دو دنیاؤں کا فرق
Al-Risala, March 2026, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اپنی تحریری زندگی شروع کی تو میں کمیونزم کا مخالف بن چکا تھا۔ اسی زمانہ میں میں نے اس کے بارے میں ایک مقالہ لکھا تھا جو ”ہندوستان کی منزل : سوشلزم یا اسلام“ کے نام سے چھپا اس کے بعد میں نے اس موضوع پر زیادہ جامع کتاب لکھی جو اپریل 1959 میں شائع ہوئی۔ اس کا نام تھا: مارکسزم جس کو تاریخ رد کر چکی ہے۔ اس کے جلد ہی بعد اس موضوع پر میری دوسری کتاب اگست 1959 میں شائع ہوئی۔ اس کا نام تھا: سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ۔ پچھلے 35 سال کے اندر اس موضوع پر میں کم از کم ایک سومضامین اور کتابیں اردو، عربی اور انگریزی میں شائع کر چکا ہوں۔ ان تمام مضامین اور کتابوں میں ہمیشہ میں نے کمیونزم اور سوشلزم کی مخالفت کی ہے۔ ایک زمانہ میں بہت سے اسلام پسند سوشلزم کی طرف مائل ہو چکے تھے اور اس کو اسلامی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر میں ہمیشہ اس نظریہ کا مخالف رہا۔ 11 جون 1990ء کو نئی دہلی کے روسی سفارت خانہ سے ٹیلیفون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مجھ کو دس روزہ پروگرام کے تحت سوویت روس بھیجنا چاہتے ہیں تا کہ میں وہاں اسلام اور مسلمانوں کے حالات کو براہ راست دیکھوں، نیز یہ کہ 28 جولائی کے لیے انہوں نے میری سیٹ ریزرو کرا دی ہے۔ سوویت روس کی موجودہ حکومت کا میرے جیسے ایک ”مخالف“ کو اپنے ملک میں بلانا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید سیکولرزم کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو اس کو سارے عالم پر غالب کیے ہوئے ہے۔ وہ یہی فراخ دلی اور برداشت ہے۔ مغربی جمہوریت جس کو اب روس اختیار کر رہا ہے، وہ موافق اور مخالف کی اصطلاحوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے۔ وہ اپنے ایک مخالف کی پذیرائی کے لیے بھی تیار رہتی ہے۔ اس کی اس صفت نے اس کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے۔
موجودہ زمانہ کے اسلامی اداروں کا حال اس معاملہ میں بالکل برعکس ہے۔ ان کے یہاں صرف
اپنے موافق کے لیے جگہ ہے۔ جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں، اس کے سایہ سے بھی وہ نفرت کرنے ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارہ کے "اکابر" پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علمی اور مدلل کیوں نہ ہو، اس کے بعد وہ شخص اس ادارہ کی نظر میں اتنا مبغوض ہو جائے گا کہ وہ معقول انداز میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتے، کجا کہ اس کو اپنے ادارہ کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے بلائیں۔ موجودہ اسلامی اداروں کی یہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔ کم از کم پچھلے پچاس سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں کوئی اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلاف رائے کا ماحول ہو۔ ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجود ہی نہیں، پھر وہاں اعلیٰ درجہ کے انسان کیوں کر پیدا ہو سکتے ہیں۔
آج اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لیے مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والے اعلیٰ افراد درکار ہیں۔ اسلامی اداروں میں اکابر پرستی اور تقلید شخصی کا ماحول اتنی گہرائی کے ساتھ چھایا ہوا ہے کہ ان اداروں سے مجتہدانہ اوصاف والی شخصیت کا پیدا ہونا ممکن نہیں۔ ان اداروں سے کسی اعلیٰ انسان کا ابھرنا ویساہی ایک عجوبہ ہوگا جیسا کسی قبرستان سے ایک زندہ انسان کا نکل آنا۔ (سفر نامہ غیر ملکی اسفار، جلد 2، روس کا سفر) زمانے سے بے خبری علما نے کہا ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے احوال سے واقف نہ ہو، وہ جاہل ہے: مَنْ لَّمْ يَدْرِ بِعُرْفِ أَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلُ ( ردالمحتار لابن عابدین ، جلد 3، صفحہ 724)۔ یہ بات ذاتی عمل کے لیے نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے، جو دوسروں کے درمیان کام کرنے کے لیے اٹھیں۔ عمل کے لیے محدود علم بھی کافی ہے۔ مگر اجتماعی معاملات پر لکھنے اور بولنے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ آدمی دوسروں کے بارے میں بھر پور واقفیت رکھتا ہو۔ جو اپنے زمانے کے احوال سے بے خبر ہو اس کے لیے مفتی یا قائد بننا سرے سے جائز ہی نہیں۔ (ڈائری ، 12 جنوری 1996)