Al-Risala · January 2025

شخصیت پرستی، تربیت سازی

Al-Risala, January 2025, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

23 نومبر 2024 کو نظام الدین ویسٹ میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے نئے سینٹر کا افتتاح کیا گیا اس موقع پر ایک فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ شخصیت پرستی ایک چیز ہے، اور کسی شخصیت کے علم و حکمت سے زندگی کی سیکھ (learning) حاصل کرنی الگ بات۔ (personality cult) کا مطلب ہے کسی انسان کی ذات کے بارے میں غلو آمیز رویہ اختیار کرنا، اس کی ذات کو بڑھا چڑھا کر لوگوں کے سامنے پیش کرنا۔ حدیث رسول میں اسی قسم کی شخصیت پرستی سے منع کیا گیا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3445)۔ اس کے برعکس، کسی انسان کے علم و حکمت سے استفادہ کرنا، اور اس کو پھیلانا، اسلام میں پسندیدہ عمل ہے۔ اسلام کی پوری تاریخ میں یہ عمل جاری رہا ہے۔ اسلامی لٹریچر میں اس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے کی ایک متعلق حدیث یہ حضرت ابو بکرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اِغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلَّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلَكَ (مسند البزار، حدیث نمبر 3626)۔ یعنی علم پھیلانے والے بنو، یا علم سیکھنے والے بنو، یا علم کو دھیان سے سننے والے بنو، یا علم سے محبت کرنے والے بنو، مگر پانچویں نہ بنو ورنہ تم تباہ ہو جاؤ گے۔

سی پی ایس انٹرنیشنل اور اس کے نئے سینٹر کا مقصد کیا ہے، اس کو مولانا وحید الدین خاں صاحب کے ان الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے:

"ڈاک سے ایک لفافہ موصول ہوا۔ اس میں ایک دینی ادارے کے ہفت روزہ میگزین کے ایک صفحے کی فوٹو کاپی تھی۔ یہ مضمون ادارے کے بانی کے بارے میں ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے ”چراغ عالم اسلام تھے“۔ اس عنوان کے نیچے جو مضمون ہے وہ گویا نثر میں شاعری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مضمون نگار نے نعت کے تمام شاندار الفاظ بانی ادارہ کی قصیدہ خوانی میں صرف کر دیے ہیں۔ اس مضمون کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ میری وفات کے بعد جو لوگ میری تعریف میں اس قسم کے قصیدے لکھیں گے، وہ میرے جھوٹے ماننے والے ہوں گے۔ حقیقی ماننے والے وہ ہیں، جو میرے مشن کو لے کر آگے بڑھیں، جو میرے اس دنیا سے

جانے کے بعد اس دینی جدوجہد کے لیے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو جائیں۔

میرا کام اللہ کے سچے دین کا اعلان و اظہار ہے۔ میری ساری دلچسپی صرف اس بات سے ہے کہ اللہ کی بڑائی بیان کی جائے۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ہدایت کو آج کے انسانوں تک پہنچایا جائے۔ لوگوں کو آنے والے ہولناک دن سے ہوشیار کیا جائے۔ میرے بعد جو لوگ میرے اس مشن کے لیے سرگرم ہوں وہی میرے سچے ساتھی ہیں۔ اور جو لوگ نظم ونثر میں میری تعریف کریں، ان سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ ان کی راہ الگ ہے اور میری راہ الگ۔ ‘‘ (ڈائری 23 اپریل 1985) سی پی ایس انٹرنیشنل مولانا کے حکمت و معرفت پر مبنی علمی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یعنی اسلام کو عصری اسلوب میں تمام انسانوں کے سامنے پیش کرنا۔ ماڈرن فکری چیلنج کے مقابلے میں اسلام کے لیے موجود نئے امکانات کی طرف رہنمائی کرنا۔ قرآن کو خدا کے منصوبہ تخلیق کے اعتبار سے تمام انسانوں کے لیے قابل فہم بنانا، اور ان کی اپنی زبان میں آسانی سے دستیاب کرانا، وغیرہ۔ مولانا کی تحریر وتقریر سے انسان میں کتنی تبدیلی آئی ہے، اس کو جاننے کے لیے الرسالہ خبرناموں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ الرسالہ کے خصوصی شمارہ داعی اسلام مولانا وحید الدین خاں (اگست ستمبر 2021) کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس میں مشہور مسلم اسکالر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، ڈین آکسفرڈ اسلامک سینٹر کا بھی مضمون ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ ’’ کون ہے جو اس کا اعتراف نہ کرے کہ مولانا نے بے شمار انسانوں کے ذہنوں کو متاثر کیا، ان کی تحریروں نے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی رہنمائی میں بڑا کردار ادا کیا، انہوں نے مثبت اور پرامن طریقہ سے ٹھوس اور پائیدار کام کرنے کا نمونہ پیش کیا، اور کتنے مایوس لوگوں کو یاس و ناامیدی سے نکالا اور انہیں جینے کا حوصلہ دیا۔ ‘‘ اسی طرح ذوالفقار خان نامی ایک صاحب اپنے فیس بک وال پر لکھتے ہیں کہ ’’ مولانا وحید الدین خان کی کتب انسانی رویے کو بدلنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہر صفحہ سبق آموز ہوتا ہے۔ اس قسم کے تاثرات گویا اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جن تحریروں اور تقریروں نے پہلے بے شمار لوگوں کی زندگیاں بدلی ہیں، اب ان کو ایسے لوگوں تک پہنچانا چاہیے، جن کو یہ پیغام اب تک نہیں مل سکا سی پی ایس انٹرنیشنل کا یہی مقصد ہے۔ اور اسی مشن کو لے کر ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

Printed page