Al-Risala · May 2026

ملی ہوئی چیز، نہ ملی ہوئی چیز

Al-Risala, May 2026, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے اپنا واقعہ بتایا کہ ان کو یہ تلاش تھی کہ ان کو زندگی میں فل فل مینٹ کیوں نہیں مثلاً بیوی ویسی نہیں، جیسی وہ چاہتے ہیں، معاشی ضروریات ان کی خواہش کے مطابق نہیں، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے انھوں نے قرآن کو پڑھنا شروع کیا۔ پڑھتے ہوئے انھوں یہ آیت پڑھی: اِنَّاۤ اَخْلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ (38:46)۔ نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا یعنی آخرت کی یاد دہانی۔

اس کو پڑھتے ہوئے ان کو یہ دریافت ہوئی کہ انبیاء کا اصل مشن تو آخرت کی تیاری ہے، جو کہ انسان کی اصل منزل ہے۔ جب وہ اصل منزل ہے تو موجودہ دنیا میں انسان کو اتنا ہی ملے گا جتنا کہ ایک مسافر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح ان کو اپنے سوال کا جواب مل گیا۔

جو لوگ مایوسی کی زندگی گزارتے ہیں، ان کے حالات کا مطالعہ کیجیے تو ہمیشہ ایک چیز ان کی زندگی میں مشترک طور پر ملے گی، اور وہ یہ کہ ان کی مایوسی کا سبب کوئی بھی ایسی چیز ہوگی جو ان کو زندگی میں نہیں ملی۔ اگر آپ غور کیجیے تو عین اسی وقت ان کو بہت سی چیز ملی ہوئی ہوگی۔ لیکن وہ ملی ہوئی چیز کو بھول جائیں گے، اور نہ ملی ہوئی چیز کو بہت زیادہ یاد رکھیں گے۔ اگر آدمی ایسا کرے کہ وہ ملی ہوئی چیز کو ڈسکور کرے، اور اس کو اپنے زندہ حافظے کا جزء بنائے تو وہ پائے گا کہ اس کے اندر جو مایوسی تھی، وہ بے سبب تھی۔ یہ علامت اتنی زیادہ عام ہے کہ تقریباً ہر شخص اس میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اگر آدمی اپنی زندگی کا جائزہ لے اور اپنے ملے ہوئے کو دریافت کرکے اس کے ساتھ جینا شروع کردے تو یقیناً وہ مایوس انسان کے بجائے پرامید زندگی گزارنا شروع کردے گا۔ لوگ عام طور پر غلط مطالعے کا شکار رہتے ہیں۔ اگر وہ زندگی کا صحیح مطالعہ کریں تو یقیناً ایسا ہوگا کہ اس کی مایوسی امید میں بدل وہ منفی سوچ میں جینے کے بجائے مثبت سوچ کے ساتھ جینے لگے گا۔ وہ تخریب کے بجائے تعمیر کی اصطلاحوں میں سوچے گا۔

Printed page