Al-Risala · January 2026

شر میں خیر

Al-Risala, January 2026, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

5 ہجری میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو افک کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نا خوش گوار واقعہ تھا۔ کی تفصیل قرآن کی سورۃ النور (21-24:11) اور حدیث اور سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس نا خوش گوار واقعے کے تذکرے کے ذیل میں ایک حکمانہ نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے: لا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ (24:11)۔ یعنی، تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔

قرآن کی اس آیت کا تعلق صرف افک کے واقعے سے نہیں ہے۔ بلکہ اس میں ایک اصولی اور آفاقی تعلیم دی گئی ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اُس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی شر (نا موافق صورتِ حال) صرف شرنہیں، بلکہ اس دنیا میں ہر شر کے اندر ایک خیر (موافق صورتِ حال) کا پہلو چھپا ہوا ہے:

Printed page