رسول اللہ کا اُمّی ہونا
Al-Risala, July 2026, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبرِ اسلام ایک اُمّی رسول تھے۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ امی ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر حروف شناسی کا مادہ نہ تھا۔ حروف شناسی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ لکھ سکے، اور پیغمبرِ اسلام لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے، مگر آپ کا کلام بتاتا ہے کہ آپ اعلیٰ درجے کی عربی زبان بولنے پر قادر تھے۔
مثلا آپ کا ایک قول یہ ہے: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ الْجَنَّةِ، نَامَ طَالِبُهَا، وَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ، نَامَ هَارِبُهَا (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 1638)۔ یعنی، میں نے نہیں دیکھا جنت کے مثل کہ اس کا طالب سویا ہوا ہے، اور نہیں دیکھا جہنم کے مثل کہ اس سے بھاگنے والا سویا ہوا ہے۔ آپ کے اس قول میں فصاحت و بلاغت اعلیٰ درجے کی موجود ہے۔ اسی طرح آپ کی وہ تقریر جو آپ نے غزوہ حنین کے بعد کی تھی، عربی ادب کی تاریخ میں اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح کی مثالیں آپ کے کلام میں کثرت سے موجود ہیں۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ رسول اللہ کی حروف شناسی میں دورائے ہوسکتی ہے، لیکن جہاں تک عربی زبان کا معاملہ ہے، آپ کی زبان دانی ہر طرح کے شبہ سے بالا تر ہے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں، جب کہ ایک شخص لکھنے پڑھنے سے محروم ہونے کے باوجو د زبان دانی کی اعتبار سے باکمال حیثیت رکھتا ہو۔ اس کی ایک مثال انگریزی کا شاعر جان ملٹن ایک بیماری کے نتیجے میں اس کی بینائی مکمل طور پر چلی گئی تھی۔ اس وقت وہ 44 سال کا تھا۔ وہ لکھنے پڑھنے سے محروم ہو چکا تھا۔ لیکن اسی زمانے میں اس نے ایک طویل نظم لکھی تھی، جو فردوس گم شده (Paradise Lost) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ کتاب پوری کی پوری املا کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔ لیکن اسے انگریزی زبان میں ماسٹر پیس (masterpiece) سمجھا جاتا ہے۔ ایک مثال ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص جو لکھنے اور پڑھنے سے محروم ہونے کے باوجود زبان دانی میں اعلیٰ صلاحیت کا مالک ہو سکتا ہے۔
پیدائشی قوم، فکری گروہ قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالنَّصَارٰى وَالصَّابِئِيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی، بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اس آیت میں مختلف قومی گروہوں کو لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اگر پیدائشی تعلق کی بنا پر امت محمد یا امت موسیٰ سے وابستہ ہو گئے ہوں تو اس قسم کی پیدائشی وابستگی نجات کے لیے ہرگز کافی نہیں۔ آخرت کی نجات ذاتی دریافت (self discovery) کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ محض پیدائشی تعلق کی بنا پر۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ پیدائشی ایمان انسان کی نجات کے لیے ہرگز کافی نہیں۔ پیدائش اعتبار سے مسلم قوم کے اندر پیدا ہوا ہو تب بھی اس کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ ذاتی مطالعہ سے اپنے دین کو دوبارہ دریافت (rediscover) کرے۔ اللہ کے نزدیک دریافت کردہ ایمان کا اعتبار ہے، نہ کہ پیدائشی قومیت کے اعتبار سے ملا ہوا ایمان۔
دین وہی قابل اعتبار ہے جو پیغمبر کے زمانے میں براہِ راست پیغمبر سے کسب فیض کے ذریعہ آدمی کو حاصل ہوتا ہے۔ یعنی آدمی کے اندر تلاش کی اسپرٹ پیدا ہو، وہ اپنی زندگی پر نظر ثانی کرے، وہ غور و فکر کے ذریعہ ایک طرز زندگی کو چھوڑے، اور دوسری طرز زندگی کو اختیار کرے۔ وہ غور و تدبر کے ذریعہ پیدائش کی بنیاد پر ملے ہوئے دین کو خود دریافت کردہ دین بنائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اٰمَنُو (4:136)۔ یعنی، اے ایمان والو، ایمان لاؤ۔