قرآن کے ٹکڑے کرنا
Al-Risala, May 2026, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورۃ الحجر میں ارشاد ہوا ہے: وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ (15:89-91)۔ یعنی، کہو کہ میں ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اس طرح ہم نے تقسیم کرنے والوں پر بھی اتارا تھا، جنھوں نے اپنے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
اس سلسلے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: أرأيتَ قَولَ اللهِ عز وجل: كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ، مِنَ الْمُقْتَسِمِينَ، قَالَ: الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى. قَالَ: الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ، مَا عِضِينَ؟ آمَنُوا بِبَعْضٍ، وَكَفَرُوا بِبَعْضٍ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 6204)۔ یعنی، قرآن کی اس آیت میں تقسیم کرنے والوں سے مراد کون ہیں، آپ نے فرمایا کہ یہود و نصاری۔ پھر اُس آدمی نے پوچھا کہ عضین کا مطلب کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ بعض پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کیا۔ اس آیت کا ابتدائی انطباق (application) یہود و نصاری پر ہے۔ جو دورِ سابق کے اہلِ کتاب تھے، اور توسیعی اعتبار سے، اس کا انطباق خود امت مسلمہ پر ہے۔ قرآن کو ٹکڑے کرنے کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں کو ان کے انطباق کے اعتبار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا۔ قرآن میں جو احکام ہیں اُن کو دوسرے گروہوں اور افراد سے اس طرح متعلق کر دینا کہ خود اپنے آپ سے تعلق رکھنے والی آیتیں بہت کم رہ جائیں۔ مثلاً خیر امت جیسی کچھ آیتوں کو اپنے سے متعلق سمجھنا اور قرآن کی ذمہ داری اور جوابدہی سے متعلق تمام آیتوں کو دوسروں کے خانے میں جب کوئی امت کتاب الہی کے ساتھ یہ معاملہ کرے تو کتاب الہی اس کے لیے صرف فخر کی ایک کتاب بن جاتی ہے، نہ کہ زندگی کے لیے رہنما کتاب۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن صرف ایک قومی فخر کی چیز ہے۔ وہ ان کے لیے زندگی کو گائیڈ کرنے والی کتاب نہیں۔
داخلی آمادگی کے بغیر ہدایت نہیں قرآن کی سورۃ الانعام میں ارشاد ہوا ہے:
وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ (6:111)۔ یعنی، اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ساری چیزیں ان کے سامنے اکٹھا کر دیتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔
اس آیت میں إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ (الا یہ کہ اللہ چاہے) سے مراد مشیتِ خداوندی نہیں ہے، بلکہ متابعتِ سنتِ الہی ہے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کو کامل آزادی عطا فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ انسان کو وہ عقل دی گئی ہے جو باتوں کی حقیقت کو سمجھے اور صحیح اور غلط میں فرق کر سکے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ جو آدمی اپنی خدا داد عقل کو درست طور پر استعمال نہ کرے، وہ ہدایت سے محروم رہے گا۔
ہدایت کے سلسلے میں اصل چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کو محسوس طور پر تمام حقیقتیں دکھا دی جائیں، بلکہ اس معاملے میں اصل فیصلہ کن چیز یہ ہے کہ آدمی اپنی عقل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ درست طور پر وہ حاصل شدہ ڈیٹا (data) کا تجزیہ کر کے صحیح علم تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ محسوس حقیقتیں خواہ کتنی ہی زیادہ دکھائی جائیں، خواہ سارا عالمِ حقیقت ان کے لیے کھول دیا جائے، لیکن انسان اگر اپنی عقل کو درست طور پر استعمال نہ کرے تو وہ بدستور اندھا بنا رہے گا۔ وہ حقیقتوں کو دیکھ کر بھی حقیقتوں کا اعتراف نہیں کرے گا۔ ابلیس کا واقعہ اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے۔ ابلیس تمام حقیقتوں کو محسوس طور پر دیکھ چکا تھا، لیکن اس کی سرکشی نے اس کو اعتراف حق سے حقیقت یہ ہے کہ داخلی آمادگی کے بغیر کسی چیز کا اعتراف ممکن نہیں۔