پوری زمین مسجد
Al-Risala, May 2026, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد (حدیث نمبر 22137) کے الفاظ یہ ہیں: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ پوری زمین کو میرے لیے اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک بنا دیا گیا ہے (وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا اس حدیث میں یہ خوش خبری ہے کہ آنے والا دور عالمی اظہارِ دین کا دور ہے۔ آنے والا ہے، جب کہ پوری زمین امت کے لیے دائرہ کار بن جائے گی۔ ان کے لیے پوری دنیا میں اسی طرح پرامن طریقے سے خدائی مشن کا کام کرنا ممکن ہوگا، جیسے کہ وہ مسجد میں پرسکون طریقے سے عبادت کا کام انجام دیتے ہیں۔ اس روایت میں مسجد صرف مقام سجدہ کے معنی میں نہیں ہے۔ وسیع تر معنی میں ہے۔ یعنی پوری دنیا آپ کے لیے مواقع کی دنیا بنا دی گئی ہے۔ اب شکایت نہیں کرنا ہے، بلکہ مواقع کو تلاش کر کے اپنا کام کرنا ہے۔ پوری انسانیت کو خدا کے پیغام سے آگاہ کرنے کا کام کرو۔ اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت کا مشن مکمل طور پر ایک پیس فل (peaceful) دعوہ مشن ہے، جیسے کوئی مسجد میں پرامن طریقے سے عبادت کا کام کرتا ہے۔ پیس فل دعوہ ورک کرنے والوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ کامیابی کے ساتھ سارے عالم کو اپنا ورک پلیس (workplace) بنائے دوسرے الفاظ میں یہ حدیث دور جدید کی پیشین گوئی ہے۔ یہی وہ دورِ جدید ہے جس میں انسانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور دوسروں کو اس سے باخبر کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ یہ اس کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ قدیم دور مذہبی جبر کا دور تھا۔ اس دور میں کسی انسان کو نہ اپنی چوائس (choice) کے مذہب پر عمل کی آزادی تھی، اور نہ ہی وہ اس کی تبلیغ کر سکتا تھا۔ تمام تر اہل مغرب کی دَین ہے، حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم بھی اسلام کی تائید کا کام کریں گے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی، بے شک اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید ان لوگوں کے ذریعے کرے گا، جو اہل (دین) میں سے نہ ہوں گے۔
دورِ جدید حقیقت میں دورِ دعوت ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے دورِ انسانیت ہے، یعنی داعی تمام انسانوں کے لئے یک طرفہ طور پر خیر خواہ ہوتا ہے۔ اب داعی کی پلاننگ یونیورسل پلاننگ ہونی شرط صرف یہ ہے کہ داعی کے دل میں بالکل بھی منفی سوچ (negativity) نہیں ہونی ہمارا آؤٹ لک یونیورسل آؤٹ لک ہونا چاہیے۔ پوری دنیا ہمارے لیے مدعو ہے، اور ہم پوری دنیا کے لیے داعی ہیں۔ ایک مرتبہ پیغمبرِ اسلام نے کہا تھا: كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُونِيهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 417)۔ یعنی، ایک کلمہ جو تم قبول کرو گے، اس کے ذریعے تم عرب پر غلبہ حاصل کر لو گے، اور عجم تمھارے آگے جھک جائیں گے۔ یہ گویا اہلِ اسلام کے لیے رہنمائی ہے کہ آنے والے دور میں ان کو کیا کام کرنا ہے۔ ہے پوری دنیا میں توحید کا کلمہ یعنی توحید کی آئیڈیالوجی کو پہنچانا۔ اوپر مذکور مسجد والی حدیث کورسول اللہ کے اس دوسرے قول کے ساتھ ملایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب ساری دنیا میں اہلِ ایمان کو دین پر عمل کرنے اور دین کی دعوت دینے کی آزادی ہوگی تو امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دور کو اپنے لیے خدا کا عطیہ سمجھیں، اور پرامن طریقے سے ساری دنیا میں توحید کا کلمہ پہنچائیں۔ نصاب یا محرّک اعلیٰ تعلیم کے لیے صرف نصاب کافی نہیں ہے، بلکہ کمپٹیشن کا ماحول انتہائی ضروری ہے۔ اصل یہ ہے کہ کسی بھی میدان میں ترقی کے لیے محرّک (motivation) درکار ہوتا کمپٹیشن کا ماڈل ماٹیویٹنگ ماڈل (motivating model) ہے۔ قوم کے اندر جن لوگوں نے تعلیم کے میدان میں کام کیا، انھوں نے زیادہ تر نصاب بنانے پر زور دیا، کمپٹیشن کو نظر انداز کر دیا۔ اس لیے مسلم قائدین تعلیم تعلیم کہتے رہتے ہیں، مگر مسلم قوم کو عملاً کچھ حاصل نہیں ہوتا۔