Al-Risala · March 2025

اختلاف کا مسئلہ

Al-Risala, March 2025, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر مذہبی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف بڑھ کر کبھی تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ان اختلافات کا سبب مدارس کا نصاب ان کے خیال کے مطابق، اگر مدارس کے نصاب میں اصلاح کردی جائے تو اختلاف کا خاتمہ ہوجائے گا اور لوگوں کے اندر اتحاد واتفاق کی حالت قائم ہو جائے گی۔

مگر یہ اصل صورت حال کا کم تراندازہ (underestimation) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کا سبب فطرت انسانی میں ہے، نہ کہ مدارس کے نصاب میں۔ پیدائش کے اعتبار سے، ہر مرد مسٹر ڈفرنٹ (Mr. Different) ہوتا ہے اور ہر عورت مس ڈفرنٹ۔

یہی فطری فرق اختلاف کا اصل سبب ہے۔ اگر تمام مدارس کا نصاب ایک کردیا جائے تب بھی اختلاف باقی رہے گا، کیوں کہ خواہ نصاب کی سطح پر اختلاف نہ ہو تب بھی فطرت کی سطح پر اختلاف موجود رہے گا، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

حضرت علی (وفات 40ھ) اور حضرت معاویہ (وفات 60ھ) دونوں ایک ہی مدرسہ، مدرسۂ نبوت، کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ ابوالحسن اشعری (وفات 936ء) معتزلی عالم ابو علی الجبائی (وفات 916ء) کے شاگرد تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا موجودہ زمانے میں سرسید احمد خاں (وفات 1898ء) اور مولانا قاسم نانوتوی (وفات 1880ء) دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ شبیر احمد عثمانی (وفات 1949ء) اور مولانا حسین احمد مدنی (وفات 1957ء) دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا سید سلیمان ندوی (وفات 1953ء) اور مولانا مسعود علی ندوی (وفات 1967ء) دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔

اصل یہ ہے کہ خواہ دو آدمیوں نے ایک ہی مدرسہ اور ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم پائی ہو، لیکن طرزِ فکر (way of thinking) کی سطح پر ہمیشہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق یہی فرق ہے جو اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ بڑھ کر نفرت اور تشدد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اختلاف یا فرق چوں کہ فطرتِ انسانی کا حصہ ہے، اس لیے وہ کبھی ختم ہونے والا ایسی حالت میں اختلاف کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ نا کام طور پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو اُس اصول کی تعلیم دی جائے جس کو ”اختلاف کے باوجود اتحاد“ کہا جاتا ہے۔ یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، سماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق۔

انسانوں کے طرزِ فکر میں اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ اس اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈسکشن اور ڈائیلاگ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ جہاں ڈسکشن اور ڈائیلاگ نہ ہو، وہاں یقینی طور پر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جائے گا، اور ذہنی جمود سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔

ابو عمر و زبان بن العلاء مکہ میں 68ھ میں پیدا ہوئے ۔ 154 ھ میں کوفہ میں ان کی علم و ادب میں وہ بہت اونچا درجہ رکھتے تھے۔ ان کا ایک قول ہے کہ ضرورت مندرہ جانا اس سے بہتر ہے کہ نا اہل لوگوں سے حاجت روائی کی درخواست کی جائے (اِحْتِمَالُ الْحَاجَةِ خَيْرٌ مِنْ طَلَبِهَا مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا) ۔ ان کا ایک اور قول یہ ہے کہ دو آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے کوئی مجلس تنگ نہیں ہوتی لیکن دو نفرت کرنے والوں کے لیے ساری دنیا تنگ ہو جاتی ہے (مَا ضَاقَ مَجْلِسٌ بِمُتَحَابَّيْنِ، وَمَا اتَّسَعَتِ الدُّنْيَا لِمُتَبَاغِضِينَ) شذرات الذہب لابن العماد، جلد 2، صفحہ 250 ۔ (ڈائری ، مولانا وحید الدین خاں، 2 جنوری 1995)

Printed page