Al-Risala · January 2025

برائی کوروکو

Al-Risala, January 2025, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ ( سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر یعنی، کسی بھی قوم میں اگر گناہ کیے جائیں اور قدرت رکھنے کے باوجود لوگ گناہ گاروں کو نہ روکیں تو قریب ہے کہ خدا ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔

ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عن المُنْكَرِ، أو ليوشكن الله يبعث عليكم عقابًا منه، ثُمَّ تَدْعُونَهُ، فلا يستجيب لكم ( سنن الترمذی، حدیث نمبر (2309) ۔ یعنی، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ضرور ہے کہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ ورنہ جلد ہی خدا تم سب پر عذاب بھیج دے گا۔ تم خدا کو پکارو گے مگر وہ تم کو کوئی جواب نہ دے گا۔

حدیث میں اس قسم کی جو ہدایتیں نقل ہوئی ہیں وہ اصلاً سماجی ہدایتیں ہیں، نہ کہ سیاسی ہدایتیں۔ یعنی ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی حکمراں کو ”ظالم “ قرار دے کر اس کے خلاف شور و غل کرو اور انصاف قائم کرنے کے نام پر اس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلاؤ ۔ اس قسم کی اسلامی سیاست محض موجودہ زمانہ کی سیاسی پارٹیوں کی نقل ہے۔ اس کا مذکورہ اسلامی ہدایت سے کوئی تعلق ان ہدایات کا مخاطب معاشرہ کا ہر فرد ہے، نہ کہ کوئی سیاسی نظام۔

کسی معاشرہ میں ہمیشہ تھوڑے آدمی ہوتے ہیں جو شرارت کرتے ہیں ۔ اگر معاشرہ ایک زندہ معاشرہ ہو تو جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کو ستا رہا ہے ۔ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کو تکلیف دے رہا ہے۔ ایک صاحب معاملہ دوسرے صاحب معاملہ کے حقوق ادا نہیں کرتا تو ایسے معاشرہ میں مظلوم کو خود اپنے آس پاس ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو اس کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں۔ وہ ظالم کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز آئے۔ ایسے سماج میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں مگر وہ وہیں کی وہیں ختم ہو جاتی ہیں ۔ اس کے برعکس، جب سماج کے لوگوں کا حال

یہ ہو جائے کہ وہ اپنے سامنے برائی کے واقعات کو لا تعلقی کے انداز میں (indifferently) دیکھنے لگیں تو دھیرے دھیرے ان خرابیوں کے نتیجہ میں ایسے فتنے ابھرتے ہیں جو پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

ماحول کا دباؤ سب سے بڑا دباؤ ہے حتی کہ حکومت اور عدالت سے بھی زیادہ۔ اگر آس پاس کا ماحول برائی کورو کے اور حق کی حمایت میں کھڑا ہو جائے تو کبھی برائیاں پھیل نہیں سکتیں۔ برعکس، جب سماج کے افراد برائی کودیکھنے کے باوجود خاموش رہیں تو اس سے بیک وقت دو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک طرف برائی کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور دوسری طرف مظلوم کے اندر انتقام اور بے اعتمادی۔ یہ دونوں چیزیں وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے کہ برائیاں بڑھ کر خود ان لوگوں کو نقصان پہنچانے لگتی ہیں جو اپنے کو مامون سمجھ کر برائی کے معاملہ میں غیر جانب دار بن گئے تھے۔

Printed page