رواداری کا اصول
Al-Risala, March 2025, pp. 19–22
By Maulana Wahiduddin Khan
جنوری 1995 کی پہلی تاریخ کو تمام اخباروں میں یہ خبر تھی کہ اقوام متحدہ نے 1995 کے سال کو رواداری کا سال (Year of Tolerance) قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اپنے عمل، اپنے عقیدہ اور اپنی رائے میں روادار ہونا وہ سب سے بڑا عامل ہے جس کے ذریعہ پر امن دنیا تعمیر کی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جگہ جگہ نسلی ٹکراؤ، اقلیتوں کے خلاف امتیاز اور پناہ گزینوں کے خلاف نفرت کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس کا واحد حل رواداری ہی ہے۔ نسل پرستی اور مذہبی انتہا پسندی بہت سے ملکوں میں امتیازی سلوک تک پہنچ گئی ہے۔ ان لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے جو مختلف نقطہ نظر رکھتے اس طرح ان مصنفوں اور صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں جو اظہارِ خیال کی آزادی کے حق کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی آمد کے موقع پر یہ زبردست چیلنج ہمارے سامنے ہے اور اس کا واحد حل نارواداری صرف مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ مسائل کو ختم نہیں کرتی۔ اگر زیادہ بڑھ جائے تو وہ عالمی امن کے لیے ایک زبردست خطرہ بن جائے گی (ہندوستان ٹائمس)۔ 1995 As Year of Tolerance The United Nations has proclaimed 1995 as the Year of Tolerance, saying the ability to be tolerant of the actions, beliefs and opinions of others is a major factor in promoting world peace. Amid the resurgence of ethnic conflicts, discrimination against minorities and xenophobia directed against refugees and asylum-seekers, tolerance is the only way forward, said the statement of the United Nations Educational, Scientific and Cultural Organisation (UNESCO). It said, racism and religious
fanaticism in many countries had led to many forms of discrimination and the intimidation of those who hold contrary views. Violence and intimidation against authors, journalists and others who exercise their freedom of expression, were also on the increase along with political movements which seek to make particular groups responsible for social ills such as crime and unemployment. Intolerance is one of the greatest challenges we face on the threshold to the 21st century, said the UNESCO statement. Intolerance is both an ethnic and a political problem. It is a rejection of the differences between individuals and between cultures. When intolerance becomes organised or institutionalised it destorys democratic principles and poses a threat to world peace. (The Hindustan Times, January 1, 1995)
اقوام متحدہ کا یہ اعلان نہایت صحیح اور بروقت ہے۔ آج دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی رواداری یا ٹالرنس ہے۔
زندگی کی حقیقتوں میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق ہر سطح پر پایا جاتا ہے۔ خواہ کوئی خاندان ہو یا کوئی سماج ہو یا کوئی ملک ہو، ہر جگہ ایک اور دوسرے میں فرق اور اختلاف ضرور پایا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فرق اور اختلاف کی موجودگی میں اتحاد اور میل ملاپ کس طرح پیدا کیا جائے۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتحاد کا ماحول اگر بنانا ہے تو اختلافات کو مٹا دینا ہوگا۔ مگر یہ رائے غلط ہے، کیوں کہ وہ قابل عمل نہیں۔ اگر آپ پھول کے ساتھ کانٹے کو پسند نہ کرتے ہوں تو آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ کانٹوں کو توڑ کر کانٹوں کا خاتمہ کر دیں۔ کیوں کہ آپ ڈالی کا ایک کانٹا توڑیں گے تو اس کی جگہ دوسرا کانٹا نکل آئے گا۔ حتیٰ کہ اگر آپ تمام پھولوں پر بلڈوزر چلا دیں تب بھی جو نیا درخت اُگے گا اس میں دوبارہ پھول کے ساتھ کانٹے بھی ضرور موجود ہوں گے۔ اس دنیا میں کانٹوں کو گوارا کر کے ہی پھول کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اختلافات کو
برداشت کر کے ہی پرامن سماج بنایا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے اتحاد حاصل ہوتا ہے۔ نہ کہ اختلاف کو مٹا کر متحد ہونے سے۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ امن کی زندگی کو حاصل کرنے کا واحد راز ہے— بے امنی کو گوارا کرنا۔ دنیا میں فرق اور اختلاف ہونا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ ایک مثبت خصوصیت ہے اور اس کے بہت سے بڑے بڑے فائدے ہیں۔ باغ حیات کی خوشنمائی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اتحاد کے پھول کے ساتھ اختلاف کا کانٹا بھی پایا جائے۔
اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں میں اعلی اخلاقیات کی تربیت ہوتی ہے۔ اپنے ہم خیال لوگوں کے درمیان اگر آپ خوش اخلاق ہوں تو آپ نے محض ابتدائی اخلاق کا ثبوت دیا۔ لیکن اگر آپ ان لوگوں کے درمیان خوش اخلاقی کا رویہ اختیار کریں جو آپ سے الگ خیال رکھتے ہیں یا آپ کے ناقد ہیں تو آپ نے یہ استحقاق حاصل کیا کہ آپ کو اعلی اخلاقی سلوک کا کریڈٹ دیا جائے۔ اسی طرح اگر سماج میں تمام لوگ بالکل ایک رائے کے ہوں۔ ان میں کوئی اختلافی بحث نہ پیدا ہوتی ہو تو ایسا سماج پتھر کے اسٹیچو کا سماج بن جائے گا۔ اس کے درمیان رہنے والوں کی فکری ترقی رک فکری ترقی ہمیشہ افکار کے ٹکراؤ کے درمیان ہوتی ہے۔ پھر جہاں افکار کا ٹکراؤ ہی نہ ہو وہاں فکری ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔
نزاع اور اختلاف کے مقابلہ میں رواداری کا طریقہ اختیار کرنا کوئی انفعالی (passive) یہ عین ایجابی (positive) صفت ہے۔ زندگی کی تعمیر میں اختلافات کا نہایت اہم رول اختلافات کے عمل کے دوران ہی اعلی انسانی شخصیت بن کر تیار ہوتی ہے۔ اگر انسانی سماج سے اختلاف کی حالت کو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد اعلی شخصیتوں کا بننا بھی یقینی طور پر رک جائے گا۔ اس دنیا میں کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس میں ایک صفت ہوتی ہے تو دوسری صفت اس کے اندر نہیں ہوتی۔ یہ بھی ایک سبب ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان فرق اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔
مگر اجتماعی زندگی کے لیے یہ اختلاف ایک رحمت ہے۔ کیوں کہ اسی اختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی کمی کو دوسرا آدمی پورا کرے۔ ایک کی خصوصیت دوسرے کے کام آئے۔ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے اختلاف کو گوارا کرنے کا مزاج ہو تو یہ اختلاف مجموعی انسانی ترقی کا ایک طاقتور وسیلہ بن جائے گا۔
1947 کے بعد جب انڈیا میں پہلی آزاد حکومت بنی تو اس میں دواہم لیڈر شامل تھے۔ جواہر لال نہرو ( وفات 1964 ) ، دوسرے سردار ولبھ بھائی پٹیل ( وفات 1950 ) ۔ پنڈت نہرو کے اندر مغربیت تھی اور سردار پٹیل کے اندر مشرقیت۔ اس بنا پر دونوں لیڈروں میں اکثر رائے کا اختلاف ہو جاتا تھا۔ مگر یہ اختلاف قوم کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا۔ کیوں کہ پنڈت نہرو کی صلاحیت سے سردار پٹیل کی کمی پوری ہوئی، اور سردار پٹیل کی صلاحیت پنڈت نہرو کی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ ایک قریبی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رائے اور طبیعت کا اختلاف انسانی کی عمومی ترقی کے لیے کتنا زیادہ ضروری ہے۔
رواداری کی خصلت آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو غیر ضروری چیزوں میں ضائع کرنے لگے۔ جب آپ کسی دوسرے کی خلاف مزاج بات سے منفی اثر قبول کر لیں تو آپ کا ذہنی اعتدال بگڑ جائے گا۔ اس کے برعکس، جب اس طرح کی صورت پیش آنے پر آپ اس کا منفی اثر نہ لیں تو آپ کا ذہنی اعتدال پوری طرح برقرار رہے گا۔ آپ اپنا ایک لمحہ کھوئے بغیر ایک نارمل انسان کی طرح ہمیشہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ رواداری اور تحمل کی پالیسی آپ کی کارکردگی کی عمر کو بڑھاتی ہے اور نارواداری اور عدم تحمل کا رویہ آپ کی کارکردگی کی عمر کو گھٹا دیتا ہے۔ رواداری یا ٹالرنس کوئی مجبورانہ فعل نہیں، وہ زندگی کا ایک مثبت اصول ہے۔ اعلیٰ انسانی کردار ہے۔ کسی سماج میں روادار انسانوں کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے کسی باغ میں پھولوں کا پھول کے بغیر باغ نہیں، اسی طرح روادار انسانوں کے بغیر ترقی یافتہ سماج نہیں۔ ( آل انڈیا ریڈیو ممبئی سے 3 مارچ 1995 کو نشر کیا گیا )