کامیابی کا راز
Al-Risala, May 2026, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
الفریڈ ایڈلر (1937-1870) مشہور نفسیاتی عالم (Psychologist) ہے۔ اس کا مخصوص موضوع شخصی نفسیات (Individual Psychology) ہے۔ پوری عمر انسان اور انسان کی چھپی ہوئی محفوظ قوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے یہ اعلان کیا کہ انسانی شخصیت کی خصوصیات میں سے ایک حیرت ناک خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک نہیں کو ہے میں تبدیل کر سکے : One of the wonder-filled characteristics of human beings is "their power to turn a minus into a plus."
(Dale Carnegie: How to Stop Worrying and Start Living, Ch. 17, p. 143)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتہائی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ایک نفسیات کی زبان سے اس کا اعتراف ہے۔ اسی صلاحیت کی آخری حد یہ ہے کہ انسان تاریکی میں بھی روشنی کا پہلو دیکھ لیتا ہے۔ وہ ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر سکتا ہے۔ جب اس کی بازی کھوئی گئی ہو، اس وقت وہ دوبارہ اپنے لیے نیا میدان تلاش کر لیتا ہے، جس میں جدوجہد کر کے، وہ از سر نو اپنی منزل پر پہنچ جائے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان فطری طور پر well equipped ہے کہ وہ اپنے "نہیں" کو اپنے "ہے" میں تبدیل کر سکے۔ لیکن اس کی ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ وہ نزاعی طریق کار (confrontational approach) کو چھوڑے، اور مینجمنٹ (management) کا طریقہ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی کوئی صورت حال سامنے آئے، تو پہلے اس کا مطالعہ (study) کرے، اور پھر غیر نزاعی طریق کار (non-confrontatioanl approach) کو اختیار کرتے ہوئے آبجیکٹیو طریقے (objective way) میں اپنے عمل کی پلاننگ کرے ۔ زندگی میں کامیابی کا راز مینجمنٹ پر مبنی ہے، نہ کہ چینج (change) پر ۔ غیر نزاعی طریق کار ہمیشہ مثبت نتیجہ (positive result) دیتا ہے، اور نزاعی طریق کار ہمیشہ مسئلے میں اضافہ کرتا ہے۔
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر صورت حال میں کام کے مواقع موجود رہتے ہیں۔ مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں کام کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ صورت حال میں مواقع (opportunities) کی بنیاد پر اپنے کام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ تلاش کرنا، اور مواقع کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنانا، دانش مندانہ طریقہ ہے۔ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، جو اسباب کی رعایت کرتے ہوئے بنایا جائے۔ اس دنیا میں منصوبہ بند کام ہی حقیقی کام ہے۔ جو کام غیر منصوبہ بند انداز میں کیا جائے، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے عملاً کوئی کام نہیں ہوتا۔ جب بھی ایسا ہو کہ آپ کا کوئی عمل بے نتیجہ رہ جائے، تو ہر گز کسی دوسرے کو الزام نہ دیجیے، بلکہ بے لاگ احتساب کے ساتھ خود اپنے منصوبے کی خامی کو تلاش اپنے منصوبے کی خامی درست کیجیے، آپ دوبارہ کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسٹیج ایکٹوزم کا دور موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے اسٹیج ایکٹوزم کا زمانہ ہے۔ جو آدمی اسٹیج پر عوام پسند بولی بول سکے، وہ اچانک مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ لوگ اس کی باتوں کو شوق کے ساتھ سنتے ہیں، اور تالیاں بجاتے اس کو تیزی سے سستی مقبولیت (cheap papularity) حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ میڈیا میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ خوبصورت الفاظ بولنا ہی اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ ہر جگہ سنا جائے۔ میں اور اخبارات میں اس کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ مجلسوں میں اس کا چرچا ہوتا ہے، وغیرہ۔ اسٹیج کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے اندر احتساب خویش (self-introspection) کا مزاج نہیں بن پاتا ہے، اس کے بجائے وہ احتساب غیر میں جینے ایسے لوگ دوسروں کو خوش کرنے والی بولی بولتے ہیں۔ انھیں اس کا وقت نہیں ملتا کہ وہ اپنے بارے میں سوچیں، اور اپنے ذہنی ارتقا کی فکر کریں۔