Al-Risala · March 2025

Art of difference management

Al-Risala, March 2025, pp. 14–17

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی تدبیر کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے قدیم مکہ میں 610ء میں دعوت توحید کا مشن شروع کیا۔ اس وقت توحید کے نقطہ نظر سے مکہ میں سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے گھر (کعبہ) میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں اس مفہوم کی کوئی آیت نہیں اتری: طَهِّرِ الْكَعْبَةَ مِنَ الْأَصْنَامِ (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ کے بجائے قرآن میں یہ آیت اتری: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (74:4)۔ یعنی، اپنے اخلاق کو درست کرو۔ اس قرآنی اصول پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ آپ نے مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے زمانہ میں کبھی بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کو توحید کا پیغام دینے کی پرامن جدوجہد شروع کر دی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ ان میں ایک نمایاں مثال صلح حدیبیہ 628ء کا واقعہ ہے۔ یہ صلح گو یا ڈیفنس مینجمنٹ (difference management) کی ایک کامیاب مثال تھی جو انسانی تاریخ میں غالباً پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ قائم کی گئی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اختلاف خواہ کتنا ہی بڑا ہو وہ ہر حال میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس کو حل کرے۔ کسی بھی حال میں وہ ایسا نہ کرے کہ اتحاد کے نام پر اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے ۔ حدیث کے مجموعوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے بعد امراء اور حکام کے اندر بگاڑ آئے گا مگر تم ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم ظلم کے باوجود ان کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کے لیے اللہ سے دعا کرنا (أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052۔ اس معاملہ میں ایک حدیث وہ ہے جو ابو داؤد، الترمذی ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی ہے۔

ایک لمبی روایت ہے، اس کا آخری حصہ یہ ہے: وَإِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، فَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (مسند احمد، حدیث نمبر 17115)۔ مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کن لیڈروں سے ہے اور جب تلوار میری امت میں داخل ہوگی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔

اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ امت میں جب اختلافات پیدا ہوں گے تو نا اہل لیڈر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس کو رفع نہ کرسکیں گے بلکہ وہ اختلاف کو دور کرنے کے نام پر لڑائی چھیڑ دیں گے اور جب ایک بار امت میں دین کے نام پر لڑائی کی روایت قائم ہوگئی تو اجتماعی نفسیات کی بنا پر وہ قیامت تک جاری رہے گی۔

حدیث کی یہ پیشین گوئی بدقسمتی سے امت کی بعد کی تاریخ کے بارے میں درست ثابت ہوئی۔ امت کے اندر وضع سیف ( بذریعہ تلوار فیصلہ) کا طریقہ خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان کی شہادت کے ساتھ شروع ہوا۔ اس کے بعد وہ اس طرح مسلسل جاری ہو گیا کہ امت کی ہزار سالہ تاریخ میں وہ کبھی ختم نہیں ہو پایا۔ خلیفہ چہارم اور دم عثمان کے نام پر اٹھنے والوں کے درمیان جنگ، حضرت حسین اور یزید کے درمیان جنگ، بنو امیہ اور بنو عباس کے درمیان جنگ، سنی اور شیعہ کے درمیان جنگ، مغلوں اور غیر مغلوں کے درمیان جنگ، اسی طرح موجودہ زمانہ میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان جنگ، وغیرہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَة (المقاصد الحسنة للسخاوی، حدیث نمبر 39)۔ یعنی، میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف (difference) خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے۔ وہ فطرت کا ایک لازمی جزء ہے اس لیے اختلاف کبھی زندگی سے ختم نہیں ہوتا۔ امت کے اصحاب علم و معرفت کو چاہیے کہ وہ اس راز کو سمجھیں اور اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے اختلاف کے ساتھ جینے کا طریقہ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس مسئلہ کو حل کریں۔

طرح سنت کی پیروی کی صورت میں اختلاف امت محمدی کے لیے رحمت بن جائے گا۔ ہوتے ہوئے وہ ترقی کا پر امن سفر کامیابی کے ساتھ طے کر سکیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسری بہت سی سنتیں ہیں اسی طرح وہ چیز بھی ایک سنت رسول ہے جس کو ہم نے آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔ اس اُصول کا تعلق اسلام کے تمام پہلوؤں سے ہے، کوئی بھی پہلو اس سے خالی نہیں۔

مثال کے طور پر فقہی اختلافات جو ہزار سال سے اب تک ٹکراؤ کا سبب بنے ہوئے ہیں ان کے معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا سادہ اُصول یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ یہ اختلافات توسع پر مبنی ہیں، نہ کہ تعدد پر ۔ ان میں سے جس طریقہ کی بھی پیروی کی جائے وہ درست ہوگا (بأَيِّهِمْ اِقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُم) جامع بیان العلم لابن عبد البر، حدیث نمبر 1760۔

اسی طرح حضرت علی اور حضرت معاویہ کا معاملہ یا یہ سوال کہ چاروں خلفاء کے درمیان تفضیل کی اس قسم کے معاملات میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطَباق (application) یہ ہے کہ اس کو خدا کے حوالہ کر دیا جائے اور ہر فرقہ اپنی آج کی تعمیری ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مشغول ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان تباہ کن ٹکراؤ جاری ہے۔ اس معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا انطباق یہ ہے کہ اسلام پسند جماعتیں حکومت کے دائرہ میں براہ راست مداخلت کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ غیر حکومتی دائرہ، مثلاً تعلیم اور اصلاح اور دعوت کے شعبوں میں اپنی کوششیں صرف کریں۔

موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان لیڈر یا مسلم گروہ مختلف ملکوں میں کسی نہ کسی قومی یا ملی مقصد کے حوالہ سے غیر مسلم حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا سلسلہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ مثلاً فلسطین اور کشمیر اور چیچنیا اور فلپائن، وغیرہ میں۔ ان مقامات پر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطباق یہ ہے کہ ہر قسم کے تشدد کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور صرف مسلمہ پرامن طریق کار کی پابندی کرتے ہوئے اپنی تحریک چلائی جائے۔

قرآن کی آیت : اَلصُّلْحُ خَيْرُ (4:128) بتاتی ہے کہ ڈیفرنس مینجمنٹ کا مذکورہ طریقہ مطلق طور پر خیر کا سبب ہے۔ وہ ہر حال میں قابلِ عمل ہے۔ یہ طریقہ صرف اس وقت ناقابلِ عمل بن جاتا ہے جب کہ مسلمان تشدد کا آغاز کر کے فضا کو بگاڑ دیں۔ تشدد کا آغاز لازمی طور پر جوابی تشدد پیدا کرے گا اور پرامن طریقہ کار کو اختیار کرنا ممکن نہ رہے گا۔ اگر مسلمان یہ غلطی کریں کہ تشدد کا آغاز کر کے وہ صورتِ حال کو بگاڑ دیں تو خود انہیں کو دوبارہ صورتِ حال کو نارمل بنانے کی ذمہ داری لینی اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے تشدد کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تا کہ وہ موافق فضا پیدا ہو جس میں ڈیفرنس مینجمنٹ پر عمل کرنا ممکن ہو جائے۔

اسلام دین فطرت ہے۔ مذکورہ اصولِ فطرت ہی کا ایک اصول ہے جس کو اسلام میں اختیار کیا اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں لازماً ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوں۔ ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے کہ ہر انسان کو مسٹر ڈیفرنس کہنا صحیح ہوگا۔ اس دنیا میں ہر سماج فرق و اختلاف والا یہ فرق و اختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔

It requires difference management rather than eliminating the difference. فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملہ سے بھی ہے اور سیکولر معاملہ سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طور پر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈیفرنس مینجمنٹ کا آرٹ فرق و اختلاف کو مٹانا تشدد پیدا کرتا ہے اور فرق و اختلاف کو پیچ کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔

فرق و اختلاف کوئی برائی نہیں، وہ ترقی کا زینہ ہے۔ فرق و اختلاف سے اجتماعی زندگی میں چیلنج پیدا ہوتا ہے۔ اور چیلنج کا سامنا کرنا ہی اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا واحد راز ہے۔

Printed page