امام ابو حنیفہ کا معاشی مسلک
Al-Risala, March 2026, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
بھٹکل کے سفر (اکتوبر 1984) میں ایک صاحب نے ایک مسجد کا واقعہ بتایا، جس میں بڑی ایک شخص نے اس مسجد میں نماز پڑھی۔ اس کے بعد مسجد کے موذن سے پوچھا کہ مجھے ایک نیا جوتا بنوانا ہے، کسی اچھے جوتے ساز کا پتہ بتاؤ تا کہ میں اس سے اپنا جوتا بنوا سکوں۔ امام صاحب کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے ابھی ابھی وہاں نماز پڑھائی تھی۔ مسافر کو یقین نہیں ہوا۔ مگر جب وہ مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ مسجد کے نیچے ایک دکان میں وہی شخص جوتا بنانے میں مشغول ہے، جس نے ابھی نماز کے وقت مسجد میں امامت کی تھی۔ نے دکان میں جا کر امام صاحب سے گفتگو کی اور ان کو اپنے جوتے کا آرڈر دے دیا۔ بتانے والے نے بتایا کہ یہ امام صاحب عام جوتا سازوں سے کافی زیادہ قیمت پر جوتا بناتے اس کے باوجود ان کے یہاں خریداروں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ کیوں کہ ان کے متعلق لوگوں کو اطمینان ہے کہ ان کا بنایا ہوا جوتا پوری طرح قابلِ اعتماد ہوگا۔
ہمارے ائمہ اور مدرسین جو امام ابو حنیفہ کے فقہی مسلک پر بہت زور دیتے ہیں اگر وہ امام ابو حنیفہ کے اس ’’معاشی مسلک‘‘ کو بھی اختیار کر لیں تو ملت کے آدھے جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں اور اسی کے ساتھ اس کے آدھے مسائل بھی۔ (الرسالہ، جنوری 1985)