Al-Risala · January 2025

They were surprised

Al-Risala, January 2025, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندو صاحبان نے کہا کہ آپ لوگ بہت اچھے ہیں۔ ہم ہندوؤں کے یہاں تو شادی کی تقریبات میں 3-3 دن لگ جاتے ہیں۔ اسلام کی ہر تقریب سادہ اور فطری ہوتی ہے۔ تاہم یہ صرف ”مسلمانوں کے مذہب“ کی خصوصیت نہیں۔ بلکہ تمام خدائی مذاہب کی خصوصیت ہے۔ ہر دین جو خدا کی طرف سے آیا وہ ابتداء سادہ اور فطری ہی تھا۔ مگر بعد کو ان میں ملاوٹ ہوئی اور اس کی وجہ سے ان کی شکل کچھ سے کچھ ہو اسلام چونکہ ملاوٹوں سے پاک ہے، اس لیے وہ اپنی اصل سادگی پر بدستور باقی ہے۔ اسلام کے پیروؤں نے بھی اگرچہ بعد کو اضافے کیے، مگر یہ اضافے اصل متن میں شامل نہ ہو سکے۔ اس لیے دوسرے مذاہب کے برعکس اسلام میں ایسا ہے کہ اگرچہ اس میں ہر قسم کے اضافے کیے جا چکے ہیں، مگر یہ اضافے مسلمانوں کی اپنی عملی زندگی میں ہیں، نہ کہ قرآن کے مقدس متن میں۔ جناب اسرار احمد صاحب ایم اے، دہلی کے لفٹننٹ گورنر کے پریس سکریٹری ہیں۔ ان کے یہاں الرسالہ جاتا ہے۔ بہت دنوں کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں پابندی کے ساتھ الرسالہ پڑھتا ہوں اور پڑھنے کے بعد اس کو لفٹننٹ گورنر صاحب کے پاس بھیج دیتا ہوں۔ اسرار احمد صاحب نے گفتگو کے دوران بتایا کہ میں موجودہ سروس میں 9 سال سے ہوں۔ میں، میں نے سات لیفٹیننٹ گورنر صاحبان کے ساتھ کام کیا ہے۔ یہ سب کے سب اچھی اردو جاننے والے لوگ تھے، بلکہ وہ اردو ہی جانتے تھے۔ ہندی سے تقریباً ناواقف تھے۔

میں نے پوچھا کہ کیا دہلی کے لیے یہ گورنمنٹ کی پالیسی ہے کہ یہاں اردو داں لفٹننٹ گورنر رکھا انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لفٹننٹ گورنر کے عہدہ کے لیے سینئر آدمی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور ہندوؤں میں جو سینئر اور پرانے لوگ ہیں، وہ اکثر اردو جانتے ہیں۔ نیز جو لوگ

تقسیم کے بعد پاکستان سے آئے ہیں، وہ تو سب کے سب اردو داں ہیں۔ گورنری وغیرہ کے عہدے اکثر انہیں حضرات کو دیے جاتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب ہندو، کم از کم شمالی ہند کے ہندو، اچھی طرح اردو سے واقف تھے۔ اپنی مادری زبان میں ان کو اسلام کا پیغام پہنچا سکتے تھے، مگر کئی نسل گزر گئی اور مسلمانوں نے یہ کام نہ کیا۔ اس کے بعد ملک کی تقسیم ہوئی اور نئے حکمرانوں نے ملک کو دوسرے رخ پر چلانا شروع کیا۔ اب ہندوؤں کی نئی نسل اور مسلمانوں کے درمیان ایک قسم کا لسانی بعد (language gap) پیدا ہو گیا ہے۔ چنانچہ ہندوؤں کی نئی نسل تک اسلام کا پیغام پہنچانا انتہائی حد تک مشکل ہو چکا ہے۔ وہی تھوڑے سے لوگ رہ گئے ہیں، جو ہندوؤں کی پرانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ آخری توقع ہے جس سے مسلمانوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

Printed page