سے آج کل ہر جگہ اس کی سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو ان سہولتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ مسلمان شادیوں میں اور دوسری تقریبات میں بہت زیادہ خرچ اس قسم کا خرچ فکری پس ماندگی کی علامت ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ خرچ کے ذرائع بہت محدود تھے تو لوگ شادیوں اور تقریبات میں اپنا پیسہ خرچ کیا کرتے تھے۔ اب پیسے کے استعمال کے دوسرے زیادہ وسیع اور تعمیری ذرائع وجود میں آچکے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیسے کو جدید تعمیری کاموں میں خرچ کرنا سیکھیں۔ مثلاً اعلیٰ معیار کے اسکول، ٹیوشن بیوروز، پروفیشنل ٹریننگ سنٹر، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں ہر چیز کا معیار بدل گیا ہے۔ مثلاً پچھلے دور میں خاندانی منجن کی اہمیت ہوا اب سائنسی طریقوں سے بنائے ہوئے ٹوتھ پیسٹ نے اہمیت اختیار کر لی ہے۔ پچھلے دور میں شاہی نسخے بڑی چیز سمجھے جاتے تھے۔ اب ساری اہمیت سائنٹفک فارمولے کی ہوگئی ہے۔ میں بیل گاڑی لوہے کے دھرے پر چلتی تھی، اب گاڑیاں بال بیرنگ کے اوپر دوڑتی ہے۔ چاہیے کہ زمانے کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور نئی تکنیک کو سیکھ کر ہر میدان میں اعلیٰ ترقی حاصل کریں۔ 1947 کے بعد مختلف اسباب سے مسلمان رزرویشن کو اپنے لیے کامیابی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جدید حالات نے ساری اہمیت کا مپیٹیشن کو دے دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب رزرویشن کی بات ایک خلاف زمانہ نعرہ بن چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ملی ڈکشنری سے رزرویشن کا لفظ نکال اور ساری توجہ محنت اور منصوبہ بندی پر لگائیں۔ موجودہ زمانے میں یہی ترقی کا واحد راستہ ہے۔ 1947 کے بعد مسلمانوں میں سیاسی اعتبار سے نیگیٹیو پالیسی کا طریقہ رائج ہو گیا۔ مستقل ملی مفاد کے لیے سخت مہلک ہے۔ وہ جمہوری تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پازیٹیو سیاسی پالیسی کو اختیار کریں۔ یہی موجودہ زمانے میں اُن کے لیے کامیابی کا واحد راستہ ہے۔
انتخابی پالیسی کے معاملے میں مسلمانوں کو اپنا ذہن مکمل طور پر بدلنا ہے۔ اب تک ان کا رجحان اس معاملے میں یہ رہا ہے کہ پورے ملک کے لیے ایک ملّی پالیسی اختیار کریں۔ موجودہ حالت میں اس قسم کی انتخابی پالیسی مسلمانوں کے لیے مفید نہیں۔ مفید سیاسی پالیسی صرف یہ ہے کہ مسلمان مقامی حالات کے اعتبار سے الگ الگ اپنی انتخابی پالیسی بنائیں۔ وہ ملکی پالیسی کا طریقہ ختم کردیں۔ 1947 کے بعد سے مسلمانوں کے اوپر تحفظاتی ذہن غالب رہا ہے۔ وہ ملّی شناخت کے تحفظ کو سب سے بڑی چیز سمجھتے رہے ہیں۔ موجودہ گلوبلائزیشن کے دور میں اس قسم کی تحفظاتی پالیسی غیر مفید ہے۔ مسلمانوں کے لیے صحیح پالیسی یہ ہے کہ وہ ملّی شناخت کو اپنا کنسرن بنانے کے بجائے پیغام خداوندی کو تمام انسانوں تک پہنچانے کو اپنا نشانہ بنائیں۔ وہ ملک میں دینے والے (giver) گروہ کی حیثیت سے اپنا مقام حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
دَورِ جدید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے میل ملاپ اور اختلاط (interaction) کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ یہ تبدیلی ترقیاتی سرگرمیوں سے بہت زیادہ جڑی ایسی حالت میں اب "علاحدہ مسلم پاکٹ" کا تصور ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے۔ مسلمانوں کو علاحدہ مسلم پاکٹ جیسی پالیسی کو مکمل طور پر ختم کردینا چاہیے۔ دورِ جدید میں ترقی کے اعلیٰ مقام پر پہنچنے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔
پچھلے سَو سال سے بھی زیادہ مدت سے پوری دنیا کے مسلمانوں نے اپنی آفاقیت (universality) کو ملّت تک محدود کر رکھا ہے۔ دورِ جدید کا تقاضا ہے کہ وہ اس محدودیت کو ختم وہ اپنی آفاقیت کو پوری انسانیت کے ساتھ جوڑیں۔ وہ جدید اصطلاح کے مطابق ، اپنے آپ کو گلوبل ولیج کا ایک حصہ سمجھیں۔ وہ بین المللی سیاست کے بجائے بین الانسانی سیاست کو اختیار اسی آفاقیت میں ان کی دینی اور ملّی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ منصوبہ بندی (planning) کے ساتھ کام کرنے کا زمانہ ہے۔ نہ صرف ہندوستانی مسلمان بلکہ ساری دنیا کے مسلمان موجودہ زمانے میں
منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ منصوبہ بندی عملی امکانات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف جذبات کو جانتے وہ اپنے جذبات اور امنگوں کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بناتے ہیں۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ جذباتی اقدام تو بہت کرتے ہیں مگر منصوبہ بند عمل میں وہ ناکام رہتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے اس مزاج کو بدلنا ہوگا۔ اگر انھوں نے اپنے اس مزاج پر قابو نہ پایا تو مستقبل میں بھی وہ اسی طرح ناکامی کی مثال قائم کریں گے جس طرح وہ ماضی میں ناکامی کی مثالیں قائم کرتے رہے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کو اگر مجھے ایک مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا کہ ـــــ جذباتی کارروائیوں سے بچیے اور سوچے سمجھے عمل کا طریقہ اختیار کیجیے ، اور پھر کامیابی آپ کے لیے اتنا ہی یقینی بن جائے گی جتنا کہ آج کی شام کے بعد کل کی صبح کو سورج کا نکلنا۔