Al-Risala · March 2025

To think beyond the limit

Al-Risala, March 2025, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی ہمیشہ کچھ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے اس کو بار بار ناخوش گوار قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ ان ناخوش گوار تجربات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر بطور رد عمل طرح طرح کے غیر حقیقی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً غصہ، حسد، نفرت، انتقام، احساسِ برتری، یا احساسِ کم تری، وغیرہ۔ ہر آدمی اسی قسم کے منفی احساسات کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ احساسات جو ہمیشہ رد عمل کی نفسیات کے تحت پیدا ہوتے ہیں، وہ انسان کو غیر حقیقت پسندانہ سوچ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ وہ فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ کر غیر فطری راستے پر چلنے لگتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے، وہ متاثر ذہن کے تحت کوئی فیصلہ نہ کرے ۔ وہ اپنے اندر وہ چیز پیدا کرے جس کو غیر متعصبانہ ذہن، یا تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی انسان اس دنیا میں درست انداز میں سوچے گا اور اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی کرے گا اور آخر کار کامیابی کی منزل تک پہنچے گا۔ بلند فکری کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ بلند فکری میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ ڈسٹریکشن (distraction) ہے، یعنی ذہن کا مختلف سمتوں میں منتشر ہوجانا۔ چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے ذہنی انتشار سے بچائے، تا کہ وہ اپنے اندر صحتِ فکر کو قائم رکھ سکے ۔ یہ اصل صحتِ فکر ہی ہے جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔

Printed page