Al-Risala · May 2026

ایک قابلِ ذکر واقعہ

Al-Risala, May 2026, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا بلال احمد مدنی صاحب کا تعلق یوپی سے ہے۔ انھوں نے 31 مارچ 2026 کو الرساله آفس کے واٹس ایپ پر درج ذیل سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے :

” کبھی کبھی ایک چھوٹا سا حادثہ معاشرے میں ایک بڑے فساد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ، لیکن اگر اس نازک موڑ پر ردِ عمل (reaction) کے بجائے حکمت (wisdom) سے کام لیا جائے ، تو بھڑکتی ہوئی آگ کو نہ صرف ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے محبت کے گلزار میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک سبق آموز واقعہ 10 جنوری 2011 کی ایک رات کو بنارس کے ایک محلہ میں پیش اس وقت مولانا وحید الدین صاحب کی باتوں نے میری درست رہنمائی کی اور ایک فرقہ وارانہ فساد ٹل گیا۔

میں اپنے مکان کی تعمیر کے سلسلے میں رات کے وقت ملبہ ہٹوارہا تھا۔ اتفاقاً ملبہ لادنے والے ٹریکٹر نے پیچھے ہوتے وقت وہاں موجود ایک قدیم ” کالی جی مندر “ کی سیڑھی کو ٹکر مار دی ، جس سے مندر کی سیڑھی ٹوٹ گئی۔ حادثہ مذہبی نوعیت کا ہونے کی بنا پر انتہائی حساس تھا۔ ڈرائیور خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلا ، لیکن میں نے نہ فرار کی راہ اختیار کی اور نہ ہی معاملے کو چھپانے کی کوشش کی۔ میں نے سوچا کہ جب مندر آنے والے لوگ اس منظر کو دیکھیں گے تو وہ اسے ” مندر پر حملہ “ قرار دے کر فرقہ وارانہ رنگ دے سکتے ہیں۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ رات کو اسی جگہ ٹھہرنا رات کے تین بجے تقریباً دو سو افراد پر مشتمل نوجوانوں کا ایک ہجوم انتہائی اشتعال میں شور مچاتا ہوا وہاں پہنچا۔ میں اس مشتعل ہجوم کے سامنے اکیلے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا ، اور بڑے تحمل اور نرمی سے کہا : ” اس حادثے کا ذمہ دار میں ہوں۔ یہ گاڑی میرے کام کے لیے ہائر کی گئی تھی ، اس لیے یہ میری آپ جو چاہیں سزادیں ، میں حاضر ہوں ، اور اگر آپ موقع دیں تو میں صبح ہی اسے پہلے سے بہتر تعمیر کرا دوں گا۔ “ یہ غلطی کا اعتراف اور معذرت خواہانہ انداز ایک ” اخلاقی بم “ ثابت ہوا۔ سارا اشتعال ایک لمحے میں سرد پڑ گیا۔ مجمع میں سے ایک آواز آئی : ” ارے ! یہ تو مولانا بلال صاحب ہیں ، بہت بھلے اور سجن انسان ہیں۔ ہمیں لگا مندر پر حملہ ہوا ہے ، کوئی بات نہیں آپ اسے بنوا دیجیے

“ اور وہ مجمع جو خون بہانے آیا تھا، پرامن طریقے سے واپس لوٹ گیا۔ اگلے دن مولانا نے اس سیڑھی کی تعمیر پہلے سے بہتر طریقے سے کرا دی ۔

مولانا وحیدالدین خان صاحب اکثر فرماتے تھے کہ ”مسائل کے حل کی طاقت ٹکراؤ میں نہیں بلکہ اعتراف اور نرم روی میں ہے“۔ جب انسان اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے تو وہ دوسرے فریق کی انا (ego) ختم کر دیتا ہے ۔ سچے دل اور نرم انداز میں مانگی گئی معافی کسی بھی بڑے سے بڑے ہجوم کے اشتعال کو انسانی ہمدردی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ میرے ساتھ پیش آنے والا بنارس کا یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ہم اشتعال کے بجائے حکمت کا راستہ اختیار کریں، تو ہم نہ صرف بڑے نقصانات سے بچ سکتے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں انسانیت اور سچائی کے لیے احترام بھی پیدا کر سکتے ہیں ۔ ماہنامہ الرسالہ: صحابی رسول حبیب بن خماشہ کا قول ہے: مَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ (المعجم الاوسط للطبرانی، اثر نمبر 2258)_ یعنی جو شخص نادان کے چھوٹے شر کو برداشت نہ کرے، اس کو نادان کا بڑا شر برداشت کرنا پڑے گا ۔

مولانا وحید الدین خان صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر آپ فریق ثانی کی انا کو بھڑکانے کے بجائے ان کے ضمیر کو جگائیں تو وہ آپ کا دوست بن سکتا ہے ۔ نرمی اور سمجھداری انسانی ضمیر کو جگانے کا طریقہ ہے ۔ انسان کی انا میں نفرت اور غصے کے جذبات موجود ہوتے ہیں، لیکن وہ خوابیدہ (dormant ) ہوتے ہیں ۔ اس کو بیدار کرنا خود فریق ثانی کی طرف سے نہیں ہوتا، بلکہ اکثر ہماری طرف سے ہوتا ہے ۔ ہم چاہیں تو اس کو سویا ہوا رہنے دیں، یا رد عمل کا طریقہ اختیار کر کے اسے بھڑکا دیں اور اپنے لیے پہلے سے زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر لیں ۔

مولانا بلال مدنی صاحب نے نرمی کا طریقہ اختیار کر کے فریق ثانی کے ایگو کو بھڑکنے نہیں دیا، اور نتیجتاً ایک فرقہ وارانہ فساد ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ انھوں نے گویا فریق ثانی کے چھوٹے شرکو برداشت کیا، اس لیے انھیں بڑا شر برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی ۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی کشیدہ ہوں، آپ نرمی اور تواضع کا طریقہ اختیار کر کے اس کو نارمل کر سکتے ہیں، نفرت کے ماحول کو محبت اور امن کے ماحول میں تبدیل کر سکتے ہیں، اور یہ کوئی بزدلی نہیں، بلکہ سب سے بڑی بہادری ہے ۔

Printed page