Al-Risala · May 2026

ڈائری 1986

Al-Risala, May 2026, pp. 39–45

By Maulana Wahiduddin Khan

آج ایک خط موصول ہوا۔ خط میں مکتوب نگار کا نام و پتہ حسب ذیل لکھا ہوا تھا : جناب امان اللہ صاحب، صدر آل انڈیا تنظیم فلاح ملت، ضلع جون پور اپنے اس خط مورخہ 17 جولائی 1986 میں وہ لکھتے ہیں: ”ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلمانوں نے جو خواب دیکھا تھا وہ آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اب تک کے فسادات میں تقریباً ڈھائی لاکھ مسلمان جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ کبھی مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی جاتی ہے۔ قرآن پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ کبھی مسجد کو بت خانہ بنایا جاتا ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں کو کھانے کے لیے بندوق کی گولی، رہنے کے لیے قبرستان، پہننے کے لیے کفن دیا جاتا کیا ان حالات کے پیش نظر موالات حرام اور ترک موالات واجب ہے۔ اس کے جواب میں، میں نے مکتوب نگار کو لکھا :

”آپ کا خط مورخہ 17 جولائی کو ملا۔ آپ اگر واقعتا ملت کے مستقبل کی تعمیر کے لیے سنجیدہ ہیں تو میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ ماہنامہ الرسالہ کی ایجنسی لے لیں۔ اور محنت کر کے اس کو اپنے علاقہ یہی مسئلہ کا حل ہے۔ اس کے سوا جو باتیں ہیں وہ سب محض ذہنی ورزش ہیں، جن کا کوئی فائدہ نہ آپ کو ملنے والا ہے اور نہ امت مسلمہ کو“۔

یہ بات جو میں نے لکھی، یہ بطور مذاق نہیں لکھی۔ بلکہ سنجیدہ طور پر یہی میرا خیال ہے۔ اس وقت جن مسائل میں مبتلا ہیں، ان سب کی ایک ہی جڑ ہے۔ اور وہ ان کی بے شعوری ہے۔ بے شعوری میں ان کے اصاغر اور اکابر سب مبتلا ہیں۔ الرسالہ کی تحریک قوم کو اس بے شعوری سے نکالنے کی تحریک ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کو اس کے سوا اور کیا مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ الرسالہ کو پڑھیں اور دوسروں کو اسے پڑھائیں۔

پاکستان کا ایک ہفت روزہ اخبار ہے، جس کا نام ہے ”المنبر“۔ یہ فیصل آباد سے نکلتا ہے اور اس کے ایڈیٹر حکیم عبد الرحیم اشرف ہیں۔ حکیم عبد الرحیم صاحب پاکستان کے فوجی حکمراں جنرل ضیاء الحق کے زبردست حامی ہیں۔ وہ برابر ان کی حمایت میں لکھتے رہے ہیں۔ المنبر (8 جولائی 1986) میں پاکستان کے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں :

”یہی ماحول تھا کہ 5 جولائی 1977 کو مارشل لا کا اعلان ہوا اور پورے ملک میں جشن گرتی ہوئی دیواریں تھم گئیں اور مارشل لانے دین، عظمت، شرافت، جان، مال ہر چیز کو تحفظ فراہم کیا۔

حتی کہ اس مضمون میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں :

”صدر محمد ضیاء الحق کے دور میں امتناع قادیانیت آرڈیننس مارشل لا کے تحت نافذ کیا اور عہد صدیقی کے بعد، تاریخ میں پہلی مرتبہ ادعاء نبوت کا ذبہ کے استیصال کا

ایک طرف صدر ضیاء الحق صاحب کی یہ قصیدہ خوانی ہے۔ دوسری طرف انہیں ضیاء الحق صاحب کے بارے میں پاکستان کی جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل قاضی حسین احمد کی تقریر اسی المنبر میں درج ہے جس میں یہ الفاظ شائع ہوئے ہیں :

”(صدر محمد ضیاء الحق کے) مارشل لا کے 9 سالہ دور میں اسلامی نظام کے نفاذ کے عمل کو جتنا نقصان پہنچا اتنا پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا۔

ایک بیان کے مطابق پاکستان میں اسلام بالکل محفوظ ہے اور دوسرے بیان کے مطابق بالکل یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ یہ دونوں بیان کسی ایک ہی ملک کے بارے میں ہیں یا دو الگ الگ ملک کے بارے میں۔

خواجہ کلیم الدین نائجیریا (کافو) میں رہتے ہیں۔ وہاں وہ انگریزی کے ٹیچر ہیں۔

وقت انہوں نے بتایا کہ الرسالہ اردو وہ شروع سے پڑھتے رہے ہیں۔ پھر ایک روز انہوں نے افریقہ میں مجھ کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں ان کو میں کالے افریقی کی صورت میں نظر آیا۔ اس کے بعد ان کے ذہن میں آیا کہ وہ انگریزی الرسالہ افریقہ میں چھاپیں ۔ اور اس کو "کالے براعظم" میں پھیلائیں۔ انہوں نے مارچ 1986 میں شائع کیا تھا اور اب ان کے مطابق وہ وہاں کافی مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ اس عمل کا آغاز 1979 سے ہوتا ہے، جب کہ الرسالہ کے دعوتی فکر کے تحت شیخ محمد سلیمان القائد طرابلس چھوڑ کر کیگالی ( روانڈا ) پہنچے، جو وسط افریقہ میں واقع ہے۔ یہاں انہوں نے تعارف اسلام کا کام شروع کیا۔ وہ اگست 1986 میں ہمارے مرکز (نظام الدین ویسٹ ، دہلی) آئے یہاں انہوں نے عربی میں ایک تقریر کی ۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ افریقہ میں جو دعوتی کام میں کر رہا ہوں وہ تمام تر اسلامی مرکز کا کام ہے۔ میں نے اس کو وحید الدین خاں ہی کے ذریعہ جانا ہے، نہ کہ کسی اور کے ذریعہ:

إِنَّ الحَقِيقَةَ أَنَّ كُلَّ هَذِهِ التَّجْرِبَةِ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ (وَحِيدِ الدِّينِ خَان) - هَذَا الَّذِي عَلَّمَنِي الدَّعْوَةَ، لَا المَوْدُودِي وَلَا سَيِّدُ قُطْب ... انہوں نے چار افریقی ملکوں (روانڈا ، یوگنڈا ، زائیر ، تنزانیہ) میں تعارف اسلام کا کام پھیلا رکھا انہوں نے دہلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا:

هَذِهِ أَوَّلُ مَرَّةٍ طُبِّقَتْ فِكْرَةُ الرِّسَالَةِ فِي كِيغَالِي (أَفْرِيقْيَا) شیخ القائد کا ایک تاثر ان کے اپنے عربی الفاظ میں الرسالہ 4 نومبر 1984 (صفحہ 40) میں شائع ہو چکا ہے۔ 1979 میں شیخ سلیمان القائد نے افریقہ میں جا کر کام شروع کیا۔ پھر خواجہ کلیم الدین صاحب ہندوستان سے افریقہ گئے اور وہاں 1984 میں الرسالہ انگریزی کا افریقی ایڈیشن نکالنا شروع بظاہر یہ معمولی واقعات نہیں ہیں ۔ یہ گویا اس مشن کی فکری ہجرت ہے۔ میں نے الرسالہ اور کتابوں میں دعوت کا جو تصور دیا ہے، وہ ہندوستان میں ابھی تک عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔ میں پھیل رہا ہے۔

بھوپال کے ایک صاحب ملاقات کے لیے آئے۔ وہ کلکٹریٹ میں رجسٹرار کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی ریاستوں کے بارے میں دلچسپ باتیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں نواب کوروائی کانگریس پارٹی کے خلاف سرگرم تھے۔ نے کہا کہ آپ ہر الیکشن میں کانگریس کے خلاف رہتے ہیں اور اپوزیشن پارٹیوں کا ساتھ دیتے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا:

”جس کانگریس نے ہماری ریاست چھینی ہے، ہم بھلا اس کا ساتھ دے سکتے ہیں؟ نواب کوروائی کے اس جواب میں جو نفسیات جھلک رہی ہے، وہی ہندوستانی مسلمانوں کی عام قومی نفسیات ہے۔ ہندوستان کے مسلمان پچھلے دوسوسال سے اسی قسم کی منفی نفسیات کا شکار ہیں۔ ہندوستان میں ریاستوں کا خاتمہ زمانہ کی تبدیلی کی بنا پر تھا۔ جن نوابوں یا راجاؤں نے اس راز کو وقت پر سمجھا انہوں نے نئے حالات کے مطابق عمل کر کے اپنے مفادات کو محفوظ کر لیا۔ نواب جون پور نے اپنے اثاثہ کو مختلف تجارتی مدوں پر لگا دیا۔ کشمیر کے کرن سنگھ نے جمہوری حکمرانوں کا ساتھ دے کر وزارت حاصل کر لی۔ مگر جن ریاستوں نے اس کو محض ایک ”پارٹی“ کا معاملہ سمجھا، وہ بس اس پارٹی کی مخالف بن کر رہ گئیں۔

یہی معاملہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ میں وہ اس احساس کا شکار ہوئے کہ انگریز نے ان سے ان کی ”ریاست“ چھینی۔ چنانچہ وہ انگریزوں کے خلاف نفرت اور انتقام سے بھر گئے۔ پورا انگریزی دور انہوں نے اس طرح گزارا کہ وہ انگریز کے خلاف صرف منفی کارروائی کرتے رہے اور اپنی قومی تعمیر کی کوئی مثبت منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ پوری مدت میں چند بدنام مسلمانوں کے سوا کسی کا کوئی استثنا نہیں۔

آزادی کے بعد بیسویں صدی میں وہ اس منفی نفسیات کا شکار ہیں کہ ہندو نے ان سے ان کی ”ریاست“ چھین رکھی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوبارہ وہ نفرت اور جھنجھلاہٹ سے بھرے ہوئے

اس ملک کے مسلمان جس چیز پر کھڑے ہوئے ہیں، وہ محض نفرت ہندو ہے، نہ کہ معرفت یہ حالت باقی رہی تو دوبارہ ان کے حصہ میں بربادی کے سوا کچھ اور آنے والا نہیں۔ ہندوستان ٹائمس (28 جولائی 1986) میں صفحہ 8 پر ایک مضمون ہے، جس کا عنوان ہے: Babuji Died in Mental Torture یہ ہر یجن لیڈر بابوجگ جیون رام کے بارے میں ان کی لڑکی مسز میرا کمار کا بیان ہے۔ کہا کہ بابو جی سخت ذہنی اذیت کے تحت اس دنیا سے گئے۔ ان کا لڑکا سریش رام ایک سال پہلے اس کے بعد بابوجگ جیون رام بالکل ڈھ گئے۔ یہاں تک کہ جولائی 1986 کے پہلے ہفتے میں ان کا انتقال ہو گیا۔

یہی موجودہ دنیا کی کل حقیقت ہے۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سخت ڈپریشن کی حالت میں 1964 میں مرے۔ 1962 میں چین کے مقابلہ میں ہندوستان کی شکست نے ان کو اندر سے ختم کر دیا تھا اور اسی میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی کو خود ان کے سیکورٹی کے آدمیوں نے 1984 میں گولی مار کر ختم کر دیا۔ لال بہادر شاستری نے تاشقند (روس) میں پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کیا۔ یہ معاہدہ ان کی قومی آرزوؤں کے مطابق نہ تھا۔ تاشقند ہی میں ان پر دل کا دورہ پڑا اور وہیں وہ 11 جنوری 1966 کو ختم ہو گئے۔ ان کی صرف لاش ہندوستان لائی جاسکی۔ تھوڑی تھوڑی مدت کے لیے ہونے والے وزیر اعظم مرار جی دیسائی (پیدائش 1896) اور چرن سنگھ (پیدائش 1902) ہندوستان میں سیاسی بے عزتی کا نشان بن کر رہ گئے۔ جیون رام کے وزیر اعظم یا کم از کم صدر بننے کا خواب دیکھ رہے تھے اور آخر میں مکمل حسرت اور یاس کے ساتھ انہیں دنیا کو چھوڑنا پڑا۔

کیسا عجیب ہے انسانی زندگی کا یہ انجام۔ مگر کیسا عجیب ہے وہ انسان جو ان کھلے کھلے واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ کامیابی اور ناکامی اس دنیا میں اضافی الفاظ ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو آخرت میں کیونکہ اس دنیا میں کامیاب ہونا تو ممکن ہی نہیں۔

1976 میں جب میں نے الرسالہ نکالا تو ابتداء لوگوں نے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کیا۔ وقت لوگوں نے کہا کہ وحید الدین خاں کے اندر کسی کام کو کرنے کی صلاحیت نہیں۔ ان کا رسالہ چند ماہ نکلے گا۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ بند ہو جائے گا۔

مگر الرسالہ چلتا رہا اور بڑھتا رہا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ان کی امیدوں کے خلاف الرسالہ برابر نکلتا جا رہا ہے تو انہوں نے دوسرا شوشہ تلاش کر لیا۔ اب انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ قذافی کے پیسے کا کرشمہ ہے۔ دشمنِ اسلام قذافی ان کی مدد کر رہا ہے۔ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری مسلم دنیا میں یہ بات پھیلا دی گئی۔ اس جھوٹے پروپیگنڈے کا خاص مقصد یہ تھا کہ خلیجی ممالک مجھ سے متنفر ہو جائیں اور میری کوئی مالی مدد نہ کریں۔

مگر یہ مہم بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ دس سال کی مختصر مدت میں اللہ تعالیٰ نے اس مشن کو اتنا بڑھایا کہ فکری طور پر وہ تمام دوسرے افکار و نظریات پر غالب آ گیا۔ نام نہاد مسلم مفکرین سب کے سب نمبر 2 پر چلے گئے۔

اس طرح قذافی کا شوشہ عملاً بے فائدہ ہو گیا۔ اب ان حضرات کے زرخیز دماغ نے تیسرا شوشہ دریافت کر لیا۔ آج کل وہ نہایت استقلال کے ساتھ یہ مشہور کر رہے ہیں کہ یہ تو محض شخصی تماشا (one man show) ہے، یہ کوئی اجتماعی ادارہ نہیں۔ وحید الدین خاں کے مرتے ہی اپنے آپ یہ سارا ہنگامہ ختم ہو جائے گا۔ اور اگر زندہ رہے گا تو محض ایک خاندانی مکتبہ کی

یہ تیسرا پروپیگنڈا بھی نہایت تیزی سے ہر جگہ پھیلا دیا گیا ہے۔ تمام عربوں کے ذہن میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ یہ بات ڈالی جا رہی ہے۔ مگر ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ اپنا یہ پر فریب پروپیگنڈا ساری دنیا کے کان میں ڈال دیں، مگر وہ اس کو خدا کے کان میں نہ ڈال سکیں گے اور یہی واقعہ میرے اطمینان کے لیے کافی ہے۔

امریکہ کو موجودہ زمانے میں سائنس کے میدان میں دوسری قوموں پر برتری حاصل ہے۔ واقعہ کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ یہ برتری اس نے بہت کم وقت میں حاصل کی۔ اور اس کا راز یہ ہے کہ اس نے ساری دنیا کے اعلیٰ ذہن کو اپنے ملک میں جمع کر لیا۔

امریکہ نے ان سائنس دانوں کا خیر مقدم کیا جو دو عالمی جنگوں کے درمیانی زمانہ میں یورپ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اس سلسلے میں امریکہ نے ان کے ساتھ پوری طرح فراخ دلی کا معاملہ ان سائنس دانوں کو شہریت کے حقوق دیے گئے۔ ان کے ساتھ یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ وہ اپنا کام پورا کرنے کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں، وغیرہ۔

ان سائنس دانوں کی مادری زبانیں دوسری تھیں ۔ انہوں نے امریکہ آ کر انگریزی سیکھی اور اس میں مہارت پیدا کی۔ امریکہ میں ان کو اور ان کے خاندان کو پوری طرح ترقی کرنے کا موقع ملا۔ این ریکو فرمی (Enrico Fermi, d. 1954) ایک مشہور سائنس داں ہے۔ وہ روم میں 1901 میں پیدا ہوا۔ وہ نیوکلیئر ایج کے بانیوں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ 1938 میں اس کو فزکس کا نوبل انعام ملا۔ اسی سال وہ امریکہ چلا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسٹاک ہوم کی تقریب کے فوراً بعد اس نے یہ کیا کہ نوبل انعام کی رقم سے اپنا اور اپنے خاندان کا ٹکٹ خریدا اور امریکہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ میں ان سے کہا گیا کہ وہ ایٹمی ری ایکٹر چلائیں۔ اگر چہ بعض سیاسی وجوہ سے ان کو امریکی شہریت 1944 میں دی گئی ۔ مگر امریکہ میں داخل ہوتے ہی ان کو ہر قسم کے حقوق حاصل ہو گئے تھے۔ یہی اعلیٰ ظرفی ہر قسم کی ترقی کی اصل بنیاد ہے۔ ایک لفظ میں اس دنیا میں کامیابی کا اصول یہ ہے : جتنا بڑا دل، اتنی بڑی کامیابی۔

شکایت اور حقوق طلبی میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی قابلیت میں اضافہ پر دھیان دیجیے ۔ آپ یقیناً کامیاب ہوں گے۔

Printed page