Al-Risala · January 2025

30 جون 1986

Al-Risala, January 2025, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

میں 1967 میں دہلی آیا۔ ابتدا میں تقریباً 15 سال میرا قیام پرانی دہلی میں رہا۔ پرانی دہلی میں چھوٹی سی جگہ میں بے شمار انسان بسے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ایشیا کا سب سے زیادہ گھنا علاقہ ہے۔ جب پرانی دہلی میں تھا تو وہاں انسانوں کے شور سے پریشان رہتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ اگر نئی دہلی میں رہائش کی صورت پیدا ہو جائے تو وہاں زیادہ سکون کے ساتھ کام ہو سکتا ہے۔

1983 میں نئی دہلی میں مرکز قائم ہوا اور اللہ تعالیٰ نے یہاں رہنے کی صورت پیدا فرما دی۔ مسئلہ سے پھر بھی چھٹی نہیں ملی۔ پرانی دہلی میں اگر انسانوں کا شور تھا تو یہاں کتوں کا شور سننا پڑا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوش حال افراد عام طور پر اپنے گھروں میں کتے پالے ہوئے تھے اور وہ برابر بھونکتے رہتے تھے۔ نئی دہلی میں، میں انسانی شور کے ماحول سے باہر نکل آیا تھا۔ مگر کتوں کے شور سے میں اب بھی مامون نہ تھا۔ شاید موجودہ دنیا میں شور سے چھٹی ملنے والی نہیں۔ بے شور کا ماحول انسان کو صرف جنت میں ملے گا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل آئے اور کہا کہ اللہ نے خدیجہ کو اپنا سلام بھیجا ہے۔ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 214)۔ یعنی، مجھے حکم دیا گیا کہ میں خدیجہ کو جنت میں ایک ایسے مکان کی بشارت دوں جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا اور اس میں نہ شور ہو گا اور نہ تکلیف۔

Printed page