Al-Risala · May 2026

خدا کا ذکر

Al-Risala, May 2026, pp. 23–27

By Maulana Wahiduddin Khan

30 اپریل تا 2 مئی 1984 میں گونڈہ میں تھا۔ وہاں میرا قیام جناب عبد المحیط خاں صاحب کے یہاں تھا جو گورنمنٹ پالی ٹیکنک میں پرنسپل ہیں۔ شہر کے باہر تقریباً 165 ایکڑ کے رقبہ میں ایک الگ تھلگ دنیا ہے جو درختوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ دہلی کے ہنگاموں سے نکل کر اچانک 30 اپریل کی صبح کو میں نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں قدرت کے سکون کو صرف چڑیوں کے چہچہے جہاں انسانی مصنوعات سے زیادہ خدائی مصنوعات دکھائی دیتی تھیں۔ رات کو لان میں چار پائی کے اوپر لیٹا تو کھلے آسمان کا وہ منظر دکھائی دیا جس میں خدا کے سوا کسی اور کا جلوہ شامل نہیں کھلا ہوا آسمان جس میں ستارے جگمگا رہے ہوں، ایک ایسا منظر ہوتا ہے جو خدا کی عظمت کا زندہ اعلان بن جاتا ہے۔

میں آسمان کے مہیب منظر میں کھویا ہوا تھا کہ ایک روشن چیز ایک طرف سے دوسری طرف جاتی ہوئی نظر آئی۔ یہ بظاہر غیر متحرک ستاروں کے درمیان ایک متحرک ستارہ تھا۔ مجھے یاد آیا کہ یہ انسانی ساخت کا سیارہ ہے جو سورج کی روشنی پڑنے سے چمک رہا ہے۔ آجکل مختلف ممالک نے سیکڑوں کی تعداد میں اپنے خلائی سیارے اوپر بھیج رکھے ہیں جو مسلسل زمین کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور رات کے مختلف حصوں میں دیکھنے والوں کو نظر آتے ہیں۔ یہ مصنوعی سیارہ دیکھنے میں ایک روشن ستارہ تھا۔ دوسرے تارے بظاہر ٹھہرے ہوئے تھے اور وہ تیزی سے ایک طرف سے دوسری طرف کو چلا جا رہا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آسمان کے ستارے اس سے کہیں زیادہ روشن ہیں اور کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ گردش کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ستارے ٹھہرے ہوئے نظر آتے ہیں اور مصنوعی سیارے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ستارے بہت زیادہ دور ہیں اور مصنوعی سیارہ بہت زیادہ نیز یہ کہ ستاروں کی روشنی ان کی اپنی روشنی ہے اور مصنوعی سیارہ کی روشنی صرف سورج کی اگر سوچنے والی عقل نہ ہو تو صرف دیکھنے والی آنکھ آدمی کو کتنی بڑی غلطی میں مبتلا کر سکتی ہے۔

کائنات خدا کی جلوہ گاہ ہے۔ آدمی اس کے اندر سفر کرتا ہے مگر اس کے سفر میں اور مصنوعی سیارہ کے سفر میں کوئی فرق نہیں۔ انسان خدا کی دنیا میں اپنے صبح و شام بناتا ہے مگر خدا سے اس کی ملاقات اس کی زندگی میں کوئی ایسا موڑ نہیں آتا جب کہ خدا سے اس کا سامنا ہو اور وہ اس سے باتیں کرے ۔ خدا کی تجلیوں میں سے کسی تجلی سے اس کی نظر نہیں ٹکراتی جو اس کو تڑپائے اور اس کو اشک بار کردے۔

یکم مئی کا سورج طلوع ہوا اور ہرے بھرے درختوں پر اس کی سنہری کرنیں پڑیں تو درخت اس کی روشنی سے چمک اٹھے۔ چڑیاں پھدکنے اور چہچہانے لگیں۔ درختوں کی شاخیں ہواؤں میں ہلتی ہوئی دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا گو یا وہ ربانی نغمہ کوسن کر رقص کر رہی ہوں ۔ سارا ماحول قدرتی حسن کے سیلاب میں ڈوب گیا۔ اچانک میری زبان پر قرآن کی یہ آیتیں آگئیں:

وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (39:69)۔ یعنی، اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔ اور کتاب رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کیے جائیں گے۔ لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ میں نے کہا، آج کی دنیا سورج کے نور سے روشن ہوتی ہے، آخرت کی دنیا براہ راست نور خداوندی سے روشن ہوگی۔ آج کائنات کی چیزیں خدا کے آلاء (کرشموں) پر غیر ملفوظ حمد کہہ رہی ہیں، آخرت میں ساری کائنات ملفوظ طور پر الحمد للہ رب العالمین کہہ اٹھے گی۔ آج ہر آدمی اپنی مرضی چلانے کے لیے آزاد ہے، آخرت میں کتاب اور میزان عدل کی حکمرانی ہوگی۔ آج دھاندلی اور موقع پرستی زور ہے، آخرت میں صرف ان باتوں میں زور ہوگا جن کو لے کر انبیاء اور شہدا کھڑے ہوئے۔ خدا کے ظہور کے بعد دنیا کیسی عجیب و غریب دنیا ہوگی۔ اس کا ابتدائی اندازہ اسی فانی دنیا میں ہو یہاں قدرت کی دنیا کو دیکھیے ۔ سورج یہ مظاہرہ کر رہا ہے کہ تاریک مادہ کس طرح خدا کے حکم سے روشن ہو جاتا ہے۔ درخت یہ منظر پیش کر رہے ہیں کہ خدا کس طرح مادہ کو شاداب درخت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ زندگی کی انواع بتا رہی ہیں کہ خدا کا اشارہ پا کر کس طرح بے جان چیز جاندار کی

صورت اختیار کرلیتی ہے۔ انسانی دماغ کا حیرت ناک واقعہ بتا رہا ہے کہ بے شعور جسم کس طرح شعور اور ارادہ کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔

خدا کی دنیا کیسی عجیب ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہم یہ سوچیں کہ کیا تمام انسان مل کر ایسی دنیا بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان مل کر ایک پتی بھی نہیں بنا سکتے اور کائنات کا یہی ایک پہلو اس کی حیرت ناکی کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

انسان کے لیے کوئی ایسا کارخانہ بنانا ممکن نہیں جس کے اندر مٹی ڈالی جائے اور وہ درخت بن کر نکلے جس کے اندر گھاس ڈالی جائے اور وہ دودھ اور گوشت بن کر نکلے ۔ جس کے اندر لکڑی اور پتھر ڈالا جائے اور وہ پھول اور پھل بن کر نکلے ۔ مگر خدا کی دنیا میں ہر آن بے حساب مقدار میں یہ سارے واقعات ہورہے ہیں۔

امریکی انسان جب خلائی جہاز کے ذریعہ چاند پر پہنچا تو میں اس روزرات کو ایک اردو اخبار کے دفتر میں گیا۔ اس وقت ٹیلی پرنٹر پر تفصیلات آرہی تھیں اور وہ مسلسل ترجمہ کرکے کاتب صاحبان کو دی جارہی تھیں۔ ایڈیٹر صاحب نے گفتگو کے دوران کہا: بڑی تھرلنگ نیوز آ رہی ہیں۔ میں نے سوچا، کیسی عجیب بات ہے کہ انسانی واقعات لوگوں کے اندر تھرل (thrill) پیدا کر مگر خدائی واقعات ان کے اندر کوئی تھرل پیدا نہیں کرتے۔ لوگ مخلوقات کے کارناموں کو دیکھ کر جھوم اٹھے ہیں مگر خالق کے کارناموں کو دیکھ کر جھومنے والا کوئی نہیں۔ گراموفون کا ریکارڈ بظاہر ایک کامل خاموش تختی ہے۔ لیکن اس کے اوپر سوئی رکھ دیجیے تو اچانک وہ ایک انتہائی بولنے والی تختی بن جائے گی ۔ یہی حال موجودہ کائنات کا ہے۔ انتہائی خاموش ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ریکارڈ سے زیادہ آوازیں اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ نے کمال درجہ قدرت کے ساتھ ایک انتہائی بولتی ہوئی کائنات کو ایک انتہائی خاموش کائنات میں تبدیل کر دیا ہے ۔ تا کہ اس کے سریلے نغموں کو وہی لوگ سنیں جو اس کو سننے کا حق رکھتے ہیں۔ ناکارہ لوگ ہیں وہ اس کو سننے اور جاننے سے اندھے بہرے بنے رہیں۔

آج کی دنیا کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہی اندھا پن اور بہرا پن ہے۔ کائنات خدا کا انتہائی

کھلا ہوا اظہار ہے۔ مگر یہی سب سے زیادہ کھلا ہوا اظہار آج سب سے زیادہ چھپا ہوا واقعہ بن گیا آج نہ کوئی آنکھ ہے جو اس کو دیکھے اور نہ کوئی زبان ہے جو اس کو بیان کرے۔ خدا کی دنیا خدا کی باتوں سے خالی ہو رہی ہے۔ آج انسانوں کی عظمت بیان کرنے والے بے شمار ہیں، مگر خدا کی عظمت بیان کرنے والا کوئی نہیں۔ تاریخی نشانیوں کو دیکھ کر لوگ تڑپ رہے ہیں، مگر خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر تڑپنے والا کوئی نہیں۔ مخلوقات کی شان میں گم ہونے والے بے شمار ہیں، مگر خدا کی شان میں گم ہونے والا کوئی نہیں۔

آہ، کیسی عجیب ہے وہ دنیا جہاں ہر طرف دوڑ لگ رہی ہو، مگر خدا کی طرف دوڑنے والا کوئی نہ جہاں انسانی تقریریں سننے کے لیے لوگوں کی بھیڑ جمع ہو، مگر جہاں خدا کی آواز نشر کی جارہی ہے وہاں سناٹے کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔

اگر کوئی شخص دور کائنات میں کھڑے ہو کر پوری کائنات کو دیکھ سکے تو وہ ایک حیرت انگیز منظر کو اپنی آنکھ سے دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ ایک اتھاہ کائنات ہے جس میں یا تو دہشت ناک خلا ہے، یا دہکتے ہوئے ستارے یا پھر خشک دوڑتی ہوئی چٹانیں ۔ اس نا قابل قیاس حد تک وسیع کائنات میں ایک ہی استثنا ہے اور وہ اس چھوٹے سے ذرے کا ہے جس کو زمین کہتے ہیں۔ معلوم کائنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا کرہ ہے جہاں پانی کی روانی ہے۔ جہاں ہریالی کا رقص ہے۔ جہاں زندگی کی جہاں یہ حیرت ناک واقعات پائے جاتے ہیں کہ مادہ ہریالی میں تبدیل ہو۔ گھاس کھانے والے گھاس کھا کر اس کو دودھ اور گوشت میں کنورٹ کریں۔ جہاں وہ انسان ہو جو دیکھے اور سوچے اور نقشہ بنائے۔

ایسی استثنائی زمین پر انسان کو بسانا بتاتا ہے کہ خدا انسان کے اوپر ایک استثنائی انعام کرنا وہ یہ کہ کائنات کے اندر ایک انوکھی دنیا بنائی جائے جس کا نام جنت ہو۔ جہاں ہر قسم کی لذتیں جمع ہوں۔ جو ہر قسم کے ناموافق حالات سے پاک ہو۔ جو خدا کی صفات کمال کا ابدی ظہور ہو۔ ”یہ انوکھی جنت کس کو ملے گی“، میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ اور قدرت کی حسین دنیا میرے لیے اس سوال کا جواب بن گئی۔ موجودہ زمین گو یا ایک قسم کا ابتدائی نمونہ ہے، جو بتاتا ہے کہ

خدا آئندہ اپنی پسند کی کون سی دنیا بنانا چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہ وہ اپنی پسند کی اس دنیا میں کس قسم کے لوگوں کو بسائے گا۔ جنت اس کو ملے گی جو خدا کی دنیا میں درخت کی طرح شادابی کا ثبوت وہ اس کو ملے گی جو چڑیوں کی طرح خدا کی حمد کے نغمے گائے۔ وہ اس کے حصہ میں آئے گی جس کی روح سورج اور چاند کی طرح خدا کے نور سے چمک اٹھی ہو۔

یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں خدا کے داعی بنتے ہیں۔ خدا کی دعوت خدا کے اس خاموش پیغام کی ترسیل (relay) کا دوسرا نام ہے جو کائنات میں ہر آن نشر ہو رہا ہے۔ خدا کا داعی وہ ہے جو خدا کے فیضان کا آخذ (recipient) بن جائے۔ وہ بولے تو اس کی آواز زمین و آسمان میں بلند ہونے والی گونج سے ہم آہنگ ہو جائے۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات، انسانی الفاظ میں اس حمد کی ترجمانی بن جائیں، جو چڑیوں کی زبان سے فطرت کے لہجے میں سنائی جا رہی ہے۔ آخرت کا داعی بننے کے لیے دنیا سے بلند ہونا پڑتا ہے۔ لوگ دنیا میں گم ہیں پھر وہ آخرت کے داعی کیسے بن سکتے ہیں۔ داعی بھی اگر وہیں کھڑا ہوا ہو جہاں لوگ کھڑے ہوئے ہیں تو وہ کبھی لوگوں کے اوپر داعی نہیں بن خدا کی معرفت انسان خدا کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا، لیکن وہ کائنات کے مشاہدے اور اس کے نظام کی معرفت کے ذریعے خدا کی موجودگی کے یقین تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات خود ایک قائم شدہ حقیقت ہے، اور خدا وہ ہستی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ دوسرے لفظوں میں، خدا اس کائنات کو عدم سے وجود میں لایا، اور وہ ہر لمحہ اسے قائم رکھنے کے اسباب پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایک انسان کائنات میں پھیلی ہوئی ان نشانیوں کے ذریعے خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔

Printed page